وَيُكَلِّمُ ٱلنَّاسَ فِى ٱلْمَهْدِ وَكَهْلًۭا وَمِنَ ٱلصَّٰلِحِينَ ٤٦
Translations
He will speak to the people in the cradle and in maturity and will be of the righteous."
"E falará aos homens, no berço e na maturidade, e será dos íntegros."
また、彼は揺りかごの中からでも、壮年になってからも人々に語りかけ、正しい者*たちの一人である」。
وه لوگوں سے اپنے گہوارے میں باتیں کرے گا اور ادھیڑ عمر میں بھی[1] اور وه نیک لوگوں میں سے ہوگا۔
[1] حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کےمَهْدٌ( گہوارے) میں گفتگو کرنے کا ذکر خود قرآن کریم کی سورۂ مریم میں موجود ہے۔ اس کے علاوہ صحیح حدیث میں دو بچوں کا ذکر اور ہے۔ ایک صاحب جریج اور ایک اسرائیلی عورت کا بچہ (صحیح بخاری، کتاب الانبیاء، باب واذکرفی الکتاب مریم) اس روایت میں جن تین بچوں کا ذکر ہے، ان سب کا تعلق بنو اسرائیل سے ہے، کیونکہ ان کے علاوہ صحیح مسلم میں اصحاب الاخدود کے قصے میں بھی شیر خوار بچے کے بولنے کا ذکر ہے۔ اور حضرت یوسف کی بابت فیصلہ کرنے والے شاہد کے بارے میں جو مشہور ہے کہ وہ بچہ تھا، صحیح نہیں ہے۔ بلکہ وہ ذُو لِحْيَةٍ( داڑھی والا) تھا (الضعیفہ۔ رقم 881) كَهْلٌ (ادھیڑ عمر) میں کلام کرنے کا مطلب بعض نے یہ بیان کیا ہے کہ جب وہ بڑے ہو کر وحی اور رسالت سے سرفراز کئے جائیں گے اور بعض نے کہا ہے کہ آپ کا قیامت کے قریب جب آسمان سے نزول ہوگا جیسا کہ اہل سنت کا عقیدہ ہے جو صحیح اور متواتر احادیث سے ثابت ہے، تو اس وقت جو وہ اسلام کی تبلیغ کریں گے، وہ کلام مراد ہے۔ (تفسیر ابن کثیر وقرطبی)
dan dia berbicara dengan manusia (sewaktu) dalam buaian dan ketika sudah dewasa, dan dia termasuk di antara orang-orang yang saleh."
O, insanlarla beşikte iken de yetişkin iken de konuşacaktır ve o, salihlerden biridir.
Il parlera aux hommes dès le berceau, prêchera la bonne parole à l’âge mûr et sera du nombre des croyants pleins de vertu. »
46. Hablará [milagrosamente] a la gente desde la cuna, y predicará siendo adulto. Será de los virtuosos”.
او در گهواره [به اعجاز،] و در ميانسالى [به وحی الهی] با مردم سخن میگوید و از شایستگان است».
Und er wird in der Wiege zu den Menschen sprechen und im Mannesalter und einer der Rechtschaffenen sein.
他在摇篮里,在壮年时都要对人说话,他将来是一个善人。”