إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَٱلَّذِينَ هَادُوا۟ وَٱلنَّصَٰرَىٰ وَٱلصَّٰبِـِٔينَ مَنْ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ وَعَمِلَ صَٰلِحًۭا فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ٦٢
Translations
Indeed, those who believed and those who were Jews or Christians or Sabeans [before Prophet Muḥammad (ﷺ)] - those [among them] who believed in Allāh and the Last Day and did righteousness - will have their reward with their Lord, and no fear will there be concerning them, nor will they grieve[29].
[29] After the coming of Prophet Muḥammad (ﷺ) no religion other than Islām is acceptable to Allāh, as stated in 3:85.
Por certo, os crentes[1] e os que praticam o judaísmo e os cristãos e os sabeus, qualquer dentre eles que creu em Allah e no Derradeiro Dia e fez o bem terá seu prêmio junto de seu Senhor; e nada haverá que temer por eles, e eles não se entristecerão.
[1] Ou seja, os moslimes. Os sabeus: ṣābi'īn, plural de ṣābi', o que deixa uma religião por outra. Trata-se de um grupo de idólatras árabes, muito anteriores ao islão, os quais, não aceitando mais o politeísmo de seus antepassados, buscaram outra crença que lhes fosse mais adequada, até chegarem a certa concepção monoteísta da religião abraâmica. E afastaram-se da religião vigente, na comunidade em que viviam. Daí sua denominação: sabeus, os desviados da religião comum. Esta interpretação prevalece sobre a de que eram adoradores das estrelas.
本当に、信仰する者たち、ユダヤ教徒*である者たち、キリスト教徒*たち、サービア教徒*たちで、アッラー*と最後の日*を信じて正しい行い*を行う者、彼らには、その主*の御許に褒美がある[1]。そして彼らには怖れもなければ、悲しむこともない[2]。
[1] 「信仰する者たち」であるムスリム*、ユダヤ教徒*、キリスト教徒*、サービア教徒*の内、アッラー*を正しく誠実に信仰し、復活と清算の日を信じ、アッラー*がお喜びになる行いに励む者の褒美(ほうび)は、アッラー*の御許で確かなものとなる。そして最後の預言者*ムハンマド*が全人類に遣(つか)わされた後、アッラー*がイスラーム*以外の宗教をお受け入れになることはない(ムヤッサル10頁参照)。 [2] 「怖れもなければ、悲しむこともない」については、アーヤ*38の訳注を参照。
مسلمان ہوں، یہودی[1] ہوں، نصاریٰ[2] ہوں یا صابی[3] ہوں، جو کوئی بھی اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ﻻئے اور نیک عمل کرے ان کے اجر ان کے رب کے پاس ہیں اور ان پر نہ تو کوئی خوف ہے اور نہ اداسی[4]
[1] يَهُود هَوَادَةٌ (بمعنی محبت) سے یا تَهَوّدٌ (بمعنی توبہ) سے بنا ہے۔ گویا ان کا یہ نام اصل میں توبہ کرنے یا ایک دوسرے کے ساتھ محبت رکھنے کی وجہ سے پڑا۔ تاہم موسیٰ (عليه السلام) کے ماننے والوں کو یہود کہا جاتا ہے۔ [2] نَصَارَى، نَصْرَانٌ کی جمع ہے۔ جیسے سُكَارَى سَكْرَانُ کی جمع ہے۔ اس کا مادہ نصرت ہے۔ آپس میں ایک دوسرے کی مدد کرنے کی وجہ سے ان کا نام پڑا، ان کو انصار بھی کہا جاتا ہے جیسا کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کو کہا تھا: «نَحْنُ أَنْصَارُ اللَّهِ» حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کے پیروکاروں کو نصاریٰ کہا جاتا ہے، جن کو عیسائی بھی کہتے ہیں۔ [3] صَابِئِينَ صَابِئٌ کی جمع ہے۔ یہ لوگ وہ ہیں جو یقیناً ابتداءً کسی دین حق کے پیرو رہے ہوں گے (اسی لئے قرآن میں یہودیت و عیسائیت کے ساتھ ان کا ذکر کیا گیا ہے) لیکن بعد میں ان کے اندر فرشتہ پرستی اور ستارہ پرستی آگئی، یا یہ کسی بھی دین کے پیرو نہ رہے۔ اسی لئے لا مذہب لوگوں کو صابی کہا جانے لگا۔ [4] بعض جدید مفسرین کو اس آیت کا مفہوم سمجھنے میں بڑی غلطی لگی ہے اور اس سے انہوں نے وحدت ادیان کا فلسفہ کشید کرنے کی مذموم سعی کی ہے۔ یعنی رسالت محمدیہ پر ایمان لانا ضروری نہیں ہے، بلکہ جو بھی جس دین کو مانتا ہے اور اس کے مطابق ایمان رکھتا اور اچھے عمل کرتا ہے، اس کی نجات ہوجائے گی، یہ فلسفہ سخت گمراہ کن ہے، آیت کی صحیح تفسیر یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے سابقہ آیات میں یہود کی بدعلمیوں اور سرکشیوں اور اس کی بنا پر ان کے مستحق عذاب ہونے کا تذکرہ فرمایا تو ذہن میں اشکال پیدا ہوسکتا تھا کہ ان یہود میں جو لوگ صحیح، کتاب الٰہی کے پیرو اور اپنے پیغمبر کی ہدایات کے مطابق زندگی گزارنے والے تھے، ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے کیا معاملہ فرمایا؟ یا کیا معاملہ فرمائے گا؟ اللہ تعالیٰ نے اس کی وضاحت فرمادی کہ صرف یہودی ہی نہیں، نصاریٰ اور صابی بھی اپنے اپنے وقت میں جنہوں نے اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھا اور عمل صالح کرتے رہے، وہ سب نجات اخروی سے ہمکنار ہوں گے اور اسی طرح اب رسالت محمدیہ پر ایمان لانے والے مسلمان بھی اگر صحیح طریقے سے ایمان باللہ والیوم الآخر اور عمل صالح کا اہتمام کریں تو یہ بھی یقیناً آخرت کی ابدی نعمتوں کے مستحق قرار پائیں گے۔ نجات اخروی میں کسی کے ساتھ امتیاز نہیں کیا جائے گا۔ وہاں بےلاگ فیصلہ ہوگا۔ چاہے مسلمان ہوں یا رسول آخرالزمان (صلى الله عليه وسلم) سے پہلے گزر جانے والے یہودی، عیسائی اور صابی وغیرھم۔ اس کی تائید بعض مرسل آثار سے ہوتی ہے، مثلاً مجاہد حضرت سلمان فارسی! سے نقل کرتے ہیں جس میں وہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی (صلى الله عليه وسلم) سے ان اہل دین کے بارے میں پوچھا جو میرے ساتھی تھے، عبادت گزار اور نمازی تھے (یعنی رسالت محمدیہ سے قبل وہ اپنے دین کے پابند تھے) تو اس موقعے پر یہ آیت نازل ہوئی۔ «إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَادُوا»۔ الآیۃ (ابن کثیر) قرآن کریم کے دوسرے مقامات سے اس کی مزید تائید ہوتی ہے مثلاً «إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الإِسْلامُ» (آل عمران: 19) اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہی ہے۔ «وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الإِسْلامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ» (آل عمران: 85) جواسلام کے سوا کسی اور دین کا متلاشی ہوگا، وہ ہرگز مقبول نہیں ہوگا اور احادیث میں بھی نبی (صلى الله عليه وسلم) نے وضاحت فرمادی کہ اب میری رسالت پر ایمان لائے بغیر کسی شخص کی نجات نہیں ہوسکتی، مثلاً فرمایا: «والَّذِي نَفْسِي بِيَدِه! لا يَسْمَعُ بِي رَجَلٌ مِنْ هَذِهِ الأُمَّةِ يَهُودِيٌّ وَّلا نَصْرَانِيٌّ ثُمّ لا يُؤْمِنُ بِي إِلا دَخَل النَّارَ» (صحيح مسلم ، كتاب الإيمان ، باب وجوب الإيمان برسالة نبينا محمد (صلى الله عليه وسلم) ) ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میری اس امت میں جو شخص بھی میری بابت سن لے، وہ یہودی ہو یا عیسائی، پھر وہ مجھ پر ایمان نہ لائے تو وہ جہنم میں جائے گا۔“ اس کا مطلب یہ ہے کہ وحدت ادیان کی گمراہی، جہاں دیگر آیات قرآنی کو نظرانداز کرنے کا نتیجہ ہے، وہاں احادیث کے بغیر قرآن کو سمجھنے کی مذموم سعی کا بھی اس میں بہت دخل ہے۔ اسی لئے یہ کہنا بالکل صحیح ہے کہ احادیث صحیحہ کے بغیر قرآن کو نہیں سمجھا جاسکتا۔
Sesungguhnya orang-orang yang beriman, orang-orang Yahudi, orang-orang Nasrani dan orang-orang ṣābiīn,[31] siapa saja (diantara mereka) yang beriman kepada Allah dan hari akhir, dan melakukan kebajikan, mereka mendapat pahala dari Tuhannya, tidak ada rasa takut pada mereka, dan mereka tidak bersedih hati.
