The Noble Qur’an Search the Qur’an by a word or a number like 2:282Ctrl K

فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ ءَامَنَتْ فَنَفَعَهَآ إِيمَٰنُهَآ إِلَّا قَوْمَ يُونُسَ لَمَّآ ءَامَنُوا۟ كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ ٱلْخِزْىِ فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا وَمَتَّعْنَٰهُمْ إِلَىٰ حِينٍۢ ٩٨

Sura Yunus, ayah 98Meccan
In its sura

Translations

English: Noor International Center1.1.2 · QuranEnc

Then has there not been a [single] city that believed so its faith benefited it except the people of Jonah? When they believed, We removed from them the punishment of disgrace in worldly life and gave them enjoyment [i.e., provision] for a time.

Portuguese: Helmi Nasr1.4.1 · QuranEnc

Então, que houvesse havido uma cidade que cresse, e havê-la-ia beneficiado sua fé! Mas não houve, exceto a do povo de Jonas que, quando creram, Nós lhes removemos o castigo da ignomínia, na vida terrena, e fizemo-los gozar, até certo tempo.

Japanese: Saeed Sato1.0.13 · QuranEnc

どうして町(の住民)は(、懲罰を目の当たりにする前に)信仰し、その信仰で自らを益しなかったのか?[1] 但しユーヌス*の民だけは別で、彼らが信仰した時(、懲罰はまさに下ろうとしていたが)、われら*は彼らから現世の生活における屈辱の懲罰を取り除いてやり、暫しの間、彼ら(の余命)を楽しませておいたのである。[2]

[1] この件(くだり)には、懲罰が下るまで信仰しなかった過去の不信仰の民*に対する非難と、懲罰が到来した時に信仰しても彼らは救われなかったのだという、否定の意味が含まれているという(イブン・ジュザイ1:388)。また当時のマッカ*の民に対する警告と、信仰への奨励(しょうれい)も多分含まれている(イブン・アーシュール11:289参照)。家畜章158とその訳注も参照。 [2] ユーヌス*はその民に懲罰の警告をして立ち去った(詳しくは預言者*たち章87、整列者章139-148とその訳注を参照)が、懲罰の兆候(ちょうこう)を目の当たりにした民は信仰に入り、必死になってアッラー*に救いを求めた。その結果、アッラー*は彼らにご慈悲をおかけになったのである(イブン・カスィール4:297参照)。

Urdu: Muhammad Junagarhi1.1.3 · QuranEnc

چنانچہ کوئی بستی ایمان نہ ﻻئی کہ ایمان ﻻنا اس کو نافع ہوتا سوائے یونس ﴿علیہ السلام﴾ کی قوم کے[1] ۔ جب وه ایمان لے آئے تو ہم نے رسوائی کے عذاب کو دنیوی زندگی میں ان پر سے ٹال دیا اور ان کو ایک وقت (خاص) تک کے لیے زندگی سے فائده اٹھانے (کا موقع) دیا.[2]

