فَقَالَ ٱلْمَلَأُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِن قَوْمِهِۦ مَا نَرَىٰكَ إِلَّا بَشَرًۭا مِّثْلَنَا وَمَا نَرَىٰكَ ٱتَّبَعَكَ إِلَّا ٱلَّذِينَ هُمْ أَرَاذِلُنَا بَادِىَ ٱلرَّأْىِ وَمَا نَرَىٰ لَكُمْ عَلَيْنَا مِن فَضْلٍۭ بَلْ نَظُنُّكُمْ كَٰذِبِينَ ٢٧
Translations
So the eminent among those who disbelieved from his people said, "We do not see you but as a man like ourselves, and we do not see you followed except by those who are the lowest of us [and] at first suggestion.[558] And we do not see in you over us any merit; rather, we think you are liars."
[558] i.e., without any thought or hesitation.
Então, os dignitários que, dentre seu povo, renegavam a Fé disseram: "Não te vemos senão um mortal como nós, e não vemos seguir-te, impensadamente, senão os mais ignóbeis dos nossos, e não vemos, em vós, privilégio algum sobre nós. Aliás, pensamos que sois mentirosos."
すると彼の民の内の、不信仰だった有力者たちは言った。「私たちは、あなたが私たちと同様の人間としか思わないし、あなたに短絡的に[1]従ったのは、私たちの内でもまさに最底辺の者たちとしか思わない。また私たちに対して、あなた方に特に優れた点があるとも思えない。いや、私たちはあなた方が嘘つきだと確信しているのだ」。
[1] 「短絡的に」と訳した語は、「見せかけだけ」という解釈も可能(アル=クルトゥビー9:24参照)。
اس کی قوم کے کافروں کے سرداروں نے جواب دیا کہ ہم تو تجھے اپنے جیسا انسان ہی دیکھتے ہیں[1] اور تیرے تابعداروں کو بھی ہم دیکھتے ہیں کہ یہ لوگ واضح طور پر سوائے نیچ[2] لوگوں کے[3] اور کوئی نہیں جو بے سوچے سمجھے (تمہاری پیروی کر رہے ہیں)، ہم تو تمہاری کسی قسم کی برتری اپنے اوپر نہیں دیکھ رہے، بلکہ ہم تو تمہیں جھوٹا سمجھ رہے ہیں۔
[1] یہ وہی شبہ ہے، جس کی پہلے کئی جگہ وضاحت کی جا چکی ہے کہ کافروں کے نزدیک بشریت کے ساتھ نبوت و رسالت کا اجتماع بڑا عجیب تھا، جس طرح آج کے اہل بدعت کو بھی عجیب لگتا ہے اور وہ بشریت رسول (صلى الله عليه وسلم) کا انکار کرتے ہیں۔ [2] حق کی تاریخ میں یہ بات بھی ہر دور میں سامنے آتی رہی ہے کہ ابتداء میں اس کو اپنانے والے ہمیشہ وہ لوگ ہوتے ہیں جنہیں معاشرے میں بےنوا کم تر سمجھا جاتا تھا اور صاحب حیثیت اور خوش حال طبقہ اس سے محروم رہتا۔ حتی کہ پیغمبروں کے پیروکاروں کی علامت بن گئی۔ چنانچہ شاہ روم ہرقل نے حضرت ابو سفیان (رضي الله عنه) سے نبی (صلى الله عليه وسلم) کی بابت پوچھا تو اس میں ان سے ایک بات یہ بھی پوچھی کہ ”اس کے پیروکار معاشرے کے معزز سمجھے جانے والے لوگ ہیں یا کمزور لوگ“ حضرت ابو سفیان (رضي الله عنه) نے جواب میں کہا ”کمزور لوگ“ جس پر ہرقل نے کہا ”رسولوں کے پیروکار یہی لوگ ہوتے ہیں“۔ (صحیح بخاری حدیث نمبر 7) قرآن کریم میں بھی وضاحت کی گئی ہے کہ خوش حال طبقہ ہی سب سے پہلے پیغمبروں کی تکذیب کرتا رہا ہے۔ (سورہ زخرف: ۲۳) اور یہ اہل ایمان کی دنیاوی حیثیت تھی اور جس کے اعتبار سے اہل کفر انہیں حقیر اور کم تر سمجھتے تھے، ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ حق کے پیروکار معزز اور اشراف ہیں چاہے وہ مال و دولت کے اعتبار سے فروتر ہی ہوں اور حق کا انکار کرنے والے حقیر اور بےحیثیت ہیں چاہے وہ دنیوں اعتبار سے مال دار ہی ہوں۔ [3] اہل ایمان چونکہ، اللہ اور رسول کے احکام کے مقابلے میں اپنی عقل و دانش اور رائے کا استعمال نہیں کرتے، اس لئے اہل باطل یہ سمجھتے ہیں کہ یہ بےسوچ سمجھ والے ہیں کہ اللہ کا رسول انہیں جس طرف موڑ دیتا ہے، یہ مڑ جاتے ہیں جس چیز سے روک دیتا ہے، رک جاتے ہیں۔ یہ بھی اہل ایمان کی ایک بڑی بلکہ ایمان کا لازمی تقاضا ہے۔ لیکن اہل کفر و باطل کے نزدیک یہ خوبی بھی ”عیب“ ہے۔
Maka para pemuka yang kafir dari kaumnya berkata, "Kami tidak melihat engkau melainkan hanyalah seorang manusia (biasa) seperti kami, dan kami tidak melihat orang yang mengikuti engkau, melainkan orang yang hina dina di antara kami yang lekas percaya. Kami tidak melihat kalian memiliki suatu kelebihan apa pun atas kami, bahkan kami menganggap kalian adalah para pendusta."
Halkının ileri gelen kâfir takımı: "Biz, senin sadece bizim gibi bir insan olduğunu görüyoruz. Sana, görüşü olmayan, ayak takımından başka kimsenin tabi olduğunu da görmüyoruz. Sizin bizim üzerimize bir üstünlüğünüzü de görmüyoruz. Aksine sizin yalancılar olduğunuza inanıyoruz" dediler.
Les notables de son peuple, qui avaient rejeté la foi, dirent : « Tu n’es, de toute évidence, qu’un être humain comme nous, suivi uniquement par la lie du peuple qui a répondu sans réfléchir à ton appel. Vous n’êtes visiblement pas meilleurs que nous. Nous croyons, au contraire, que vous êtes des imposteurs. »
27. Los líderes de los que se negaron a creer de su pueblo, dijeron: “No eres más que un mortal como nosotros, y solo te siguen los pobres y débiles de nuestro pueblo sin ninguna reflexión. No los creemos mejores que nosotros, sino que los consideramos mentirosos”.
بزرگانی از قوم او که کفر ورزیده بودند، [در پاسخ] گفتند: «تو را جز بشری همانند خویش نمیبینیم و جز فرومایگان ما ـ [آن هم ندانسته و] نسنجیدهـ [کسی دیگر را] نمیبینیم که از تو پیروی کرده باشد؛ و برایتان [هیچ] برتریای بر خود نمیبینیم؛ بلکه شما را دروغگو میپنداریم».
Da sagte die führende Schar aus seinem Volk, die ungläubig war: Wir sehen in dir nur einen Menschen unseresgleichen. Und wir sehen, daß nur die dir folgen, die unsere Niedrigsten sind, und zwar ohne reifliche Überlegung. Und wir sehen bei euch keinen Vorzug gegenüber uns. Vielmehr meinen wir, daß ihr Lügner seid.
但他的宗族中不信道者的贵族说:“我们认为你只是像我们一样的一个凡人,我们认为只有我们中那些最卑贱的人们才轻率地顺从你,我们认为你们不比我们优越。我们甚至相信你们是说谎的。”