إِنَّ ٱلدِّينَ عِندَ ٱللَّهِ ٱلْإِسْلَٰمُ ۗ وَمَا ٱخْتَلَفَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَٰبَ إِلَّا مِنۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ ٱلْعِلْمُ بَغْيًۢا بَيْنَهُمْ ۗ وَمَن يَكْفُرْ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ فَإِنَّ ٱللَّهَ سَرِيعُ ٱلْحِسَابِ ١٩
Translations
Indeed, the religion in the sight of Allāh is Islām. And those who were given the Scripture did not differ except after knowledge had come to them - out of jealous animosity between themselves. And whoever disbelieves in the verses of Allāh, then indeed, Allāh is swift in [taking] account.
Por certo, a religião perante Allah é o Islam.[1] E aqueles,[2] aos quais fora concedido o Livro, não discreparam senão após a ciência haver-lhes chegado, movidos por agressividade entre eles. E quem renega os sinais de Allah, por certo, Allah é Destro no ajuste de contas.
[1] Cf. II 128 n1. [2] Trata-se dos judeus e dos cristãos.
本当にアッラー*の御許における(真の)宗教[1]はイスラーム*である。そして啓典を授けられた人々が意見を異にしたのは、彼らのもとに知識[2]が到来した後のこと、彼らの間の侵犯[3]ゆえ以外の何ものでもなかった。誰だろうとアッラー*の御徴[4]を否定する者があっても(、アッラー*は彼にその応報を与えられるのであり)、本当にアッラー*は即座に計算されるお方*なのだ。
[1] アッラー*が創造物に対してお喜びになり、使徒*たちに託(たく)して遣(つか)わし、それ以外のものはお受け入れにはならない「宗教」のこと(ムヤッサル52頁参照)。アーヤ*85も参照。 [2] この「知識」は、使徒*や啓典のこと(前掲書、同頁参照)。相談章14の訳注も参照。 [3] この「侵犯」については、雌牛章213の訳注を参照。 [4] この「御徴」は、クルアーン*のアーヤ*、及びアッラーの唯一性*を示す証拠のこと(前掲書、同頁参照)。
بے شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک دین اسلام ہی ہے[1] ، اور اہل کتاب نے اپنے پاس علم آجانے کے بعد آپس کی سرکشی اور حسد کی بنا پر ہی اختلاف کیا ہے[2] اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں کے ساتھ جو بھی کفر کرے[3] اللہ تعالیٰ اس کا جلد حساب لینے واﻻ ہے۔
[1] اسلام وہی دین ہے جس کی دعوت وتعلیم ہر پیغمبر اپنے اپنے دور میں دیتے رہے ہیں اور اب اس کی کامل ترین شکل وہ ہے جسے نبی آخرالزمان حضرت محمد (صلى الله عليه وسلم) نے دنیا کے سامنے پیش کیا، جس میں توحید ورسالت اور آخرت پر اس طرح یقین وایمان رکھنا ہے جس طرح نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) نے بتلایا ہے۔ اب محض یہ عقیدہ رکھ لینا کہ اللہ ایک ہے یا کچھ اچھے عمل کر لینا، یہ اسلام نہیں نہ اس سے نجات آخرت ہی ملے گی۔ ایمان واسلام اوردین یہ ہے کہ اللہ کوایک مانا جائے اور صرف اسی ایک معبود کی عبادت کی جائے، محمد رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) سمیت تمام انبیاء پر ایمان لایا جائے۔ اور نبی (صلى الله عليه وسلم) کی ذات پر رسالت کا خاتمہ تسلیم کیاجائے اورایمانیات کے ساتھ ساتھ وہ عقائد واعمال اختیار کئے جائیں جو قرآن کریم میں یا حدیث رسول (صلى الله عليه وسلم) میں بیان کئے گئے ہیں۔ اب اس دین اسلام کے سوا کوئی اور دین عنداللہ قبول نہیں ہو گا۔ «وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الإِسْلامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ» (آل عمران: 85) نبی (صلى الله عليه وسلم) کی رسالت پوری انسانیت کے لئے ہے۔ «قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا» (الأعراف: 158) ”کہہ دیجئے! اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں“، «تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا» (الفرقان: 1) ”برکتوں والی ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان نازل کیا تاکہ وہ جہانوں کا ڈرانے والا ہو“ اور حدیث میں ہے، نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، جو یہودی یا نصرانی مجھ پرایمان لائے بغیر فوت ہوگیا، وہ جہنمی ہے۔