يَٰٓأَبَتِ إِنِّىٓ أَخَافُ أَن يَمَسَّكَ عَذَابٌۭ مِّنَ ٱلرَّحْمَٰنِ فَتَكُونَ لِلشَّيْطَٰنِ وَلِيًّۭا ٤٥
Translations
O my father, indeed I fear that there will touch you a punishment from the Most Merciful so you would be to Satan a companion [in Hellfire]."
"Ó meu pai! Por certo, temo que um castigo dO Misericordioso te toque: então, tornar-te-ias aliado a Satã."
お父さん、本当に私は、慈悲あまねき*お方(アッラー*)からの罰があなたに及び、あなたがシャイターン*の同志となるのを怖れています」。
ابّا جان! مجھے خوف لگا ہوا کہ کہیں آپ پر کوئی عذاب الٰہی نہ آپڑے کہ آپ شیطان کے ساتھی بن جائیں.[1]
[1] اگر آپ اپنے شرک وکفر پر باقی رہے اور اسی حال میں آپ کو موت آ گئی، تو عذاب الٰہی سے آپ کو کوئی نہیں بچا سکے گا۔ یا دنیا میں ہی آپ عذاب کا شکار نہ ہو جائیں اور شیطان کے ساتھی بن کر ہمیشہ کے لئے راندہ بارگاہ الٰہی ہو جائیں۔ حضرت ابراہیم (عليه السلام) نے اپنے باپ کے ادب واحترام کے تقاضوں کو پوری طرح ملحوظ رکھتے ہوئے، نہایت شفقت اور پیار کے لہجے میں باپ کو توحید کا وعظ سنایا، لیکن توحید کا سبق کتنے ہی شریں اور نرم لہجے میں بیان کیا جائے، مشرک کے لئے ناقابل برداشت ہی ہوتا ہے۔ چنانچہ مشرک باپ نے اس نرمی اور پیار کے جواب میں نہایت درشتی اور تلخی کے ساتھ موحد بیٹے کو کہا اگر تو میرے معبودوں سے روگردانی کرنے سے باز نہ آیا تو میں تجھے سنگسار کردوں گا۔
Wahai ayahku! Sungguh aku khawatir engkau akan ditimpa azab dari Tuhan Yang Maha Pengasih, sehingga engkau menjadi teman bagi setan."
“Babacığım, doğrusu Rahman’ın azabı sana dokunur da şeytanın velisi olursun, diye korkarım.”
Père ! Je crains fort que tu ne sois châtié par le Tout Miséricordieux et ne subisses en Enfer le sort de Satan. »
45. ¡Oh, padre mío! Temo que te alcance un castigo del Compasivo y seas de los que acompañen al demonio [al Infierno]”.
پدر جان، من میترسم که از [جانب الله] رحمان عذابی به تو رسد و [در دوزخ] از دوستان [و همنشینانِ] شیطان باشی».
O mein lieber Vater, ich fürchte, daß dir Strafe vom Allerbarmer widerfährt, so daß du zu einem Gefolgsmann des Satans wirst.
我的父亲啊!我的确怕你遭受从至仁主发出的刑罚,而变成恶魔的朋友。”