[1] لَوْلَا یہاں تحضیض کے لیے هَلاَّ کے معنی میں ہے یعنی جن بستیوں کو ہم نے ہلاک کیا، ان میں کوئی ایک بستی بھی ایسی کیوں نہ ہوئی جو ایسا ایمان لاتی جو اس کے لئے فائدہ مند ہوتا۔ ہاں صرف یونس (عليه السلام) کی قوم ایسی ہوئی ہے کہ جب وہ ایمان لے آئی تو اللہ نے ان سے عذاب دور کر دیا مختصر پس منظر یہ کہ یونس (عليه السلام) نے جب دیکھا کہ ان کی تبلیغ و دعوت سے ان کی قوم متاثر نہیں ہو رہی تو انہوں نے قوم میں اعلان کیا کہ فلاں فلاں دن تم پر عذاب آجائے گا اور وہ خود وہاں سے نکل گئے۔ جب عذاب بادل کی طرح ان پر امڈ آیا تو وہ بچوں عورتوں سمیت ایک میدان میں جمع ہوگئے اور اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں توبہ و استفغار شروع کر دیا۔ اللہ تعالٰی نے ان کی توبہ قبول فرما لی اور ان سے عذاب ٹال دیا۔ حضرت یونس (عليه السلام) آنے جانے والے مسافروں سے اپنی قوم کا حال معلوم کرتے رہتے تھے، انہیں جب معلوم ہوا کہ اللہ تعالٰی نے ان کی قوم سے عذاب ٹال دیا ہے، تو انہوں نے اپنی تکذیب کے بعد اس قوم میں جانا پسند نہیں کیا بلکہ ان سے ناراض ہو کر وہ کسی اور طرف روانہ ہوگئے، جس پر وہ کشتی کا واقعہ پیش آیا (جس کی تفصیل اپنے مقام پر آئے گی)۔ (فتح القدیر) البتہ مفسرین کے درمیان اس امر میں اختلاف ہے کہ قوم یونس ایمان کب لائی؟ عذاب دیکھ کر لائی، جب کہ ایمان لانا نافع نہیں ہوتا۔ لیکن اللہ تعالٰی نے اسے اپنے اس قانون سے مستثنی کر کے اس کے ایمان کو قبول کرلیا۔ یا ابھی عذاب نہیں آیا تھا یعنی وہ مرحلہ نہیں آیا تھا کہ جب ایمان نافع نہیں ہوتا۔ لیکن قرآن کریم قوم یونس کا الا کے ساتھ جو استثنا کیا ہے وہ پہلی تفسیر کی تائید کرتا ہے۔ واللهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔ [2] قرآن نے دنیوی عذاب کے دور کرنے کی صراحت تو کی ہے، اخروی عذاب کی بابت صراحت نہیں کی، اس لیے بعض مفسرین کے خیال میں اخروی عذاب ان سے ختم نہیں کیا گیا۔ لیکن جب قرآن نے یہ وضاحت کردی کہ دنیاوی عذاب، ایمان لانے کی وجہ سے ٹالا گیا تھا، تو پھر اخروی عذاب کی بابت صراحت کرنے کی ضرورت ہی نہیں رہ جاتی ہے۔ کیونکہ اخروی عذاب کا فیصلہ تو ایمان اور عدم ایمان کی بنیاد پر ہی ہونا ہے۔ اگر ایمان لانے کے بعد قوم یونس اپنے ایمان پر قائم رہی ہوگی، (جس کی صراحت یہاں نہیں ہے)تو یقینا وہ اخروی عذاب سے بھی محفوظ رہے گی۔ البتہ بصورت دیگر عذاب سے بچنا صرف دنیا ہی کی حد تک ہی ہوگا۔ واللہ اعلم

Indonesian: Ministry of Religious Affairs1.0.1 · QuranEnc

Maka mengapa tidak ada (penduduk) suatu negeri pun yang beriman, lalu imannya itu bermanfaat baginya selain kaum Yunus. Ketika mereka (kaum Yunus itu) beriman, Kami hilangkan dari mereka azab yang menghinakan dalam kehidupan dunia, dan Kami beri kesenangan kepada mereka sampai waktu tertentu.

Turkish: Rowwad Translation Center1.0.4 · QuranEnc

Yûnus’un kavminden başka, keşke (azabı görmeden) iman edip, imanı kendisine fayda veren bir tek memleket halkı olsaydı ya! Onlar iman edince, dünya hayatında onlardan zillet azabını gidermiş ve belirli bir süre daha geçindirmiştik.

French: Rachid Maach1.0.3 · QuranEnc

Si seulement une seule cité, parmi celles qui furent exterminées pour leur impiété, avait pu être sauvée par sa foi au moment où le châtiment allait l’emporter, comme le fut le peuple de Jonas auquel Nous avons épargné un châtiment humiliant lorsqu’il proclama sa foi, le laissant jouir quelque temps de la vie.

Spanish: Isa Garcia1.0.2 · QuranEnc

98. No hubo pueblo que al momento de azotarles el castigo, les haya beneficiado creer en ese instante, excepto el pueblo de Jonás[1]. Cuando creyeron los salvé del castigo humillante en esta vida y los dejé disfrutar algún tiempo más.

[1] El pueblo de Jonás, la paz sea con él, al ver el castigo inminente de Dios, se arrepintió sinceramente y creyó en el mensaje que les transmitía su Profeta.

Persian: Rowwad Translation Center1.1.3 · QuranEnc

هیچ شهرى نبود كه [اهلش هنگام مشاهده عذاب،] ایمان بیاورد و ایمانش به حال آن سود بخشد، مگر قوم یونس كه چون [به موقع] ایمان آوردند، عذابِ خواری [و رسوایی] در زندگىِ دنیا را از آنان برطرف نمودیم و آنان را تا مدتی [که زنده بودند از نعمت‌های دنیوی] برخوردار ساختیم.

German: Frank Bubenheim1.1.4 · QuranEnc

Wenn doch (irgend)eine Stadt geglaubt hätte, so daß ihr Glaube ihr genützt hätte! (Keine tat es), außer dem Volk des Yunus. Als diese glaubten, hoben Wir die schändliche Strafe im diesseitigen Leben von ihnen auf und gewährten ihnen Nießbrauch auf Zeit.

Chinese: Muhammad Makeen1.0.2 · QuranEnc

为何没有一个城市的居民信仰正教,因而获得信道的裨益呢?但优努斯的宗族,当他们信道的时候,我曾为他们解除了今世生活中凌辱的刑罚,并使他们暂时享受。