The Noble Qur’an Search the Qur’an by a word or a number like 2:282Ctrl K

لَآ إِكْرَاهَ فِى ٱلدِّينِ ۖ قَد تَّبَيَّنَ ٱلرُّشْدُ مِنَ ٱلْغَىِّ ۚ فَمَن يَكْفُرْ بِٱلطَّٰغُوتِ وَيُؤْمِنۢ بِٱللَّهِ فَقَدِ ٱسْتَمْسَكَ بِٱلْعُرْوَةِ ٱلْوُثْقَىٰ لَا ٱنفِصَامَ لَهَا ۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ٢٥٦

Sura Al-Baqara, ayah 256Medinan
In its sura

Translations

English: Noor International Center1.1.2 · QuranEnc

There shall be no compulsion in [acceptance of] the religion. The right course has become distinct from the wrong. So whoever disbelieves in ṭāghūt[104] and believes in Allāh has grasped the most trustworthy handhold with no break in it. And Allāh is Hearing and Knowing.

[104] False objects of worship, such as idols, heavenly bodies, spirits, human beings, etc.

Portuguese: Helmi Nasr1.4.1 · QuranEnc

Não há compulsão na religião! Com efeito, distingue-se a retidão da depravação. Então, quem renega os ídolos[1] e crê em Allah, com efeito, ater-se-á a firme alça irrompível. E Allah é Oniouvinte, Onisciente.

[1] At-Taghut: aqui, designa tanto Satanás quanto ao ídolo ou qualquer outra cousa maléfica.

Japanese: Saeed Sato1.0.13 · QuranEnc

(この)宗教に強制はない[1]。実に正しさは、誤りから明確に分け隔てられたのだから。それで、ターグート*を否定してアッラー*を信仰する者は誰でも、決して外れることのない堅固な取っ手を確かに握り締めたのである。アッラー*は、よくお聴きになるお方、全知者であられる。

[1] イスラーム*は、その完全性、そしてそれを示す根拠の明白さゆえ、強制される必要がない、ということ(ムヤッサル42頁参照)。

Urdu: Muhammad Junagarhi1.1.3 · QuranEnc

دین کے بارے میں کوئی زبردستی نہیں، ہدایت ضلالت سے روشن ہوچکی ہے[1] ، اس لئے جو شخص اللہ تعالیٰ کے سوا دوسرے معبودوں کا انکار کرکے اللہ تعالیٰ پر ایمان ﻻئے اس نے مضبوط کڑے کو تھام لیا، جو کبھی نہ ٹوٹے گا اور اللہ تعالیٰ سننے واﻻ، جاننے واﻻ ہے۔

[1] اس کی شان نزول میں بتایا گیا ہے کہ انصار کے کچھ نوجوان یہودی یا عیسائی ہوگئے تھے، پھر جب یہ انصار مسلمان ہو گئے تو انہوں نے اپنی نوجوان اولاد کو بھی جو یہودی یا عیسائی بن چکے تھے، زبردستی مسلمان بنانا چاہا ، جس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ شان نزول کے اس اعتبار سے بعض مفسرین نے اسے اہل کتاب کے لئے خاص مانا ہے یعنی مسلمان مملکت میں رہنے والے اہل کتاب، اگر وہ جزیہ ادا کرتے ہوں، تو انہیں قبول اسلام پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔ لیکن یہ آیت حکم کے اعتبار سے عام ہے، یعنی کسی پر بھی قبول اسلام کے لئے جبر نہیں کیا جائے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور گمراہی دونوں کو واضح کردیا ہے۔ تاہم کفر وشرک کے خاتمے اور باطل کا زور توڑنے کے لئے جہاد ایک الگ اور جبرواکراہ سے مختلف چیز ہے۔ مقصد معاشرے سے اس قوت کا زور اور دباؤ ختم کرنا ہے جو اللہ کے دین پر عمل اور اس کی تبلیغ کی راہ میں روڑہ بنی ہوئی ہو۔ تاکہ ہر شخص اپنی آزاد مرضی سے چاہے تو اپنے کفر پر قائم رہے اور چاہے تو اسلام میں داخل ہوجائے۔ چونکہ روڑہ بننے والی طاقتیں رہ رہ کر ابھرتی رہیں گی اس لئے جہاد کا حکم اور اس کی ضرورت بھی قیامت تک رہے گی، جیسا کہ حدیث میں ہے«الجِهَادُ مَاضٍ إِلَى يَوْمِ القِيَامَةِ»، ”جہاد قیامت تک جاری رہے گا“، خود نبی (صلى الله عليه وسلم) نے کافروں اور مشرکوں سے جہاد کیا ہے اور فرمایا ہے۔«أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ»، الحديث- (صحيح بخاري- كتاب الإيمان ، باب فإن تابوا وأقاموا الصلاة) ”مجھے حکم دیا گیا ہے میں لوگوں سے اس وقت تک جہاد کروں جب تک کہ وہ لا الٰہ الا اللہ اور محمد رسول اللہ کا اقرار نہ کرلیں“۔ اسی طرح سزائے ارتداد (قتل) سے بھی اس آیت کا کوئی ٹکراؤ نہیں ہے (جیسا کہ بعض لوگ ایسا باور کراتے ہیں)۔ کیونکہ ارتداد کی سزا۔ قتل۔ سے مقصود جبرواکراہ نہیں ہے بلکہ اسلامی ریاست کی نظریاتی حیثیت کا تحفظ ہے۔ ایک اسلامی مملکت میں ایک کافر کو اپنے کفر پر قائم رہ جانے کی اجازت تو بےشک دی جاسکتی ہے لیکن ایک بار جب وہ اسلام میں داخل ہوجائے تو پھر اس سے بغاوت وانحراف کی اجازت نہیں دی جاسکتی لہذا وہ خوب سوچ کر اسلام لائے۔ کیونکہ اگر یہ اجازت دے دی جاتی تو نظریاتی اساس منہدم ہوسکتی تھی جس سے نظریاتی انتشار اور فکری انارکی پھیلتی جو اسلامی معاشرے کے امن کو اور ملک کے استحکام کو خطرے میں ڈال سکتی تھی۔ اس لئے جس طرح انسانی حقوق کے نام پر، قتل، چوری ، زنا، ڈاکہ اور حرابہ وغیرہ جرائم کی اجازت نہیں دی جاسکتی، اسی طرح آزادی رائے کے نام پر ایک اسلامی مملکت میں نظریاتی بغاوت (ارتداد) کی اجازت بھی نہیں دی جاسکتی۔ یہ جبر واکراہ نہیں ہے۔ بلکہ مرتد کا قتل اسی طرح عین انصاف ہے جس طرح قتل وغارت گری اور اخلاقی جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو سخت سزائیں دینا عین انصاف ہے۔ ایک کا مقصدملک کا نظریاتی تحفظ ہے اور دوسرے کا مقصد ملک کو شروفساد سے بچانا ہے اور دونوں ہی مقصد، ایک مملکت کے لئے ناگزیر ہیں۔ آج اکثر اسلامی ممالک ان دونوں ہی مقاصد کو نظرانداز کرکے جن الجھنوں، دشواریوں اور پریشانیوں سے دوچار ہیں، محتاج وضاحت نہیں۔

