قُلْ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى ٱللَّهِ ٱلْكَذِبَ لَا يُفْلِحُونَ ٦٩
Translations
Say, "Indeed, those who invent falsehood about Allāh will not succeed."
Dize: "Por certo, os que forjam mentiras, acerca de Allah, não são bem-aventurados"
言ってやれ。「本当にアッラー*に対して嘘を捏造する者たちは成功しない」。
آپ کہہ دیجئے کہ جو لوگ اللہ پر جھوٹ افترا کرتے ہیں[1] ، وه کامیاب نہ ہوں گے.[2]
[1] افترا کے معنی جھوٹی بات کہنے کے ہیں۔ اس کے بعد مزید "جھوٹ " کا اضافہ تاکید کے لئے۔ [2] اس سے واضح ہے کہ کامیابی سے مراد آخرت کی کامیابی یعنی اللہ کے غضب اور اس کے عذاب سے بچ جانا محض دنیا کی عارضی خوش حالی، کامیابی نہیں۔ جیسا کہ بہت سے لوگ کافروں کی عارضی خوشحالی سے مغالطے کا اور شکوک و شبہات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے اگلی آیت میں فرمایا: ”یہ دنیا میں تھوڑا سا عیش کرلیں پھر ہمارے ہی پاس ان کو آنا ہے“ یعنی یہ دنیا کا عیش، آخرت کے مقابلے میں نہایت قلیل اور تھوڑا سا ہے جو شمار میں نہیں۔ اس کے بعد انہیں عذاب شدید سے دوچار ہونا پڑے گا۔ اس لیے اس بات کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ کافروں، مشرکوں اور اللہ کے نافرمانوں کی دنیاوی خوشحالی اور مادی ترقیاں، یہ اس بات کی دلیل نہیں ہیں کہ یہ قومیں کامیاب ہیں اور اللہ تعالٰی ان سے خوش ہے۔ یہ مادی کامیابیاں ان کی جہد مسلسل کا ثمرہ ہیں جو اسباب ظاہر کے مطابق ہر اس قوم کو حاصل ہوسکتی ہیں۔ جو اسباب کو بروئے کار لاتے ہوئے ان کی طرح محنت کرے گی، چاہے وہ مومن ہو یا کافر۔ علاوہ ازیں یہ عارضی کامیابیاں اللہ کے قانون مہلت کا نتیجہ بھی ہوسکتی ہیں۔ جس کی وضاحت اس سے قبل بعض جگہ ہم پہے بھی کر چکے ہیں۔
Katakanlah, "Sesungguhnya orang-orang yang mengada-adakan kebohongan terhadap Allah tidak akan beruntung."
De ki: Allah hakkında yalan uyduranlar asla kurtuluşa eremezler.
Dis : « Ceux qui forgent des mensonges sur Allah sont voués à la perdition. »
69. Di: “Quienes atribuyen a Dios sus propias invenciones jamás alcanzarán la felicidad”.
بگو: «کسانی که به الله نسبت دروغ میدهند، هرگز رستگار نمیشوند».
Sag: Gewiß, denjenigen, die gegen Allah Lügen ersinnen, wird es nicht wohl ergehen.
你说:“假借安拉的名义而造谣的人是不会成功的。”