إِلَّا مَن تَابَ وَءَامَنَ وَعَمِلَ عَمَلًۭا صَٰلِحًۭا فَأُو۟لَٰٓئِكَ يُبَدِّلُ ٱللَّهُ سَيِّـَٔاتِهِمْ حَسَنَٰتٍۢ ۗ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورًۭا رَّحِيمًۭا ٧٠
Translations
Except for those who repent, believe and do righteous work. For them Allāh will replace their evil deeds with good. And ever is Allāh Forgiving and Merciful.
Exceto quem se volta arrependido e crê e faz o bem; então, a esses, Allah trocar-lhes-á as más obras em boas obras. E Allah é Perdoador, Misericordiador,
但し、悔悟し、信仰し、正しい行い*を行う者、それらの者たちはアッラー*がその悪行を善行に換えて下さる。アッラー*はもとより、赦し深いお方、慈愛深い*お方なのだから。
سوائے ان لوگوں کے جو توبہ کریں اور ایمان ﻻئیں اور نیک کام کریں[1] ، ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ تعالیٰ نیکیوں سے بدل دیتا ہے[2]، اللہ بخشنے واﻻ مہربانی کرنے واﻻ ہے.
[1] اس سے معلوم ہوا کہ دنیا میں خالص توبہ سے ہر گناہ معاف ہوسکتا ہے، چاہے وہ کتنا ہی بڑا ہو۔ اور سورۂ نساء کی آیت 93 میں جو مومن کے قتل کی سزا جہنم بتلائی گئی ہے، تو وہ اس صورت پر محمول ہوگی، جب قاتل نے توبہ نہ کی ہو اور بغیر توبہ کیے ہی فوت ہوگیا ہو۔ ورنہ حدیث میں آتا ہے کہ سو آدمی کے قاتل نےبھی خالص توبہ کی تو اللہ تعالیٰ نے اسے معاف فرمادیا۔ (صحيح مسلم، كتاب التوبة)۔ [2] اس کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کا حال تبدیل فرمادیتا ہے، اسلام قبول کرنے سے پہلے وہ برائیاں کرتا تھا، اب نیکیاں کرتا ہے، پہلے شرک کرتا تھا، اب صرف الہٰ واحد کی عبادت کرتا ہے، پہلےکافروں کےساتھ مل کرمسلمانوں سے لڑتاتھا، اب مسلمانوں کی طرف سے کافروں سے لڑتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ دوسرے معنی ہیں کہ اس کی برائیوں کو نیکیوں میں بدل دیا جاتا ہے۔ اس کی تائید حدیث سے بھی ہوتی ہے۔ رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا ”میں اس شخص کو جانتا ہوں، جو سب سے آخر میں جنت میں داخل ہونے والا اور سب سے آخر میں جہنم سے نکلنے والا ہوگا۔ یہ وہ آدمی ہوگا کہ قیامت کےدن اس پر اس کے چھوٹے چھوٹے گناہ پیش کیے جائیں گے، بڑے گناہ ایک طرف رکھ دیئے جائیں گے۔ اس کو کہا جائے گا کہ تو نے فلاں فلاں دن فلاں فلاں کام کیا تھا؟ وہ اثبات میں جواب دے گا، انکار کی اسے طاقت نہ ہوگی، علاوہ ازیں اس بات سے بھی ڈر رہا ہوگا کہ ابھی تو بڑے گناہ بھی پیش کیے جائیں گے۔ کہ اتنے میں اس سے کہا جائے گا کہ جا، تیرے لیے ہر برائی کے بدلے ایک نیکی ہے۔ اللہ کی یہ مہربانی دیکھ کر وہ کہے گا، کہ ابھی تو میرے بہت سےاعمال ایسے ہیں کہ میں انہیں یہاں نہیں دیکھ رہا، یہ بیان کرکے رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) ہنس پڑے، یہاں تک کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) کےدانت ظاہر ہوگئے“ (صحيح مسلم كتاب الإيمان ، باب أدنى أهل الجنة منزلة فيها)۔
kecuali orang-orang yang bertobat dan beriman dan mengerjakan kebajikan; maka kejahatan mereka diganti Allah dengan kebaikan. Allah Maha Pengampun, Maha Penyayang.
Ancak tevbe edip iman eden ve salih amel işleyenler, Allah bunların günahlarını sevaba/iyiliğe çevirir. Allah, çok bağışlayan ve çok merhamet edendir.
A l’exception de ceux qui se repentent, retournent à la foi et accomplissent de bonnes œuvres, dont Allah remplacera les péchés par de bonnes actions. Allah est Très Clément et Très Miséricordieux.
70. salvo quienes se arrepientan, crean y hagan obras de bien. A estos Dios les perdonará sus pecados, y en su lugar les registrará buenas obras. Dios es Absolvedor, Misericordioso.
مگر کسی که توبه کند و ایمان آورد و کاری شایسته انجام دهد؛ اینانند که الله بدیهایشان را به نیکیها تبدیل میکند و الله همواره آمرزگاری مهربان است.
außer demjenigen, der bereut, glaubt und rechtschaffene Werke tut; jenen wird Allah ihre bösen Taten gegen gute eintauschen; und Allah ist stets Allvergebend und Barmherzig.
惟悔过而且信道并行善者,安拉将勾销其罪行,而录取其善功。安拉是至赦的,是至慈的。