ٱلَّذِينَ ءَاتَيْنَٰهُمُ ٱلْكِتَٰبَ يَتْلُونَهُۥ حَقَّ تِلَاوَتِهِۦٓ أُو۟لَٰٓئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِۦ ۗ وَمَن يَكْفُرْ بِهِۦ فَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْخَٰسِرُونَ ١٢١
Translations
Those to whom We have given the Book recite it with its true recital.[39] They [are the ones who] believe in it. And whoever disbelieves in it - it is they who are the losers.
[39] i.e., applying its teachings to their lives.
Aqueles, a quem concedemos o Livro, recitam-no, como deve ser recitado[1]. Esses crêem nele. E os que o renegam, esses são os perdedores.
[1] Alusão aos judeus e cristãos, que se aprofundaram no estudo de seus livros sagrados.
われら*が啓典を授け、それを真の読誦で読む[1]者たち[2]、そのような者たちが、彼[3]を信じるのだ。そして誰でも彼を否定する者、それらの者たちこそは損失者である。
[1] ここで「読誦/読む」と訳した語「ティラーワ/タラー」には、「行為によって服従する/従う」という意味もある。アッ=ラーズィー*によれば、ここではいずれの意味も含まれる(2:30参照)。 [2] 自分たちの啓典を正しく読み、それにいかなる変更も施(ほどこ)さず、そこに記されていること‐預言者*ムハンマド*を含む全使徒*・預言者*を信仰する義務など‐に従う、啓典の民*のこととされる(ムヤッサル19頁参照)。 [3] この「彼」は、預言者*ムハンマド*、及び彼に下された啓典いずれも指すとされる(前掲書、同頁参照)。
جنہیں ہم نے کتاب دی ہے[1] اور وه اسے پڑھنے کے حق کے ساتھ پڑھتے ہیں[2]، وه اس کتاب پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور جو اس کے ساتھ کفر کرے وه نقصان واﻻ ہے۔[3]
[1] اہل کتاب کے ناخلف لوگوں کے مذموم اخلاق وکردار کی ضروری تفصیل کے بعد ان میں جو لوگ کچھ صالح اور اچھے کردار کے تھے، اس آیت میں ان کی خوبیاں، اور ان کے مومن ہونے کی خبر دی جارہی ہے۔ ان میں عبداللہ بن سلام (رضي الله عنه) اور ان جیسے دیگر افراد ہیں، جن کو یہودیوں میں سے قبول اسلام کی توفیق حاصل ہوئی۔ [2] (وہ اس طرح پڑھتے ہیں، جس طرح پڑھنے کا حق ہے)۔ کے کئی مطلب بیان کئے گئے ہیں۔ مثلاً خوب توجہ اور غور سے پڑھتے ہیں۔ جنت کا ذکر آتا ہے تو جنت کا سوال کرتے اور جہنم کا ذکر آتا ہے تو اس سے پناہ مانگتے ہیں۔ اس کے حلال کو حلال، حرام کو حرام سمجھتے اور کلام الٰہی میں تحریف نہیں کرتے (جیسے دوسرے یہودی کرتے تھے)۔ اس میں جو کچھ تحریر ہے، لوگوں کو بتلاتے ہیں، اس کی کوئی بات چھپاتے نہیں۔ اس کی محکم باتوں پر عمل کرتے، متشابہات پر ایمان رکھتے اور جو باتیں سمجھ میں نہیں آتیں، انہیں علما سے حل کراتے ہیں اس کی ایک ایک بات کا اتباع کرتے ہیں (فتح القدیر) واقعہ یہ ہے کہ حق تلاوت میں یہ سارے ہی مفہوم داخل ہیں اور ہدایت ایسے ہی لوگوں کے حصے میں آتی ہے جو مذکورہ باتوں کا اہتمام کرتے ہیں۔ [3] اہل کتاب میں سے جو نبی (صلى الله عليه وسلم) کی رسالت پر ایمان نہیں لائے گا، وہ جہنم میں جائے گا۔ كَمَا فِي الصَّحِيحِ (ابن کثیر)
Orang-orang yang telah Kami beri Kitab, mereka membacanya sebagaimana mestinya, mereka itulah yang beriman kepadanya. Dan siapa yang ingkar kepadanya, mereka itulah orang-orang yang rugi.
Kendilerine kitap verdiğimiz kimseler, onu hakkıyla okurlar. İşte bunlar ona iman eden kimselerdir. Onu inkâr edenlere gelince, işte onlar hüsrana uğrayanların ta kendileridir.
Ne croient vraiment aux Ecritures que Nous leur avons confiées que ceux qui en suivent scrupuleusement les enseignements. Quant à ceux qui les renient, voilà ceux qui sont perdus.
121. Aquellos a quienes he confiado el Libro, si fueran consecuentes con la versión original del mismo[1], habrían creído [en el Corán]. Pero quienes lo nieguen, ellos serán los perdedores.
[1] Poniendo en práctica sus preceptos y enseñanzas.
کسانی که کتاب آسمانی [= تورات و انجیل] به آنها دادهایم [و] آن را چنان که شایسته است میخوانند، به [مطالبِ] آن [که دربارۀ حقانیت محمد ﷺ و رسالتش است] ایمان میآورند؛ و کسانی که به او [و آیینش] کافر شوند آنانند که زیانکارند.
Diejenigen, denen Wir die Schrift gegeben haben, lesen sie, wie es ihr zusteht; sie glauben daran. Wer sie jedoch verleugnet, das sind die Verlierer.
蒙我赏赐经典而且切实地加以遵守者,是信那经典的。不信经典者,是亏折的。