Indonesian: Ministry of Religious Affairs1.0.1 · QuranEnc

Tidak ada paksaan dalam (menganut) agama (Islam), sesungguhnya telah jelas (perbedaan) antara jalan yang benar dengan jalan yang sesat. Barang siapa ingkar kepada Tagut[97] dan beriman kepada Allah, maka sungguh, dia telah berpegang (teguh) pada tali yang sangat kuat yang tidak akan putus. Allah Maha Mendengar, Maha Mengetahui.

[97] Setan dan apa saja yang disembah selain Allah -Subḥānahu wata'ālā-.

Turkish: Rowwad Translation Center1.0.4 · QuranEnc

Dinde zorlama yoktur. Hak yol, bâtıl yoldan ayrılmıştır. Kim tâğûtu inkâr eder, Allah'a iman ederse, kopması mümkün olmayan en sağlam kulpa tutunmuş olur. Allah, hakkıyla işiten ve hakkıyla bilendir.

French: Rachid Maach1.0.3 · QuranEnc

Nul ne doit être contraint à embrasser la foi. Le droit chemin s’est en effet clairement distingué de la voie de l’égarement. Quiconque renie les fausses divinités[159] et croit en Allah seul aura donc saisi la corde la plus solide, celle qui ne saurait se rompre[160]. Allah entend tout et sait tout.

[159] Ou : Satan, qui incite les hommes à vouer un culte aux fausses divinités. [160] Il a donc sauvé son âme en s’attachant fermement à la vraie religion.

Spanish: Isa Garcia1.0.2 · QuranEnc

256. No se puede forzar a nadie a creer en la religión: la verdad es claramente distinguible de la falsedad[1]. Quien rechace las falsas divinidades y crea en Dios, se habrá aferrado al asidero más firme [el Islam], que es irrompible. Dios todo lo oye, todo lo sabe.

[1] No es aceptable la coacción en las creencias religiosas. El Corán prohíbe la conversión forzada, así como cualquier obstáculo a la libertad religiosa.

Persian: Rowwad Translation Center1.1.3 · QuranEnc

در [پذیرش] دین، هیچ اجباری نیست؛ به راستی که راه راست [و هدایت] از راه انحراف [و گمراهی] روشن شده است؛ پس هر ‌کس به طاغوت [= هر آنچه به جای الله عبادت می‌شود] کفر بورزد و به الله ایمان بیاورد، قطعاً به محكم‌ترین دستاویز چنگ زده است كه هرگز نخواهد گسست؛ و الله شنواى داناست.

German: Frank Bubenheim1.1.4 · QuranEnc

Es gibt keinen Zwang im Glauben. (Der Weg der) Besonnenheit ist nunmehr klar unterschieden von (dem der) Verirrung. Wer also falsche Götter verleugnet, jedoch an Allah glaubt, der hält sich an der festesten Handhabe, bei der es kein Zerreißen gibt. Und Allah ist Allhörend und Allwissend.

Chinese: Muhammad Makeen1.0.2 · QuranEnc

对于宗教,绝无强迫;因为正邪确已分明了。谁不信塔吾特而信安拉,谁确已把握住坚实的、绝不断折的把柄。安拉是全聪的,是全知的。