وَوَصَّيْنَا ٱلْإِنسَٰنَ بِوَٰلِدَيْهِ حُسْنًۭا ۖ وَإِن جَٰهَدَاكَ لِتُشْرِكَ بِى مَا لَيْسَ لَكَ بِهِۦ عِلْمٌۭ فَلَا تُطِعْهُمَآ ۚ إِلَىَّ مَرْجِعُكُمْ فَأُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ٨
Translations
And We have enjoined upon man goodness to parents. But if they endeavor to make you associate with Me that of which you have no knowledge,[1125] do not obey them. To Me is your return, and I will inform you about what you used to do.
[1125] i.e., no knowledge of its divinity. There can be no knowledge about something which is non-existent or untrue.
E recomendamos ao ser humano benevolência para com seus pais. E lhe dissemos: "E, se ambos lutam contigo, para que associes a Mim o de que não tens ciência, não lhes obedeças." A Mim, será vosso retorno; então, informar-vos-ei do que fazíeis.
われら*は人間に、自分の両親への孝行を命じた[1]。そしてもし彼ら二人が、あなた[2]が(崇拝*の正当性について)何も知らないものをわれに並べるべく、あなたに執拗に迫って来たならば、(そのことに関しては)彼らに服従するのではない[3]。われにこそ(復活の日*)、あなた方の帰り所があるのだ。そしてわれは、あなた方が(現世で)行っていたことを、あなた方に告げ聞かせ(、それに報い)る。
[1] 夜の旅章23-24も参照。 [2] この「あなた」については、雌牛章120の訳注を参照。以下、同様の表現の際にも、同訳注を参照。 [3] アッラー*への不服従における服従、などというものはない(アル=ブハーリー7257参照)。それは、たとえ両親であっても同様である。尚シルク*のみに限らず、アッラー*に対する全ての反逆行為において、他人に従ったりしてはならない(ムヤッサル397頁参照) 。
ہم نے ہر انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی نصیحت کی ہے[1] ہاں اگر وه یہ کوشش کریں کہ آپ میرے ساتھ اسے شریک کرلیں جس کا آپ کو علم نہیں تو ان کا کہنا نہ مانیئے[2]، تم سب کا لوٹنا میری ہی طرف ہے پھر میں ہر اس چیز سے جو تم کرتے تھے تمہیں خبر دوں گا.
[1] قرآن کریم کے متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید وعبادت کا حکم دینے کے ساتھ والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید کی ہے جس سے اس امر کی وضاحت ہوتی ہے کہ ربوبیت (الہٰ واحد) کے تقاضوں کو صحیح طریقے سے وہی سمجھ سکتا اور انہیں ادا کرسکتا ہے جو والدین کی اطاعت وخدمت کے تقاضوں کو سمجھتا اور ادا کرتا ہے۔ جو شخص یہ بات سمجھنے سے قاصر ہے کہ دنیا میں اس کا وجود والدین کی باہمی قربت کا نتیجہ اور اس کی تربیت وپرداخت، ان کی غایت مہربانی اور شفقت کا ثمرہ ہے۔ اس لیے مجھے ان کی خدمت میں کوئی کوتاہی اور ان کی اطاعت سے سرتابی نہیں کرنی چاہیے۔ وہ یقیناً خالق کائنات کو سمجھنے اور اس کی توحید وعبادت کے تقاضوں کی ادائیگی سے بھی قاصر رہے گا۔ اسی لیے احادیث میں بھی والدین کے ساتھ حسن سلوک کی بڑی تاکید آئی ہے۔ ایک حدیث میں والدین کی رضامندی کو اللہ کی رضا اور ان کی ناراضی کو رب کی ناراضی کا باعث قرار دیا گیا ہے۔ [2] یعنی والدین اگر شرک کا حکم دیں (اور اسی میں دیگر معاصی کا حکم بھی شامل ہے) اور اس کے لیے خاص کوشش بھی کریں۔ (جیسا کہ مجاہدہ کے لفظ سے واضح ہے) تو ان کی اطاعت نہیں کرنی چاہیئے۔ کیونکہ «لا طَاعَةَ لأَحَدٍ فِي مَعْصِيَةِ اللهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى» (مسند أحمد5/66 والصحيحة للألباني، نمبر 179) ”اللہ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں“۔ اس آیت کی شان نزول میں حضرت سعد بن ابی وقاص (رضي الله عنه) ، کا واقعہ آتا ہے کہ ان کے مسلمان ہونے پر ان کی والدہ نے کہا کہ میں نہ کھاؤں گی نہ پیوں گی، یہاں تک کہ مجھے موت آجائے یا پھر تو محمد (صلى الله عليه وسلم) کی نبوت کا انکار کر دے، بالآخر یہ اپنی والدہ کو زبردستی منہ کھول کر کھلاتے، جس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (صحيح مسلم، ترمذي، تفسير سورة العنكبوت)
Dan Kami wajibkan kepada manusia agar (berbuat) kebaikan kepada kedua orang tuanya. Dan jika keduanya memaksamu untuk mempersekutukan Aku dengan sesuatu yang engkau tidak mempunyai ilmu tentang itu, maka janganlah engkau patuhi keduanya. Hanya kepada-Ku tempat kembalimu, dan akan Aku beritakan kepadamu apa yang telah kamu kerjakan.
Biz insana ana babasına iyi davranmasını tavsiye (emr) ettik. Eğer onlar hakkında bilgin olmayan bir şeyi bana ortak koşman için seni zorlarlarsa onlara itaat etme. Dönüşünüz yalnız banadır, yaptıklarınızı size haber vereceğim.
Nous avons ordonné à l’homme de bien traiter ses père et mère. Mais s’ils te poussent à M’associer des divinités dont tu n’as aucune connaissance, ne leur obéis pas. C’est à Moi que vous ferez tous retour. Je vous informerai alors de ce que vous faisiez.
8. Le he ordenado al ser humano hacer el bien a sus padres. Pero si se esfuerzan por hacer que caigas en la idolatría de dedicar actos de adoración a otro que a Mí, lo cual es algo que no te he enseñado, no les debes obediencia. Ante Mí has de comparecer y te informaré lo que hacías.
و به انسان سفارش کردیم که به پدر و مادرش نیکی نماید؛ و [گفتیم:] «اگر آن دو کوشیدند تا چیزی را که تو به آن دانشی نداری شریک من سازی، از آنان اطاعت نکن. بازگشتتان به سوی من است، آنگاه شما را از [حقیقت] آنچه میکردید، آگاه خواهم کرد.
Und Wir haben dem Menschen anbefohlen, seine Eltern mit Güte zu behandeln. Wenn sie sich aber darum bemühen, daß Du Mir das beigesellst, wovon du kein Wissen hast, dann gehorche ihnen nicht. Zu Mir wird eure Rückkehr sein, da werde Ich euch kundtun, was ihr zu tun pflegtet.
我曾命人孝敬父母;如果他俩勒令你用你所不知道的东西配我,那么,你不要服从他俩。你们要归于我,我要把你们的行为告诉你们。