“ (صحیح مسلم) مزید فرمایا ”بُعِثْتُ إِلَى الأَحْمَرِ وَالأَسْوَدِ“ ”میں احمرواسود (یعنی تمام انسانوں کے لئے نبی بناکربھیجا گیاہوں“ اسی لئے آپ (صلى الله عليه وسلم) نے اپنے وقت کے تمام سلاطین اور بادشاہوں کوخطوط تحریر فرمائے جن میں انہیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی (صحیحین۔ بحوالہ ابن کثیر ) [2] ان کے اس باہمی اختلاف سے مراد وہ اختلاف ہے جو ایک ہی دین کے ماننے والوں نے آپس میں برپا کر رکھا تھا مثلاً یہودیوں کے باہمی اختلافات اور فرقہ بندیاں۔ اسی طرح عیسائیوں کے باہمی اختلافات اور فرقہ بندیاں، پھر وہ اختلاف بھی مراد ہے جواہل کتاب کے درمیان آپس میں تھا۔ اور جس کی بناپر یہودی نصرانیوں کو اورنصرانی یہودیوں کوکہاکرتے تھے (تم کسی چیز پر نہیں ہو۔) نبوت محمدی (صلى الله عليه وسلم) اور نبوت عیسیٰ (عليه السلام) کے بارے میں اختلاف بھی اسی ضمن میں آتا ہے۔ علاوہ ازیں یہ سارے اختلافات دلائل کی بنیاد پر نہیں تھے، محض حسد اوربغض وعناد کی وجہ سے تھے یعنی وہ لوگ حق کو جاننے اورپہچاننے کے باوجود محض اپنے خیالی دنیاوی مفاد کے چکر میں غلط بات پر جمے رہتے اور اس کو دین باور کراتے تھے۔ تاکہ ان کی ناک بھی اونچی رہے اور ان کاعوامی حلقۂ ارادت بھی قائم رہے۔ افسوس آج مسلمان علما کی ایک بڑی تعداد ٹھیک انہی غلط مقاصد کے لئے ٹھیک اسی غلط ڈگر پر چل رہی ہے۔ -هَدَاهُمُ اللهُ وَإِيَّانَا- [3] یہاں ان آیتوں سے مراد وہ آیات ہیں جو اسلام کے دین الٰہی ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔
Sesungguhnya agama di sisi Allah ialah Islam. Tidaklah berselisih orang-orang yang telah diberi Kitab[115] kecuali setelah mereka memperoleh ilmu, karena kedengkian di antara mereka. Barang siapa ingkar terhadap ayat-ayat Allah, maka sungguh, Allah sangat cepat perhitungan-Nya.
[115] Ialah Kitab-kitab yang diturunkan sebelum Al-Qur`an.
Şüphesiz, Allah katında din İslam’dır. Kendilerine kitap verilenler, kendilerine ilim geldikten sonra, sadece aralarındaki haset ve kıskançlık yüzünden ihtilafa düştüler. Kim Allah’ın ayetlerini inkâr ederse şüphesiz Allah, hesabı çok çabuk görendir.
La seule religion acceptée par Allah est l’islam. Ceux à qui les Ecritures ont été confiées ne se sont opposés[7], poussés par la jalousie, qu’après avoir reçu toutes les preuves. Que ceux qui renient les signes d’Allah sachent qu’Allah est prompt dans Ses comptes.
[7] Entre eux et à l’islam.
19. Para Dios la verdadera religión es el Islam[1]. Los que habían recibido el libro anteriormente discreparon por envidia y soberbia, a pesar de haberles llegado la revelación. Quienes rechacen los signos de Dios, sepan que Dios es rápido en ajustar cuentas.
[1] Islam إسلام en el idioma del Corán, no es el nombre de una religión en particular, sino que es el nombre de la religión común de monoteísmo, devoción y comportamiento social correcto que predicaron todos los Profetas.
در حقیقت، دین [پسندیده] نزد الله همان اسلام است؛ و كسانى كه كتاب [آسمانى] به آنان داده شده است، با یكدیگر به اختلاف نپرداختند مگر پس از آنكه علم برایشان [حاصل] آمد [و حجت بر آنان تمام شد]. آن [اختلاف و تفرقه] هم به خاطر سرکشی و حسدى [بود] كه میانشان وجود داشت؛ و هر کس به آیات الله کفر بورزد، [بداند که] الله در حسابرسی سریع است.
Gewiß, die Religion ist bei Allah der Islam. Doch diejenigen, denen die Schrift gegeben wurde, wurden erst uneinig, nachdem das Wissen zu ihnen gekommen war - aus Mißgunst untereinander, Doch wer Allahs Zeichen verleugnet -, so ist Allah schnell im Abrechnen.
安拉所喜悦的宗教,确是伊斯兰教。曾受天经的人,只有在知识降临他们之后,由于互相嫉妒,才发生了分歧。谁不信安拉的迹象,〔安拉不久就要惩治谁〕,因为安拉确是清算神速的主。