ٱللَّهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَيَمُدُّهُمْ فِى طُغْيَٰنِهِمْ يَعْمَهُونَ ١٥
Translations
[But] Allāh mocks them and prolongs them in their transgression [while] they wander blindly.
Allah zombará deles e lhes estenderá sua transgressão, continuando eles às cegas
アッラー*が彼らを愚弄されるのだ[1]。そしてかれは、彼らが彷徨うままに、彼らの放埓さに更なる拍車をおかけになる。
[1] アッラー*は彼らの愚弄に対し、罰でお報いになる。彼らへの「罰という応報」が、その原因である「愚弄」という罪の名そのもので表されているのは、アラビア語でよく用いられる修辞的表現(アル=クルトゥビー1:207参照)。
اللہ تعالیٰ بھی ان سے مذاق کرتا ہے[1] اور انہیں ان کی سرکشی اور بہکاوے میں اور بڑھا دیتا ہے۔
[1] ”اللہ تعالیٰ بھی ان سے مذاق کرتا ہے“ کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ وہ جس طرح مسلمانوں کے ساتھ استہزا واستخفاف کا معاملہ کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ بھی ان سے ایسا ہی معاملہ کرتے ہوئے انہیں ذلت وادبار میں مبتلا کرتا ہے۔ اس کو استہزا سے تعبیر کرنا، زبان کا اسلوب ہے، ورنہ حقیقتاً یہ استہزا نہیں ہے، ان کے فعل استہزا کی سزا ہے جیسے «وَجَزَٰٓؤُاْ سَيِّئَةٖ سَيِّئَةٞ مِّثۡلُهَا» (الشورى- 40) ”برائی کا بدلہ، اسی کی مثل برائی ہے“ میں برائی کے بدلے کو برائی کہا گیا ہے حالانکہ وہ برائی نہیں ہے ایک جائز فعل ہے۔ اسی طرح «يُخَادِعُونَ اللَّهَ وَهُوَ خَادِعُهُمْ»، «وَمَكَرُوا وَمَكَرَ اللَّهُ» وغیرہ آیات میں ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ قیامت والے دن اللہ تعالیٰ بھی ان سے استہزا فرمائے گا۔ جیسا کہ سورۂ حدید کی آیت «يَوْمَ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ» الآية میں وضاحت ہے۔
Allah akan memperolok-olokkan mereka dan membiarkan mereka terombang-ambing dalam kesesatan.
Allah da onlarla alay eder ve onları taşkınlıkları içinde şaşkın bir halde bırakır.
Allah répondra à leurs moqueries et les laissera s’enfoncer dans l’impiété aveuglément.
15. [Pero] Dios les infligirá un castigo correspondiente a sus burlas y dejará que permanezcan extraviados, en su ceguera.
الله آنان را مسخره مىكند و مهلتشان میدهد [تا] در طُغیانشان سرگشته بمانند.
Allah ist es, Der Sich über sie lustig macht. Und Er läßt sie in ihrer Auflehnung umherirren.
安拉将用他们的愚弄还报他们,将任随他们彷徨于悖逆之中。