ظَهَرَ ٱلْفَسَادُ فِى ٱلْبَرِّ وَٱلْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِى ٱلنَّاسِ لِيُذِيقَهُم بَعْضَ ٱلَّذِى عَمِلُوا۟ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ ٤١
Translations
Corruption has appeared throughout the land and sea by [reason of] what the hands of people have earned so He [i.e., Allāh] may let them taste part of [the consequence of] what they have done that perhaps they will return [to righteousness].
A corrupção[1] apareceu, na terra e no mar, pelo que as mãos dos homens cometeram, a fim de Ele fazê-los experimentar algo do que fizeram, para retornarem.
[1] Ou seja, as desgraças que assolam os homens, periodicamente: a seca, a escassez de alimentos da terra e do mar, as pragas, etc.
人々の手が稼いだもの(罪)ゆえに、陸と海に腐敗[1]が出現したのである。それはかれ(アッラー*)が、彼らの行ったある種のこと(ゆえの懲罰)を、彼らに味わわせ給うためなのだ。彼らが、(悔悟して)立ち返るように。
[1] この「陸と海」は、文字通りの意味であるという説と、前者が「砂漠」、後者が「町」「川沿いの町」とする説がある(イブン・カスィール6:319-320参照)。また「腐敗*」とは、旱魃(かんばつ)、雨不足、病気の蔓延(まんえん)などのこと(ムヤッサル408頁参照)。
خشکی اور تری میں لوگوں کی بداعمالیوں کے باعﺚ فساد پھیل گیا۔ اس لئے کہ انہیں ان کے بعض کرتوتوں کا پھل اللہ تعالیٰ چکھا دے (بہت) ممکن ہے کہ وه باز آجائیں.[1]
[1] خشکی سے مراد، انسانی آبادیاں اور تری سے مراد سمندر، سمندری راستےاور ساحلی آبادیاں ہیں۔ فساد سے مراد ہر وہ بگاڑ ہےجس سےانسانوں کے معاشرے اور آبادیوں میں امن وسکون تہ وبالا اور ان کے عیش وآرام میں خلل واقع ہو۔ اس لئے اس کا اطلاق معاصی وسیئات پر بھی صحیح ہے کہ انسان ایک دوسرے پر ظلم کر رہے ہیں، اللہ کی حدوں کو پامال اور اخلاقی ضابطوں کو توڑ رہے ہیں اور قتل وخونریزی عام ہوگئی ہے اور ان ارضی وسماوی آفات پر بھی اس کا اطلاق صحیح ہے۔ جو اللہ کی طرف سے بطور سزا وتنبیہ نازل ہوتی ہیں۔ جیسے قحط، کثرت موت، خوف اور سیلاب وغیرہ مطلب یہ ہے کہ جب انسان اللہ کی نافرمانیوں کو اپنا وطیرہ بنا لیں تو پھر مکافات عمل کے طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسانوں کے اعمال وکردار کا رخ برائیوں کی طرف پھر جاتا ہےاور زمین فساد سے بھر جاتی ہے امن وسکون ختم اور اس کی جگہ خوف ودہشت، سلب ونہب اور قتل وغارت گری عام ہو جاتی ہے اس کےساتھ ساتھ بعض دفعہ آفات ارضی وسماوی کا بھی نزول ہوتا ہے۔ مقصد اس سے یہی ہوتا ہے کہ اس عام بگاڑ یا آفات الہیہٰ کو دیکھ کر شاید لوگ گناہوں سے باز آجائیں، توبہ، کر لیں اور ان کا رجوع اللہ کی طرف ہوجائے۔ اس کے برعکس جس معاشرے کا نظام اطاعت الٰہی پر قائم ہو اور اللہ کی حدیں نافذ ہوں، ظلم کی جگہ عدل کا دور دورہ ہو۔ وہاں امن وسکون اور اللہ کی طرف سے خیر وبرکت کا نزول ہوتا ہے۔ جس طرح ایک حدیث میں آتا ہے زمین میں اللہ کی ایک حد کا قائم کرنا، وہاں کے انسانوں کے لئے چالیس روز کی بارش سے بہتر ہے۔ (النسائي، كتاب قطع يد السارق، باب الترغيب في إقامة الحد - وابن ماجه) اسی طرح یہ حدیث ہے کہ جب ایک بدکار (فاجر) آدمی فوت ہو جاتا ہے تو بندے ہی اس سے راحت محسوس نہیں کرتے شہر بھی اور درخت اور جانور بھی آرام پاتے ہیں۔ (صحيح بخاري، كتاب الرقاق، باب سكرات الموت- مسلم، كتاب الجنائز، باب ما جاء في مستريح ومستراح منه)۔
Telah tampak kerusakan di darat dan di laut disebabkan karena perbuatan tangan manusia; Allah menghendaki agar mereka merasakan sebagian dari (akibat) perbuatan mereka, agar mereka kembali (ke jalan yang benar).
İnsanların ellerinin kazandıklarından dolayı karada ve denizde fesat çıktı. Umulur ki dönerler diye, (Allah) yaptıklarının bazılarını böylece onlara tattırmaktadır.
Les calamités apparaissent sur terre et en mer en raison des péchés commis par les hommes. Allah les punit ainsi pour une partie de leurs méfaits afin de les amener à se repentir.
41. Se puede ver la devastación en la Tierra y en el mar como consecuencia de las acciones del ser humano. Han de padecer [el resultado de] lo que cometieron, quizás así recapaciten[1].
[1] Este versículo establece que muchas veces el ser humano actúa de forma irresponsable hacia el medio ambiente que lo rodea y en el cual vive, y que esa irresponsabilidad llega a hacerse evidente, a tal punto que todas las personas terminan sufriendo las consecuencias.
به سبب گناهانی که مردم مرتکب شدهاند، فساد [و تباهی] در خشکی و دریا آشکار گشته است تا [الله] جزای برخی از اعمالشان را به آنان بچشاند؛ باشد که [به سوی حق] بازگردند.
Unheil ist auf dem Festland und im Meer erschienen wegen dessen, was die Hände der Menschen erworben haben, damit Er sie einiges von dem kosten läßt, was sie getan haben, auf daß sie umkehren mögen.
灾害因众人所犯的罪恶而显现于大陆和海洋,以至安拉使他们尝试自己的行为的一点报酬,以便他们悔悟。