كَذَٰلِكَ وَأَوْرَثْنَٰهَا بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ ٥٩
Translations
Thus. And We caused to inherit it the Children of Israel.
Assim foi. E fizemos que os filhos de Israel os herdassem.
(彼らの出征は、)そのような次第であった。そしてわれら*はそれら[1]を、イスラーイールの子ら*に受け継がせたのだ。[2]
[1] 「それら」とは、アーヤ*57-58で言及されているようなもの(アル=クルトゥビー13:105参照)。 [2] 高壁章137、物語章5-6も参照。
اسی طرح ہوا اور ہم نےان (تمام) چیزوں کا وارث بنی اسرائیل کو بنا دیا.[1]
[1] یعنی جو اقتدار اوربادشاہت فرعون کو حاصل تھی، وہ اس سے چھین کر ہم نےبنی اسرائیل کو عطا کردی۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد مصر جیسا اقتدار اور دنیوی جاہ و جلال ہم نے بنی اسرائیل کو بھی عطاکیا۔ کیوں کہ بنی اسرائیل، مصر سے نکل جانے کے بعد مصر واپس نہیں آئے۔ نیز سورۂ دخان میں فرمایا گیا ہے«وَأَوْرَثْنَاهَا قَوْمًا آخَرِينَ» کہ ”ہم نے اس کا وارث کسی دوسری قوم کو بنایا“ (ایسر التفاسیر) اول الذکر اہل علم کہتے ہیں کہ قوما آخرين میں قوم کا لفظ اگرچہ عام ہے لیکن یہاں سورۂ شعراء میں جب بنی اسرائیل کو وارث بنانےکی صراحت آگئی ہے، تو اس سے مراد بھی قوم بنی اسرائیل ہی ہوگی۔ مگر خود قرآن کی صراحت کے مطابق مصر سے نکلنے کے بعد بنو اسرائیل کو ارض مقدس میں داخل ہونےکا حکم دیا گیا۔ اور ان کےانکار پر چالیس سال کے لیے یہ داخلہ موخر کرکے میدان تیہ میں بھٹکایا گیا۔ پھر وہ ارض مقدس میں داخل ہوئے چنانچہ حضرت موسیٰ (عليه السلام) کی قبر، حدیث اسراء کے مطابق بیت المقدس کے قریب ہی ہے۔ اس لیے صحیح معنی یہی ہے کہ جیسی نعمتیں آل فرعون کو مصر میں حاصل تھیں، ویسی ہی نعمتیں اب بنو اسرائیل کو عطا کی گئیں۔ لیکن مصر میں نہیں بلکہ فلسطین میں، وَاللهُ أَعْلَمُ۔
Demikianlah, dan Kami anugerahkan semuanya (itu) kepada Bani Israil.[588]
[588] Allah akan memberikan kepada Bani Israil kerajaan yang kuat, kerasulan dan sebagainya.
İşte böyle yaptık ve onlara İsrailoğulları'nı mirasçı kıldık.
Il en fut ainsi. Nous en avons fait hériter les fils d’Israël[4].
[4] Auxquels Nous avons accordé jardins, sources, richesses et demeures en Palestine après l’Exode.
59. Hice que los Hijos de Israel lo heredaran.
اینچنین [کردیم] و بنیاسرائیل را وارث آن [ثروت و داراییِ] نمودیم.
So war es. Und Wir gaben sie den Kindern lsra’ils zum Erbe.
(事情)就是这样的。我使以色列的后裔继承它,