فَمَآ ءَامَنَ لِمُوسَىٰٓ إِلَّا ذُرِّيَّةٌۭ مِّن قَوْمِهِۦ عَلَىٰ خَوْفٍۢ مِّن فِرْعَوْنَ وَمَلَإِي۟هِمْ أَن يَفْتِنَهُمْ ۚ وَإِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍۢ فِى ٱلْأَرْضِ وَإِنَّهُۥ لَمِنَ ٱلْمُسْرِفِينَ ٨٣
Translations
But no one believed Moses, except [some] offspring [i.e., youths] among his people, for fear of Pharaoh and his establishment that they would persecute them. And indeed, Pharaoh was haughty within the land, and indeed, he was of the transgressors.
Então, ninguém creu em Moisés senão alguns descendentes de seu povo, por medo de que Faraó e seus dignitários os provassem. E, por certo, Faraó era altivo na terra e, por certo, era dos entregues a excessos.
そしてムーサーを信じたのは、その民の子孫だけだった。彼らは、フィルアウン*とその有力者たち[1]が、自分たちを試練にかけることを怖がっていたーー本当にフィルアウンは地上で驕り高ぶり、本当にまさしく、彼は度を越した者たちの類いであったーー。
[1] 「その民」「その有力者たち」いずいれも、「その」が「ムーサーの」あるいは「フィルアウンの」を指す、という異なる解釈がある(アル=バガウィー2:430参照)。
پس موسیٰ (علیہ السلام) پر ان کی قوم میں سے صرف قدرے قلیل آدمی ایمان ﻻئے [1] وه بھی فرعون سے اور اپنے حکام سے ڈرتے ڈرتے کہ کہیں ان کو تکلیف پہنچائے [2]اور واقع میں فرعون اس ملک میں زور رکھتا تھا، اور یہ بھی بات تھی کہ وه حد سے باہر ہو جاتا تھا.[3]
[1] قَوْمِهِ کے ”ہ“ ضمیر کے مرجع میں مفسرین کا اختلاف ہے، بعض نے اس کا مرجع حضرت موسیٰ (عليه السلام) کو قرار دیا ہے۔ کیونکہ آیت میں ضمیر سے پہلے انہی کا ذکر ہے یعنی فرعون کی قوم میں سے تھوڑے سے لوگ ایمان لائے، ان کی دلیل یہ ہے کہ بنی اسرائیل کے لوگ تو ایک رسول اور نجات دہندہ کے انتظار میں تھے جو حضرت موسیٰ (عليه السلام) کی صورت میں انہیں مل گئے اور اس اعتبار سے سارے بنی اسرائیل (سوائے قارون کے) ان پر ایمان رکھتے تھے۔ اس لئے صحیح بات یہی ہے کہ «ذُرِّيَّةٌ مِنْ قَوْمِهِ» سے مراد، فرعون کی قوم سے تھوڑے سے لوگ ہیں، جو حضرت موسیٰ (عليه السلام) پر ایمان لائے۔ انہیں میں سے اس کی بیوی (حضرت آسیہ) بھی ہیں۔ [2] قرآن کریم کی یہ صراحت بھی اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہ ایمان لانے والے تھوڑے سے لوگ فرعون کی قوم میں سے تھے، کیونکہ انہی کو فرعون اس کے درباریوں اور حکام سے تکلیف پہنچانے کا ڈر تھا۔ بنی اسرئیل، ویسے تو فرعون کی غلامی و محکومی کی ذلت ایک عرصے سے برداشت کر رہے تھے۔ لیکن موسیٰ (عليه السلام) پر ایمان لانے سے اس کا کوئی تعلق نہیں تھا، نہ انہیں اس وجہ سے مزید تکالیف کا اندیشہ تھا۔ [3] اور ایمان لانے والے اس کے اسی ظلم و ستم کی عادت سے خوف زدہ تھے۔
Maka tidak ada yang beriman kepada Musa, selain keturunan dari kaumnya dalam keadaan takut bahwa Fir'aun dan para pemuka (kaum)nya akan menyiksa mereka. Dan Sungguh, Fir'aun itu benar-benar telah berbuat sewenang-wenang di bumi, dan benar-benar termasuk orang yang melampaui batas.
Kavminden Mûsâ'ya ’ya çok az bir topluluğun dışında iman eden olmadı. Onlar Firavun ve kavminin kendilerini (dinlerinden) çevirmesinden korkuyorlardı. Çünkü Firavun, o yerde üstündü ve o aşırı gidenlerdendi.
Seule une partie des enfants de son peuple crut en la mission de Moïse, tout en redoutant les persécutions de Pharaon et de leurs notables. Pharaon était un tyran plein d’orgueil et porté aux excès.
83. No creyeron en Moisés sino unos pocos de su pueblo que temían que el Faraón y su nobleza los persiguieran. El Faraón era un tirano arrogante y transgresor en su propia tierra.
پس هیچ کس به موسی ایمان نیاورد، مگر گروهی از قومش، [آن هم] با ترسی [شدید] از فرعون و اطرافیانش که [مبادا] آنان را مورد [شکنجه] و آزار قرار دهند؛ و بیشک، فرعون در زمین سرکش [و جاهطلب] بود و به راستی که او از اسرافکاران [در کفر و جنایت] بود.
Aber es glaubten Musa nur junge Leute aus seinem Volk, trotz ihrer Furcht vor Fir’aun und ihrer führenden Schar, davor, daß er sie verfolgen würde. Fir’aun war ja überheblich im Land und gehörte wahrlich zu den Maßlosen.
归信穆萨的只有他本族的苗裔;他们害怕法老和他们本族头目们迫害他们。法老在地方上确是高傲的,确是过分的。