[31] Ṣābiīn ialah umat sebelum Nabi Muhammad -ṣallallāhu 'alaihi wa sallam- yang mengetahui adanya Tuhan Yang Maha Esa, dan mempercayai adanya pengaruh bintang-bintang.
Şüphesiz iman edenler, Yahudiler, Hristiyanlar ve Sâbiîlerden kim Allah’a ve ahiret gününe iman eder ve salih amel işlerse; onlara Rableri katında mükâfatlar vardır. Onlara bir korku yoktur, üzülmeyeceklerdir.
Les croyants[31], les juifs, les chrétiens, les sabéens[32], tous ceux qui auront cru en Allah et au Jour dernier, et accompli de bonnes actions, obtiendront leur récompense auprès de leur Seigneur et seront préservés de toute crainte et de toute affliction[33].
[31] Les musulmans, seuls véritables croyants après l’avènement de l’islam. [32] Nombre d’exégètes présentent ces sabéens comme des hommes restés attachés à leurs croyances naturelles, sans suivre de religion particulière. D’autres les décrivent comme une secte chrétienne (le Grand Robert parle de christianisme mêlé d’astrolâtrie) ou juive. Il pourrait également s’agir des mandéens. [33] Allah dit : « La seule religion acceptée par Allah est l’islam. » (3, 19) Par conséquent, après l’avènement de l’islam, les adeptes des autres religions ne peuvent être sauvés que s’ils croient en la mission du dernier des Messagers, Mouhammad, et en celle de tous les prophètes qui l’ont précédé.
62. Quienes creyeron, los judíos, los cristianos y los sabeos[1], que hayan tenido fe en Dios, en el Día del Juicio Final y hayan obrado correctamente, obtendrán su recompensa junto a su Señor, y no habrán de sentir temor ni tristeza[2].
[1] Los sabeos son monoteístas que vivieron antes de los primeros judíos y cristianos, o los monoteístas que no seguían una religión en particular. [2] Hasta antes de la llegada del último Profeta, ya que luego de la venida de Mujámmad r Dios no aceptará otra religión que el Islam, como se menciona en el Corán (3:85).
در حقیقت، کسانی که [به رسالت محمد ﷺ] ایمان آورده و نیز کسانی [از امتهای پیشین، قبل از بعثت محمد ﷺ از] یهود و نصاری و صابئان [= پیروان برخی پیامبران]؛ هر کس [از آنان] به الله و روز قیامت ایمان آورند و کارهای شایسته انجام دهند، پاداش آنان نزد پروردگارشان است؛ نه ترسی خواهند داشت و نه اندوهگین میشوند.
Gewiß, diejenigen, die glauben, und diejenigen, die dem Judentum angehören, und die Christen und die Säbier - wer immer an Allah und den Jüngsten Tag glaubt und rechtschaffen handelt, - die haben ihren Lohn bei ihrem Herrn, und keine Furcht soll sie überkommen, noch werden sie traurig sein.
信道者、犹太教徒、基督教徒、萨比安人,凡归信了安拉和末日,并且行善的,将来在主那里必得享受自己的报酬,他们将来没有恐惧,也不忧愁。