قُل لَّا يَعْلَمُ مَن فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ٱلْغَيْبَ إِلَّا ٱللَّهُ ۚ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ ٦٥
Translations
Say, "None in the heavens and earth knows the unseen except Allāh, and they do not perceive when they will be resurrected."
Dize: "Ninguém daqueles que estão nos céus e na terra conhece ao Invisível, exceto Allah." E eles[1] não percebem quando serão ressuscitados.
[1] Eles: OS idólatras de Makkah.
(使徒*よ、)言ってやれ。「諸天と大地にあるいかなるものも、不可視の世界*を知らない。しかし、アッラー*だけ(が、ご存知)なのだ。そして彼らは、いつ蘇らされるか、知りもしない。
کہہ دیجئے کہ آسمانوں والوں میں سے زمین والوں میں سے سوائے اللہ کے کوئی غیب نہیں جانتا[1] ، انہیں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ کب اٹھا کھڑے کیے جائیں گے؟
[1] یعنی جس طرح مذکورہ معاملات میں اللہ تعالیٰ متفرد ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی طرح غیب کے علم میں بھی وہ متفرد ہے۔ اس کے سوا کوئی عالم الغیب نہیں۔ نبیوں اور رسولوں کو بھی اتنا ہی علم ہوتا ہے جتنا اللہ تعالیٰ وحی والہام کے ذریعے سے انہیں بتلا دیتا ہے اور جو علم کسی بتلانے سے حاصل ہو، اس کے عالم کو عالم الغیب نہیں کہا جاتا۔ عالم الغیب تو وہ ہے جو بغیر کسی واسطے اور ذریعے کے ذاتی طور پر ہر چیز کا علم رکھے، ہر حقیقت سے باخبر ہو اور مخفی سے مخفی چیز بھی اس کے دائرہ علم سے باہر نہ ہو۔ یہ صفت صرف اور صرف اللہ کی ہے اس لیے صرف وہی عالم الغیب ہے۔ اس کے سوا کائنات میں کوئی عالم الغیب نہیں۔ حضرت عائشہ (رضی الله عنها) فرماتی ہیں کہ جو شخص یہ گمان رکھتا ہے کہ نبی (صلى الله عليه وسلم) آئندہ کل کو پیش آنے والے حالات کا علم رکھتے ہیں، اس نے اللہ پر بہت بڑا بہتان باندھا اس لیے کہ وہ تو فرما رہا ہے کہ آسمان وزمین میں غیب کا علم صرف اللہ کو ہے۔ (صحيح بخاري نمبر 48 55 ، صحيح مسلم نمبر 287 الترمذي نمبر3068) حضرت قتادہ (رضي الله عنه) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ستارے تین مقصد کے لیے بنائے ہیں۔ آسمان کی زینت، رہنمائی کا ذریعہ اور شیطان کو سنگسار کرنا۔ لیکن اللہ کے احکام سے بے خبر لوگوں نے ان سے غیب کا علم حاصل کرنے (کہانت) کا ڈھونگ رچا لیا ہے۔ مثلاً کہتے ہیں جو فلاں فلاں ستارے کے وقت نکاح کرے گا تو یہ یہ ہوگا فلاں فلاں ستارے کے وقت سفر کرے گا تو ایسا ایسا ہوگا، فلاں فلاں ستارے کے وقت پیدا ہوگا تو ایسا ایسا ہوگا وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب ڈھکوسلے ہیں۔ ان کے قیاسات کے خلاف اکثر ہوتا رہتا ہے۔ ستاروں، پرندوں اور جانوروں سے غیب کا علم کس طرح حاصل ہوسکتا ہے؟ جب کہ اللہ کا فیصلہ تو یہ ہے کہ آسمان وزمین میں اللہ کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا۔ (ابن کثیر)
Katakanlah (Muhammad), "Tidak ada sesuatu pun di langit dan di bumi yang mengetahui perkara yang gaib, kecuali Allah. Dan mereka tidak mengetahui kapan mereka akan dibangkitkan."
Yine de ki: Göklerde ve yerde Allah’tan başka hiç kimse gaybı bilemez. Ve onlar, ne zaman diriltileceklerini de bilmezler.
Dis encore : « Nul parmi ceux qui peuplent les cieux et la terre ne connaît les mystères dont seul Allah a connaissance. » Ils n’ont pas même la plus petite idée du Jour où ils seront ressuscités.
65. Di: “Nadie en los cielos ni en la Tierra conoce lo oculto salvo Dios. No saben siquiera cuándo serán resucitados.
بگو: «کسانی که در آسمانها و زمین هستند از غیب آگاه نیستند، مگر الله؛ و نمیدانند چه زمانی برانگیخته میشوند».
Sag: Über das Verborgene weiß nicht Bescheid wer in den Himmeln und auf der Erde ist, außer Allah; und sie merken nicht, wann sie auferweckt werden.
你说:“除安拉外,在天地间的,不知幽玄,他们不知道什么时候复活。