إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بَعْدَ إِيمَٰنِهِمْ ثُمَّ ٱزْدَادُوا۟ كُفْرًۭا لَّن تُقْبَلَ تَوْبَتُهُمْ وَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلضَّآلُّونَ ٩٠
Translations
Indeed, those who disbelieve [i.e., reject the message] after their belief and then increase in disbelief - never will their [claimed] repentance be accepted, and they are the ones astray.
Por certo, aos que renegam a Fé, após haverem sido crentes, em seguida, acrescentam a si mesmos a renegação da Fé não se lhes aceitará o arrependimento; e esses são os descaminhados.[1]
[1] Versículo dirigido aos judeus, que descreram de Jesus, depois de haverem crido em Moisés, e descreram mais ainda, de Muhammad, quando o renegaram.
本当に、信仰した後に不信仰に陥り、それから更に不信仰が甚だしくなった者たち、彼らの悔悟は受け入れられない[1]。そしてそれらの者たちこそは、迷い去った者たちなのだ。
[1] 死が訪れる前までに悔悟しなければ、受け入れられない、の意(ムヤッサル61頁参照)。この次のアーヤ*、および家畜章158とその訳注も参照。
بے شک جو لوگ[1] اپنے ایمان ﻻنے کے بعد کفر کریں پھر کفر میں بڑھ جائیں، ان کی توبہ ہرگز ہرگز قبول نہ کی جائے گی[2]، یہی گمراه لوگ ہیں.
[1] اس آیت میں ان کی سزا بیان کی جا رہی ہے جو مرتد ہونے کے بعد توبہ کی توفیق سے محروم رہیں اور کفر پر ان کا انتقال ہو۔ [2] اس سے وہ توبہ مراد ہے جو موت کے وقت ہو۔ ورنہ توبہ کا دروازہ تو ہر ایک کے لئے ہر وقت کھلا ہے۔ اس سے پہلی آیت میں بھی قبولیت توبہ کا اثبات ہے۔ علاوہ ازیں قرآن میں اللہ تعالیٰ نے بار بار توبہ کی اہمیت اور قبولیت کوبیان فرمایا ہے«وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ» (الشوریٰ: 25)۔ «أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ» (التوبہ:104)۔ ”کیا انہوں نے نہیں جانا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے“، اور احادیث میں بھی یہ مضمون بڑی وضاحت سے بیان ہوا ہے۔ اس لئے اس آیت سے مراد آخری سانس کی توبہ ہے جو نامقبول ہے۔ جیسا کہ قرآن کریم کے ایک اور مقام پر ہے«وَلَيْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ حَتَّى إِذَا حَضَرَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ إِنِّي تُبْتُ الآنَ» (النساء:18)۔ ”ان کی توبہ (قبول) نہیں ہے جو برائی کرتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ جب ان میں سے ایک کو موت آنے لگتی ہے تو کہتا ہے میری توبہ“۔ حدیث میں بھی ہے «إنَّ اللهَ يَقْبَلُ تَوْبَةَ الْعبْدِ مَا لَمْ يُغَرْغِرْ» (مسنداحمد،ترمذی،بحوالہ فیض القدیر شرح الجامع الصغیر) ”اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ اس وقت تک قبول کرتاہے جب تک اسے موت کا اچھو نہ لگے“، یعنی جان کنی کے وقت کی توبہ قبول نہیں۔
Sungguh, orang-orang yang kafir setelah beriman, kemudian bertambah kekafirannya, tidak akan diterima tobatnya, dan mereka itulah orang-orang yang sesat.
İman ettikten sonra kâfir olup küfürlerini arttıranların tevbeleri asla kabul edilmeyecektir. Onlar sapıkların ta kendileridir.
Le repentir de ceux qui, après avoir renié la foi, persistent dans l’impiété ne sera jamais accepté. Voilà ceux qui se sont égarés.
90. A quienes reniegan de la fe luego de haber creído y se obstinan en su incredulidad, no se les aceptará el arrepentimiento. Ésos son los desviados.
به راستی، کسانی که پس از ایمان خود کافر شدند و بر کفر [خویش] افزودند، هرگز توبۀ آنان پذیرفته نخواهد شد و آنان قطعاً گمراهند.
Jene (aber), die ungläubig werden, nachdem sie den Glauben (angenommen) haben, und hierauf an Unglauben zunehmen, deren Reue wird nicht angenommen werden, und jene sind die Irregehenden.
信道之后,又复不信,且变本加厉的人,他们的忏悔绝不被接受。这等人确是迷误的。