أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَىٰ رَبِّهِمُ ٱلْوَسِيلَةَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُۥ وَيَخَافُونَ عَذَابَهُۥٓ ۚ إِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُورًۭا ٥٧
Translations
Those whom they invoke[754] seek means of access to their Lord, [striving as to] which of them would be nearest, and they hope for His mercy and fear His punishment. Indeed, the punishment of your Lord is ever feared.
[754] Among the righteous of Allāh's creation, such as angels, prophets, deceased scholars, etc.
Esses[1] que eles invocam, buscam meios de aproximar-se de seu Senhor, cada qual ansiando estar mais próximo d'Ele, e esperam por Sua misericórdia e temem Seu castigo. Por certo, o castigo de teu Senhor é temível.
[1] Esses: os anjos e Jesus.
彼らが(アッラー*に並べて)祈っているそれらの者たち[1]は(彼ら自身が)、いずれの者が(主*に)一番近いか、と自分たちの主*へのお近づきを求め、そのご慈悲を望み、その懲罰を怖がる者たちなのである。本当にあなたの主*の懲罰はもとより、用心すべきものなのだ。
[1] 「それらの者たち」とは、預言者*、正しい者*、天使*たちなどのこと(前掲書、同頁参照)。
جنہیں یہ لوگ پکارتے ہیں خود وه اپنے رب کے تقرب کی جستجو میں رہتے ہیں کہ ان میں سے کون زیاده نزدیک ہوجائے وه خود اس کی رحمت کی امید رکھتے اور اس کے عذاب سے خوفزده رہتے ہیں[1] ، (بات بھی یہی ہے) کہ تیرے رب کا عذاب ڈرنے کی چیز ہی ہے.
[1] مذکورہ آیت میں ”مِنْ دُونِ اللهِ“ سے مراد فرشتوں اور بزرگوں کی وہ تصویریں اور مجسمے ہیں جن کی عبادت کرتے تھے، یا حضرت عزیر و مسیح علہما السلام ہیں جنہیں یہودی اور عیسائی ابن اللہ کہتے ہیں اور انہیں الوہی صفات کا حامل مانتے تھے، یا وہ جنات ہیں جو مسلمان ہوگئے تھے اور مشرکین ان کی عبادت کرتے تھے۔ اس لئے کہ اس آیت میں بتلایا جا رہا ہے کہ یہ تو خود اپنے رب کا قرب تلاش کرنے کی جستجو میں رہتے اور اس کی رحمت کی امید رکھتے اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں اور یہ صفت جمادات (پتھروں) میں نہیں ہو سکتی۔ اس آیت سے واضح ہو جاتا ہے کہ مِنْ دُونِ اللهِ (اللہ کے سوا جن کی عبات کی جاتی رہی ہے) وہ صرف پتھر کی مورتیاں ہی نہیں تھیں، بلکہ اللہ کے وہ بندے بھی تھے جن میں سے کچھ فرشتے، کچھ صالحین، کچھ انبیاء اور کچھ جنات تھے۔ اللہ تعالٰی نے سب کی بابت فرمایا کہ وہ کچھ نہیں کر سکتے، نہ کسی کی تکلیف دور کر سکتے ہیں نہ کسی کی حالت بدل سکتے ہیں ”اپنے رب کے تقرب کی جستجو میں رہتے ہیں“ کا مطلب اعمال صالحہ کے ذریعے سے اللہ کا قرب ڈھونڈتے ہیں۔ یہی الوسیلۃ ہے جسے قرآن نے بیان کیا ہے۔ وہ نہیں ہے جسے قبر پرست بیان کرتے ہیں کہ فوت شدہ اشخاص کے نام کی نذر نیاز دو، ان کی قبروں پر غلاف چڑھاؤ اور میلے ٹھیلے جماؤ اور ان سے استمداد و استغاثہ کرو ۔کیونکہ یہ وسیلہ نہیں یہ تو ان کی عبادت ہے جو شرک ہے۔ اللہ تعالٰی ہر مسلمان کو اس سے محفوظ رکھے۔
Orang-orang yang mereka seru itu, mereka sendiri mencari jalan kepada Tuhan,[477] siapa di antara mereka yang lebih dekat (kepada Allah). Mereka mengharapkan rahmat-Nya dan takut akan azab-Nya. Sungguh, azab Tuhanmu itu sesuatu yang (harus) ditakuti."
[477] Nabi Isa -'alaihissalām-, para malaikat dan Uzair yang mereka sembah itu menyeru dan mencari jalan mendekatkan diri kepada Allah.
Onların dua ettikleri de Rablerine daha yakın olmak için vesile ararlar. O’nun rahmetini dilerler, azabından korkarlar. Çünkü Rabbinin azabı, sakınılacak bir azaptır.
En réalité, ceux qu’ils implorent cherchent eux-mêmes, à qui mieux mieux, à se rapprocher de leur Seigneur, espérant Sa miséricorde et redoutant Son châtiment. Le châtiment de ton Seigneur est en effet redoutable.
57. [Aquellos] a los que ustedes invocan buscan el medio de acercarse más a su Señor, anhelan Su misericordia y temen Su castigo. ¡Porque el castigo de tu Señor es temible!
کسانی را که آنان [به یاری و دعا] میخوانند، خود [با عبادت و عمل صالح] وسیلهای [برای تقرّب] به پروردگارشان میجویند [و در رقابتند تا بدانند] كدامیک از آنان [به عبادت الله] نزدیکترند و به رحمتش امیدوارند و از عذابش میترسند؛ [چرا که] بیتردید، عذاب پروردگارت همواره شایستۀ پرهیز است.
Diejenigen, die sie anrufen, trachten nach einem Mittel zu ihrem Herrn (und wetteifern), wer von ihnen (Ihm) am nächsten sei, und hoffen auf Seine Barmherzigkeit und fürchten Seine Strafe. Gewiß, die Strafe deines Herrn ist furchtbar.
他们所称为神明者,自己求近主之阶。比他们更近于主者也求近主之阶,他们希望主的恩惠,畏惧主的刑罚。你的主的刑罚是应该防备的。