قُل لَّوْ أَنتُمْ تَمْلِكُونَ خَزَآئِنَ رَحْمَةِ رَبِّىٓ إِذًۭا لَّأَمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ ٱلْإِنفَاقِ ۚ وَكَانَ ٱلْإِنسَٰنُ قَتُورًۭا ١٠٠
Translations
Say [to them], "If you possessed the depositories of the mercy of my Lord, then you would withhold out of fear of spending." And ever has man been stingy.
Dize: "Se possuísseis os cofres da misericórdia de meu Senhor, nesse caso, haveríeis de retê-los, com receio de despendê-los. E avaro é o ser humano!"
(使徒*よ、)言ってやるがいい。「もし、あなた方が我が主*のご慈悲の宝庫[1]を所有していたとしても、出費(ゆえのお貧困)を恐れて出し惜しみしたであろう。人間とは元来、守銭奴なのだから」。
[1] 「ご慈悲の宝庫」とは、糧の宝庫、あるいは恩恵の宝庫のこと(アル=クルトゥビー10:335参照)。
کہہ دیجیئے کہ اگر بالفرض تم میرے رب کی رحمتوں کے خزانوں کے مالک بن جاتے تو تم اس وقت بھی اس کے خرچ ہوجانے[1] کے خوف سے اس کو روکے رکھتے اور انسان ہے ہی تنگ دل.
[1] خَشْيَةَ الإنْفَاقِ کا مطلب ہے۔ خَشْيَةَ أَنْ يُنْفِقُوا فَيَفْتَقِرُوا۔ اس خوف سے کہ خرچ کر کے ختم کر ڈالیں گے، اس کے بعد فقیر ہو جائیں گے۔ حالانکہ یہ خزانہ الٰہی جو ختم ہونے والا نہیں لیکن چونکہ انسان تنگ دل واقع ہوا ہے، اس لئے بخل سے کام لیتا ہے۔ دوسرے مقام پر اللہ تعالٰی نے فرمایا «اَمْ لَهُمْ نَصِيْبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَاِذًا لَّا يُؤْتُوْنَ النَّاسَ نَقِيْرًا» (النساء:53)۔ یعنی ان کو اگر اللہ کی بادشاہی میں سے کچھ حصہ مل جائے تو یہ لوگوں کو کچھ نہ دیں۔ نقیر کھجور کی گٹھلی میں جو گڑھا ہوتا ہے اس کو کہتے ہیں یعنی تل برابر بھی کسی کو نہ دیں یہ تو اللہ کی مہربانی اور اس کا فضل وکرم ہے کہ اس نے اپنے خزانوں کے منہ لوگوں کے لیے کھولے ہوئے ہیں جس طرح حدیث میں ہے اللہ کے ہاتھ بھرے ہوئے ہیں وہ رات دن خرچ کرتا ہے لیکن اس میں کوئی کمی نہیں آتی ذرا دیکھو تو سہی جب سے آسمان و زمین اس نے پیدا کیے ہیں کس قدر خرچ کیا ہوگا لیکن اس کے ہاتھ میں جو کچھ ہے اس میں کمی نہیں۔ ”وہ بھرے کے بھرے ہیں“۔ ( البخاري- كتاب التوحيد، باب وكان عرشه على الماء- مسلم، كتاب الزكاة، باب الحث على النفقة وتبشير المنفق بالخلف )۔
Katakanlah (Muhammad), "Sekiranya kamu menguasai perbendaharaan rahmat Tuhanku, niscaya (perbendaharaan) itu kamu tahan, karena takut membelanjakannya." Dan manusia itu memang sangat kikir.
De ki: "Eğer siz, Rabbimin rahmet hazinelerine sahip olsaydınız. O zaman tükenir korkusuyla muhakkak cimrilik ederdiniz." Zaten insan çok cimridir.
Dis : « Si les grâces infinies de mon Seigneur étaient à votre disposition, vous en seriez avares de peur de les voir s’épuiser. L’homme est porté à l’avarice. »
100. Diles: “Si tuvieran en sus manos las arcas de mi Señor, no las compartirían por temor a empobrecer. ¡Qué avaro es el ser humano!”
[ای پیامبر، به مشرکان] بگو: «اگر شما مالک گنجینههای [بخشش و] رحمتِ پروردگارم بودید، [باز هم] از بیم خرج کردن [و تنگدستی] از انفاق خوداری میکردید؛ و انسان همواره بخیل [و تنگنظر] است».
Sag: Wenn ihr über die Schatzkammern der Barmherzigkeit meines Herrn verfügtet, dann würdet ihr aus Furcht vor dem Ausgeben wahrlich zurückhaltend sein, denn der Mensch ist knauserig.
你说:“假若我的主的恩惠的库藏归你们管理,那么,你们必定因为怕开支而扣留他的恩惠。人是吝啬的。”