وَبَرًّۢا بِوَٰلِدَتِى وَلَمْ يَجْعَلْنِى جَبَّارًۭا شَقِيًّۭا ٣٢
Translations
And [made me] dutiful to my mother, and He has not made me a wretched tyrant.
"E me fará blandicioso para com minha mãe, e não me fará tirano, infeliz;"
そして(私を)母親に孝行する者とされ、尊大で不幸な者とはされませんでした。
اور اس نے مجھے اپنی والده کا خدمت گزار بنایا ہے[1] اور مجھے سرکش اور بدبخت نہیں کیا.[2]
[1] صرف والدہ کے ساتھ حسن سلوک کے ذکر سے بھی واضح ہے کہ حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کی ولادت بغیر باپ کے ایک اعجازی شان کی حامل ہے، ورنہ حضرت عیسیٰ علیہ لسلام بھی، حضرت یحیٰی (عليه السلام) کی طرح بَرًّا بِوَالِدَيْهِ (ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے والا) کہتے، یہ نہ کہتے کہ میں ماں کے ساتھ حسن سلوک کرنے والا ہوں۔ [2] اس کا مطلب یہ ہے کہ جو ماں باپ کا خدمت گزار اور اطاعت شعار نہیں ہوتا، اس کی فطرت میں سرکشی اور قسمت میں بد بختی لکھی ہے، حضرت عیسیٰ (عليه السلام) نے ساری گفتگو ماضی کے صیغوں میں کی ہے حالاں کہ ان تمام باتوں کا تعلق مستقبل سے تھا، کیونکہ ابھی تو وہ شیر خوار بچے ہی تھے۔ یہ اس لئے کہ یہ اللہ کی تقدیر کے اٹل فیصلے تھے کہ گو ابھی یہ معرض ظہور میں نہیں آئے تھے لیکن ان کا وقوع اس طرح یقینی تھا جس طرح کے گزرے ہوئے واقعات شک وشبہ سے بالا ہوتے ہیں۔
dan berbakti kepada ibuku, dan Dia tidak menjadikan aku seorang yang sombong lagi celaka.
“Beni anama saygılı kıldı. Beni azgın bir zorba kılmadı.”
Il a fait de moi un fils pieux envers sa mère, obéissant envers son Seigneur, humble à l’égard des hommes.
32. honrar a mi madre, y no ser arrogante ni insolente.
و نسبت به مادرم نیکوکار [گردانده] و مرا [در برابر پروردگارم] سرکش [و] نافرمان قرار نداده است.
und gütig gegen meine Mutter zu sein. Und Er hat mich weder gewalttätig noch unglücklich gemacht.
(他使我)孝敬我的母亲,他没有使我做霸道的、薄命的人。