قَالَ هَٰذَا فِرَاقُ بَيْنِى وَبَيْنِكَ ۚ سَأُنَبِّئُكَ بِتَأْوِيلِ مَا لَمْ تَسْتَطِع عَّلَيْهِ صَبْرًا ٧٨
Translations
[Al-Khiḍr] said, "This is parting between me and you. I will inform you of the interpretation of that about which you could not have patience.
O outro disse: "Esta é a hora da separação entre mim e ti. Informar-te-ei da interpretação daquilo, com que não pudeste ter paciência."
彼(ハディル)は言った。「これが私とあなたの、別れ(の時)だ。あなたが我慢できなかったことの解釈を、あなたに語って聞かせよう。
اس نے کہا بس یہ جدائی ہے میرے اور تیرے درمیان[1] ، اب میں تجھے ان باتوں کی اصلیت بھی بتا دوں گا جس پر تجھ سے صبر نہ ہو سکا.[2]
[1] حضرت خضرنے کہا کہ موسیٰ (عليه السلام)، یہ تیسرا موقعہ ہے کہ تو صبر نہیں کر سکا اور اب خود تیرے کہنے کے مطابق میں تجھے ساتھ رکھنے سے معذور ہوں۔ [2] لیکن جدائی سے قبل حضرت خضر نے تینوں واقعات کی حقیقت سے انہیں آگاہ اور باخبر کرنا ضروری خیال کیا تاکہ موسیٰ (عليه السلام) کسی مغالطے کا شکار نہ رہیں اور وہ یہ سمجھ لیں کہ علم نبوت اور ہے، جس سے انہیں نوازا گیا ہے اور بعض اہم امور کا علم اور ہے جو اللہ کی حکمت ومشیت کے تحت، حضرت خضر کو دیا گیا ہے اور اسی کے مطابق انہوں نے ایسے کام کیے جو علم شریعت کی رو سے جائز نہیں تھے اور اسی لئے حضرت موسیٰ (عليه السلام) بجا طور پر ان پر خاموش نہیں رہ سکے تھے۔ انہی اہم امور کی انجام دہی کی وجہ سے بعض اہل علم کی رائے ہے کہ حضرت خضر انسانوں میں سے نہیں تھے اور اسی لئے وہ ان کی نبوت ورسالت یا دلائل کے بیچ میں نہیں پڑتے کیونکہ یہ سارے مناصب تو انسانوں کے ساتھ ہی خاص ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ فرشتہ تھے، لیکن اگر اللہ تعالٰی اپنے کسی نبی کو بعض اہم امور سے مطلع کر کے ان کے ذریعے سے کام کروا لے، تو اس میں بھی کوئی ناممکن بات نہیں ہے۔ جب وہ صاحب وحی خود اس امر کی وضاحت کر دے کہ میں نے یہ کام اللہ کے حکم سے ہی کئے ہیں تو گو بظاہر وہ خلاف شریعت ہی نظر آتے ہوں، لیکن جب ان کا تعلق ہی اہم امور سے ہے تو وہاں جواز اور عدم جواز کی حیثیت غیر ضروری ہے۔ جیسے تکوینی احکامات کے تھے کوئی بیمار ہوتا ہے، کوئی مرتا ہے، کسی کا کاروبار تباہ ہو جاتا ہے، قوموں پر عذاب آتا ہے، ان میں سے بعض کام بعض دفعہ بہ اذن الٰہی فرشتے ہی کرتے ہیں، تو جس طرح یہ امور آج تک کسی کو خلاف شریعت نظر نہیں آئے۔ اسی طرح حضرت خضر کے ذریعے سے و قوع پذیر ہونے والے واقعات کا تعلق بھی چوں کہ اہم امور سے ہے اس لئے انہیں شریعت کی ترازو میں تولنا ہی غیر صحیح ہے۔ البتہ اب وحی ونبوت کا سلسلہ ختم ہو جانے کے بعد کسی شخص کا اس قسم کا دعویٰ ہرگز صحیح اور قابل تسلیم نہیں ہوگا جیسا کہ حضرت خضر سے منقول ہے کیونکہ حضرت خضر کا معاملہ تو آیت قرآنی سے ثابت ہے، اس لئے مجال انکار نہیں۔ لیکن اب جو بھی اس قسم کا دعویٰ یا عمل کرے گا، اس کا انکار لازمی اور ضروری ہے کیونکہ اب وہ یقینی ذریعہ علم موجود نہیں ہے جس سے اس کے دعوے اور عمل کی حقیقت واضح ہو سکے۔
Dia berkata, "Inilah perpisahan antara aku dengan engkau; aku akan memberikan penjelasan kepadamu atas perbuatan yang engkau tidak mampu sabar terhadapnya.
İşte bu benimle senin aranda ayrılış (vaktidir). Şimdi sana sabredemediğin şeylerin açıklamasını haber vereceğim dedi.
L’homme dit : « Voici donc venu le moment de nous séparer. Mais je vais avant cela t’expliquer les actes que tu n’as pu t’empêcher de condamner.
78. Dijo: “Aquí nos separamos. Pero te informaré sobre la interpretación de aquello que no pudiste soportar con paciencia.
[خَضِر] گفت: «اینک زمان جدایی من و تو فرارسیده است. به زودی تو را از توضیح [و دلیل] آنچه که نتوانستی در برابرش شکیبایی کنی آگاه خواهم ساخت.
Er sagte: „Das ist die Trennung zwischen mir und dir. Ich werde dir jetzt die Deutung dessen kundtun, was du nicht aushalten konntest.
他说:“我和你从此作别了。你所不能忍受的那些事,我将告诉你其中的道理。