خَتَمَ ٱللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ وَعَلَىٰ سَمْعِهِمْ ۖ وَعَلَىٰٓ أَبْصَٰرِهِمْ غِشَٰوَةٌۭ ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌۭ ٧
Translations
Allāh has set a seal upon their hearts and upon their hearing, and over their vision is a veil.[12] And for them is a great punishment.
[12] A covering preventing them from discerning guidance. This condition is a direct result of their arrogance and persistence in sin.
Allah selou-lhes[1] os corações e o ouvido e, sobre suas vistas, há névoa. E terão formidável castigo
[1] Deus selou-lhes os corações e os ouvidos, porque optaram pela idolatria quando se extraviaram.
アッラー*は彼らの心と聴覚を塞がれたのであり、彼らの視覚には覆いがかけられている[1]。そして彼らには、厳しい懲罰があるのだ。
[1] 彼らはシャイターン*に従ったために彼に制圧され、それゆえにアッラー*は彼らの心と聴覚をふさがれ、彼らの視覚を覆われた。それで彼らは導きを目にすることも、それに耳を傾けることも、それを理解することもない(イブン・カスィール1:174参照)。アーヤ*18、家畜章50、雷鳴章16、フード*章20とそれらの訳注も参照。
اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر مہر کر دی ہے اور ان کی آنکھوں پر پرده ہے اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے۔[1]
[1] یہ ان کے عدم ایمان کی وجہ بیان کی گئی ہے کہ چونکہ کفرومعصیت کے مسلسل ارتکاب کی وجہ سے ان کے دلوں سے قبول حق کی استعداد ختم ہوچکی ہے، ان کے کان حق بات سننے کے لئے آمادہ نہیں اور ان کی نگاہیں کائنات میں پھیلی ہوئی رب کی نشانیاں دیکھنے سے محروم ہیں تو اب وہ ایمان کس طرح لاسکتے ہیں؟ ایمان تو ان ہی لوگوں کے حصے میں آتا ہے، جو اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی صلاحیتوں کا صحیح استعمال کرتے اور ان سے معرفت کردگار حاصل کرتے ہیں۔ اس کے برعکس لوگ تو اس حدیث کا مصداق ہیں جس میں بیان کیا گیا ہے کہ مومن جب گناہ کر بیٹھتا ہے تو اس کے دل میں سیاہ نقطہ پڑ جاتا ہے، اگر وہ توبہ کرکے گناہ سے باز آجاتا ہے تو اس کا دل پہلے کی طرح صاف شفاف ہوجاتا ہے اور اگر وہ توبہ کی بجائے گناہ پر گناہ کرتا جاتا ہے تو وہ نقطہ سیاہ پھیل کر اس کے پورے دل پر چھا جاتا ہے۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا: ”یہی وہ زنگ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے «كَلَّاۖ بَلۡۜ رَانَ عَلَىٰ قُلُوبِهِم مَّا كَانُواْ يَكۡسِبُونَ» (المطففين: 14) یعنی ”ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ان کے دلوں پر زنگ چڑھ گیا ہے۔“ (ترمذی، تفسیر سورۂ مطففین) اسی کیفیت کو قرآن نے ”ختم“ (مہر لگ جانے) سے تعبیر فرمایا ہے، جو ان کی مسلسل بداعمالیوں کا منطقی نتیجہ ہے۔
Allah telah mengunci hati dan pendengaran mereka,[9] penglihatan mereka telah tertutup, dan mereka akan mendapat azab yang berat.
[9] Sehingga nasihat atau hidayah tersebut tidak bisa masuk ke dalam hati mereka.
Allah, onların kalplerini ve kulaklarını mühürlemiştir, gözlerinde de perde vardır. Onlar için büyük bir azap vardır.
Allah, en effet, a apposé un sceau sur leurs cœurs[10] et leur ouïe[11], tandis qu’un voile leur recouvre la vue. Ils sont donc voués à d’affreux tourments.
[10] Qui sont donc fermés à la foi. [11] Ils sont donc sourds à la vérité.
7. Dios ha sellado sus corazones y sus oídos. Sobre sus ojos hay un velo y recibirán un castigo terrible [en el Infierno].
[چون] الله بر دلها و گوشهایشان مُهر [غفلت] زده و بر چشمهایشان پردهای است و عذاب بزرگی [در پیش] دارند.
Allah hat ihre Herzen und ihr Gehör versiegelt, über ihrem Augenlicht befindet sich eine Hülle. Für sie wird es gewaltige Strafe geben.
安拉已封闭了他们的心和耳,他们的眼上有翳膜;他们将受重大的刑罚。