قَالَ لَوْ أَنَّ لِى بِكُمْ قُوَّةً أَوْ ءَاوِىٓ إِلَىٰ رُكْنٍۢ شَدِيدٍۢ ٨٠
Translations
He said, "If only I had against you some power or could take refuge in a strong support."
Disse: "Se eu tivesse força contra vós, ou se me abrigasse a sólido esteio, aniquilar-vos-ia"
彼(ルート*)は言った。「もし私に、あなた方に対する力があったなら。あるいは、力強い支持者に身を寄せることが出来たなら」。
لوط ﴿علیہ السلام﴾ نے کہا کاش کہ مجھ میں تم سے مقابلہ کرنے کی قوت ہوتی یا میں کسی زبردست کا آسرا پکڑ پاتا.[1]
[1] قوت سے اپنے دست بازو اور اپنے وسائل کی قوت یا اولاد کی قوت مراد ہے اور رکن شدید (مضبوط آسرا) سے خاندان، قبیلہ یا اسی قسم کا کوئی مضبوط سہارامراد ہے۔ یعنی نہایت بےبسی کے عالم میں آرزو کر رہے ہیں کہ کاش! میرے اپنے پاس کوئی قوت ہوتی یا کسی خاندان اور قبیلے کی پناہ اور مدد مجھے حاصل ہوتی تو آج مجھے مہمانوں کی وجہ سے یہ ذلت و رسوائی نہ ہوتی، میں ان بد قماشوں سے نمٹ لیتا اور مہمانوں کی حفاظت کر لیتا۔ حضرت لوط (عليه السلام) کی یہ آرزو اللہ تعالٰی پر توکل کے منافی نہیں ہے۔ بلکہ ظاہری اسباب کے مطابق ہے۔ اور توکل علی اللہ کا صحیح مفہوم و مطلب بھی یہی ہے۔ کہ پہلے تمام ظاہر اسباب و وسائل بروئے کار لائے جائیں اور پھر اللہ پر توکل کیا جائے۔ یہ توکل کا نہایت غلط مفہوم ہے کہ ہاتھ پیر توڑ کر بیٹھ جاؤ اور کہو کہ ہمارا بھروسہ اللہ پر ہے۔ اس لیے حضرت لوط (عليه السلام) نے جو کچھ کہا، ظاہر اسباب کے اعتبار سے بالکل بجا کہا۔ جس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ اللہ کا پیغمبر جس طرح عالم الغیب نہیں ہوتا اسی طرح مختار کل بھی نہیں ہوتا، (جیسا کہ آج کل لوگوں نے یہ عقیدہ گھڑ لیا ہے) اگر نبی دنیا میں اختیارات سے بہرہ ور ہوتے تو یقییناً حضرت لوط (عليه السلام) اپنی بےبسی کا اور اس آرزو کا اظہار نہ کرتے جو انہوں نے مذکورہ الفاظ میں کیا۔
Dia (Luṭ) berkata, "Sekiranya aku mempunyai kekuatan (untuk menolakmu) atau aku dapat berlindung kepada keluarga yang kuat (tentu aku lakukan)."
(Lût da:) “Keşke size karşı (koyacak) bir gücüm olsaydı, ya da sağlam bir desteğe dayanabilseydim” dedi.
Il dit : « Si seulement j’avais la force de vous résister ou si je disposais d’un puissant soutien. »
80. [Lot] exclamó: “¡Ojalá tuviera fuerzas [para enfrentarme] contra ustedes, o un apoyo fuerte al que recurrir!”
[لوط] گفت: «کاش در برابر شما قدرتی داشتم یا میتوانستم به تکیهگاهی استوار [همچون خانواده و قبیلهام] پناه ببرم».
Er sagte: Hätte ich doch Kraft (genug), um euch zu widerstehen, oder könnte ich nur bei einer starken Stütze Zuflucht finden!
他说:“但愿我有能力抵抗你们,或退避到一个坚强的支柱。”