وَلَقَدْ كُنتُمْ تَمَنَّوْنَ ٱلْمَوْتَ مِن قَبْلِ أَن تَلْقَوْهُ فَقَدْ رَأَيْتُمُوهُ وَأَنتُمْ تَنظُرُونَ ١٤٣
Translations
And you had certainly wished for death [i.e., martyrdom] before you encountered it, and you have [now] seen it [before you] while you were looking on.
E com efeito, aneláveis a morte, antes de a deparardes; e, com efeito, viste-la, enquanto olháveis.
また(信仰者たちよ)、あなた方は、確かに(ウフドの戦い*以前には、殉教による)死を望んでいたのだ。それ(死)に直面する前には。そして確かに、あなた方はそれをまざまざと、目の当たりにした。[1]
[1] バドルの戦い*に参加出来なかった教友*たちの多くは、また戦いの機会が訪れることを望んでいた。このアーヤ*は彼ら、そして特にマディーナ*郊外へと戦いに出ることを強く主張した者たち(頻出名・用語解説「ウフドの戦い*」参照)に対する、お叱(しか)りである(アル=クルトゥビー4:220‐221参照)。
جنگ سے پہلے تو تم شہادت کی آرزو میں تھے[1] اب اسے اپنی آنکھوں سے اپنے سامنے دیکھ لیا.[2]
[1] یہ اشارہ ان صحابہ (رضي الله عنهم) کی طرف ہے جو جنگ بدر میں شریک نہ ہونے کی وجہ سے ایک احساس محرومی رکھتے تھے اور چاہتے تھے کہ میدان کار زار گرم ہو تو وہ بھی کافروں کی سرکوبی کرکے جہاد کی فضیلت حاصل کریں۔ انہی صحابہ (رضي الله عنهم) نے جنگ احد میں جوش جہاد سے کام لیتے ہوئے مدینہ سے باہر نکلنے کا مشورہ دیا تھا۔ لیکن جب مسلمانوں کی فتح، کافروں کے اچانک حملے سے شکست میں تبدیل ہو گئی (جس کی تفصیل پہلے گزر چکی) تو یہ پرجوش مجاہدین بھی سراسیمگی کا شکار ہوگئے اور بعض نے راہ فرار اختیار کی۔ (جیسا کہ آگے تفصیل آئے گی) اور بہت تھوڑے لوگ ہی ثابت قدم رہے۔ (فتح القدیر) اسی لئے حدیث میں آتا ہے کہ تم دشمن سے مدھ بھیڑ کی آرزو مت کرو اللہ سے عافیت طلب کیا کرو تاہم جب ازخود حالات ایسے بن جائیں کہ تمہیں دشمن سے لڑنا پڑ جائے تو پھر ثابت قدم رہو اور یہ بات جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے (صحیحین بحوالہ ابن کثیر ) [2] رَأَيْتُمُوهُ اور تَنْظُرُونَ۔ دونوں کے ایک ہی معنی یعنی دیکھنے کے ہیں۔ تاکید اور مبالغے کے لئے دو لفظ لائے گئے ہیں۔ یعنی تلواروں کی چمک، نیزوں کی تیزی، تیروں کی یلغار اور جاں بازوں کی صف آرائی میں تم نے موت کا خوب مشاہدہ کر لیا۔ (ابن كثير وفتح القدير)
Dan kamu benar-benar mengharapkan mati (syahid) sebelum kamu menghadapinya; maka (sekarang) kamu sungguh, telah melihatnya dan kamu menyaksikannya.
Andolsun, siz ölümle karşılaşmadan (Uhud'tan) önce (şehitliği) ölümü temenni ediyordunuz. İşte onu gördünüz, ama bakıp duruyorsunuz.
Vous désiriez tant mourir au combat avant d’affronter la mort. Vous l’avez à présent vue de vos propres yeux.
143. Anhelaban la muerte antes de salir a su encuentro, y la vieron con sus propios ojos.
و [ای مؤمنان،] به راستی که پیش از روبهروشدن با مرگ [در غزوۀ اُحُد]، آرزوی شهادت داشتید. سرانجام آن [معرکۀ جنگ] را دیدید و [اکنون پیش روی شماست و] به آن مینگرید.
Und ihr habt euch ja wiederholt den Tod gewünscht, bevor ihr ihm begegnet seid. Nun habt ihr ihn mit eigenen Augen geschaut.
遭遇死亡之前,你们确已希望死亡;现在你们确已亲眼见到死亡了。