وَجَآءَتْ سَيَّارَةٌۭ فَأَرْسَلُوا۟ وَارِدَهُمْ فَأَدْلَىٰ دَلْوَهُۥ ۖ قَالَ يَٰبُشْرَىٰ هَٰذَا غُلَٰمٌۭ ۚ وَأَسَرُّوهُ بِضَٰعَةًۭ ۚ وَٱللَّهُ عَلِيمٌۢ بِمَا يَعْمَلُونَ ١٩
Translations
And there came a company of travelers; then they sent their water drawer, and he let down his bucket. He said, "Good news! Here is a boy." And they concealed him, [taking him] as merchandise;[589] and Allāh was Knowing of what they did.
[589] To be sold as a slave.
E chegou um grupo de viandantes, e enviaram seu aguadeiro, e este fez descer o balde ao poço. Disse: "Oh! Alvíssaras! Eis um jovem!" E guardaram-no, secretamente, como mercadoria. E Allah, do que faziam, era Onisciente.
こうして(井戸に、旅行中の)通行人たち[1]がやって来た。彼らは水汲みの者を(井戸に)やり、彼はその水桶を(井戸の中に)垂らした。(そしてユースフ*をそれに掴まって井戸の外に出てくると、)彼は言った。「おお、吉報よ!これは(素晴らしい)男の子だ[2]」。彼らは彼のことを、商品として秘密にした[3]。アッラー*は彼らが(ユースフ*に対して)行うことを、ご存知のお方であられる。
[1] マドゥヤン*方面から、エジプトへと向かう旅行者たちであったという(アル=バガウィー2:481参照)。 [2] アーヤ*31の伝承にもある通り、ユースフ*は絶世の美男子だった(アル=クルトゥビー9:153参照)。 [3] 「商品」とは、奴隷*としての商品のこと。水汲みの者とその仲間たちは自分たちの分け前が減らぬよう、商人である他の旅行者たちに対し、ユースフ*のことは水の所有者から共同で買ったものだ、と主張したのだとされる(アッ=タバリー6:4484参照)。また一説には、ここでの「彼ら」はユースフ*の兄たちのこと。彼らは旅行者たちのもとにユースフ*を見つけ、「これは私たちのもとから逃げた奴隷*である」と主張し、売り払ったのだという(アル=バガウィー2:481参照)。
اور ایک قافلہ آیا اور انہوں نے اپنے پانی ﻻنے والے کو بھیجا اس نے اپنا ڈول لٹکا دیا، کہنے لگا واه واه خوشی کی بات ہے یہ تو ایک لڑکا ہے[1] ، انہوں نے اسے مال تجارت قرار دے کر چھپا دیا [2]اور اللہ تعالیٰ اس سے باخبر تھا جو وه کر رہے [3]تھے.
[1] وارد اس شخص کو کہتے ہیں جو قافلے کے لئے پانی وغیرہ انتظام کرنے کی غرض سے قافلے کے آگے آگے چلتا ہے تاکہ مناسب جگہ دیکھ کر قافلے کو ٹھیرایا جا سکے یہ وراد (جب کنویں پر آیا اور اپنا ڈول نیچے لٹکایا تو حضرت یوسف (عليه السلام) نے اس کی رسی پکڑ لی، وارد نے ایک خوش شکل بچہ دیکھا تو اسے اوپر کھنچ لیا اور بڑا خوش ہوا۔ [2] بِضَاعَةً سامان تجارت کو کہتے ہیں أَسَرُّوهُ کا فاعل کون ہے؟ یعنی یوسف کو سامان تجارت سمجھ کر چھپانے والا کون ہے؟ اس میں اختلاف ہے۔ حافظ ابن کثیر نے برادران یوسف (عليه السلام) کو فاعل قرار دیا ہے مطلب یہ ہے کہ جب ڈول کے ساتھ یوسف (عليه السلام) بھی کنویں سے باہر نکل آئے تو وہاں یہ بھائی بھی موجود تھے، تاہم انہوں نے اصل حقیقت کو چھپائے رکھا، یہ نہیں کہا کہ یہ ہمارا بھائی ہے اور حضرت یوسف (عليه السلام) نے بھی قتل کے اندیشے سے اپنا بھائی ہونا ظاہر نہیں کیا بلکہ بھائیوں نے انہیں فروختنی قرار دیا تو خاموش رہے اور اپنا فروخت ہونا پسند کر لایا۔ چنانچہ اس وارد نے اہل قافلہ کو یہ خوشخبری سنائی کہ ایک بچہ فروخت ہو رہا ہے۔ مگر یہ بات سیاق سے میل کھاتی نظر نہیں آتی۔ ان کے برخلاف امام شوکانی نے أَسَرُّوهُ کا فاعل وارد اور اس کے ساتھیوں کو قرار دیا ہے کہ انہوں نے یہ ظاہر نہیں کیا کہ یہ بچہ کنویں سے نکلا ہے کیونکہ اس طرح تمام اہل قافلہ اس سامان تجارت میں شریک ہو جاتے بلکہ اہل قافلہ کو انہوں نے جا کر یہ بتلایا کہ کنویں کے مالکوں نے یہ بچہ ان کے سپرد کیا ہے تاکہ اسے وہ مصر جا کر بیچ دیں۔ مگر اقرب ترین بات یہ ہے کہ اہل قافلہ نے بچے کو سامان تجارت قرار دے کر چھپا لیا کہ کہیں اس کے عزیز واقارب اس کی تلاش میں نہ آ پہنچیں۔ اور یوں لینے کے دینے پڑ جائیں کیونکہ بچہ ہونا اور کنویں میں پایا جانا اس بات کی علامت ہے کہ وہ کہیں قریب ہی کا رہنے والا ہے اور کھیلتے کودتے آ گرا ہے۔ [3] یعنی یوسف (عليه السلام) کے ساتھ یہ جو کچھ ہو رہا تھا، اللہ کو اس کا علم تھا۔ لیکن اللہ نے یہ سب کچھ اس لیے ہونے دیا کہ تقدیر الہی بروئے کار آئے۔ علاوہ ازیں اس میں رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) کے لیے اشارہ ہے یعنی اللہ تعالٰی اپنے پیغمبر کو بتلا رہا ہے کہ آپ کی قوم کے لوگ یقیناً ایذا پہنچا رہے ہیں اور میں انہیں اس سے روکنے پر قادر بھی ہوں۔ لیکن میں اسی طرح انہیں مہلت دے رہا ہوں جس طرح برادران یوسف (عليه السلام) کو مہت دی تھی۔ اور پھر بالآخر میں نے یوسف (عليه السلام) کو مصر کے تخت پر جا بٹھایا اور اس کے بھائیوں کو عاجز ولاچار کر کے اس کے دربار میں کھڑا کر دیا اے پیغمبر ایک وقت آئے گا کہ آپ بھی اسی طرح سرخرو ہوں گے اور سرداران قریش آپ کے اشارہ ابرو اور جنبش لب کے منتظر ہوں گے۔ چنانچہ فتح مکہ کے موقع پر یہ وقت جلد ہی آ پہنچا۔
Dan datanglah sekelompok musafir, mereka menyuruh seorang pengambil air. Lalu dia menurunkan timbanya. Dia berkata, "Oh, senangnya, ini ada seorang anak muda!" Kemudian mereka menyembunyikannya sebagai barang dagangan. Dan Allah Maha Mengetahui apa yang mereka kerjakan.
Bir kervan gelmiş, sucularını suya göndermişlerdi. Sucu kovasını kuyuya salınca; “Müjde! Müjde! İşte bir oğlan!” dedi. Onu alıp bir ticaret malı olarak sakladılar. Oysa Allah, onların yaptıklarını biliyordu.
Une caravane fit halte à proximité du puits et envoya un homme tirer de l’eau. Après avoir jeté son seau[12], l’homme dit : « Heureuse trouvaille ! Un jeune garçon ! » Ils dissimulèrent leur découverte, résolus à le vendre comme une vulgaire marchandise. Mais Allah savait parfaitement ce qu’ils faisaient.
[12] Auquel Joseph s’agrippa.
19. Cuando pasó una caravana [cerca del pozo], enviaron a uno de ellos a buscar agua. Éste echó el cubo y al subirlo [vio a José y] exclamó: “¡Buenas noticias! Aquí hay un muchacho”. Y lo ocultaron para venderlo; pero Dios bien sabía lo que hacían.
و کاروانی آمد و آنان آبآورِ خود را فرستادند؛ او دَلوش را [در چاه] انداخت [و چون یوسف را بالا کشید] گفت: «مژده دهید! این یک نوجوان است»؛ و [پس از نجاتش] او را همچون یک کالا[ی ارزشمند از دیگران] پنهان داشتند؛ و[لی] الله به آنچه میکردند آگاه بود.
Reisende kamen vorbei. Sie sandten ihren Wasserschöpfer, und er ließ seinen Eimer hinunter. Er sagte: O frohe Botschaft! Da ist ein Junge. Sie verbargen ihn als Ware. Und Allah wußte wohl, was sie taten.
旅客们来了,他们派人去汲水,他把水桶缒下井去,他说:“啊!好消息!这是一个少年。”他们秘密地把他当作货物,安拉是全知他们的行为的。