يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱذْكُرُوا۟ نِعْمَةَ ٱللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَآءَتْكُمْ جُنُودٌۭ فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيحًۭا وَجُنُودًۭا لَّمْ تَرَوْهَا ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرًا ٩
Translations
O you who have believed, remember the favor of Allāh upon you when armies came to [attack] you and We sent upon them a wind and armies [of angels] you did not see. And ever is Allāh, of what you do, Seeing.
Ó vós que credes! Lembrai-vos da graça de Allah para convosco, quando um exército vos chegou, então, enviamos contra eles um vento e um exército de anjos, que não vistes. E Allah, do que fazeis, é Onividente.
信仰する者たちよ、あなた方に対するアッラー*の恩恵を思い起こすのだ。あなた方のもとに軍勢[1]が到来し、われら*が彼らに風と、あなた方には見えなかった軍勢を遣わした時のことを[2]。アッラー*はもとより、あなた方が行うことをご覧になっていたのだ。
[1] この「軍勢」とは、部族連合のこと(ムヤッサル419頁参照)。詳しくは、スーラ*冒頭の訳注を参照。 [2] 強風が部族連合軍の設営したテントなどを吹き飛ばし、天からは天使*が送られ、その心に恐怖が吹き込まれた(前掲書、同頁参照)。
اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ نے جو احسان تم پر کیا اسے یاد کرو جبکہ تمہارے مقابلے کو فوجوں پر فوجیں آئیں پھر ہم نے ان پر تیز وتند آندھی اور ایسے لشکر بھیجے جنہیں تم نے دیکھا ہی نہیں[1] ، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ سب کچھ دیکھتا ہے.
[1] ان آیات میں غزوۂ احزاب کی کچھ تفصیل ہے جو 5 ہجری میں پیش آیا اسے احزاب اس لئے کہتے ہیں کہ اس موقعے پر تمام اسلام دشمن گروہ جمع ہو کر مسلمانوں کے مرکز مدینہ پر حملہ آور ہوئے تھے۔ احزاب حزب (گروہ) کی جمع ہے۔ اسے جنگ خندق بھی کہتے ہیں، اس لئے کہ مسلمانوں نے اپنے بچاؤ کے لئے مدینے کے اطراف میں خندق کھودی تھی تاکہ دشمن مدینے کے اندر نہ آسکیں۔ اس کی مختصر تفصیل اس طرح ہے کہ یہودیوں کے قبیلے بنو نضیر، جس کو رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) نے اس کی مسلسل بدعہدی کی وجہ سے مدینہ سے جلا وطن کردیا تھا، یہ قبیلہ خیبر میں جا آباد ہوا، اس نے کفار مکہ کو مسلمانوں پر حملہ آور ہونے کے لئے تیار کیا،اسی طرح غطفان وغیرہ قبائل نجد کو بھی امداد کا یقین دلا کر آمادۂ قتال کیا اور یوں یہ یہودی اسلام اور مسلمانوں کے تمام دشمنوں کو اکھٹا کرکے مدینے پر حملہ آور ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ مشرکین مکہ کی قیادت ابوسفیان کے پاس تھی، انہوں نے احد کے آس پاس پڑاؤ ڈال کر تقریباً مدینے کا محاصرہ کر لیا، ان کی مجموعی تعداد 10 ہزار تھی، جب کہ مسلمان تین ہزار تھے۔ علاوہ ازیں جنوبی رخ پر یہودیوں کا تیسرا قبیلہ بنو قریظہ آباد تھا، جس سے ابھی تک مسلمانوں کا معاہدہ قائم اور وہ مسلمانوں کی مدد کرنے کا پابند تھا۔ لیکن اسے بھی بنو نضیر کے یہودی سردار حیی بن اخطب نےورغلا کر مسلمانوں پر کاری ضرب لگانے کے حوالے سے، اپنے ساتھ ملا لیا، یوں مسلمان چاروں طرف سے دشمن کے نرغے میں گھر گئے۔ اس موقع پر حضرت سلمان فارسی ! کے مشورے سے خندق کھودی گئی، جس کی وجہ سے دشمن کا لشکر مدینے سے اندر نہیں آسکا اور مدینے کے باہر قیام پذیر رہا۔ تاہم مسلمان اس محاصرے اور دشمن کی متحدہ یلغارسے سخت خوفزدہ تھے۔ کم وبیش ایک مہینے تک یہ محاصرہ قائم رہا اور مسلمان سخت خوف اور اضطراب کے عالم میں مبتلا۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے پردۂ غیب سے مسلمانوں کی مدد فرمائی ان آیات میں ان ہی سراسیمہ حالات اور امداد غیبی کا تذکرہ فرمایا گیا ہے۔ پہلے جُنُودٌ سے مراد کفار کی فوجیں ہیں، جو جمع ہو کر آئی تھیں۔ تیز وتند ہوا سے مراد وہ ہوا ہے جو سخت طوفان اور آندھی کی شکل میں آئی، جس نے ان کے خیموں کو اکھاڑ پھینکا، جانور رسیاں تڑا کر بھاگ کھڑے ہوئے، ہانڈیاں الٹ گئیں اور سب بھاگنے پر مجبور ہوگئے۔ یہ وہی ہوا تھی جس کی بابت حدیث میں آتا ہے، نُصِرْتُ بِالصَّبَا وَأُهْلِكَتْ عَادٌ بِالدَّبُورِ (صحيح بخاري ، كتاب الاستسقاء، باب نصرت بالصبا مسلم، باب في ريح الصبا والدبور) میری مدد صبا (مشرقی ہوا) سےکی گئی اور عاد دبور (پچھمی) ہوا سے ہلاک کیے گئے۔ وَجُنُودًا لَمْ تَرَوْهَا سے مراد فرشتے ہیں، جو مسلمانوں کی مدد کے لئے آئے۔ انہوں نے دشمن کےدلوں پر ایسا خوف اور دہشت طاری کر دی کہ انہوں نے وہاں سے جلد بھاگ جانے میں ہی اپنی عافیت سمجھی۔
Wahai orang-orang yang beriman! Ingatlah akan nikmat Allah (yang telah dikaruniakan) kepadamu ketika bala tentara datang kepadamu, lalu Kami kirimkan kepada mereka angin topan dan bala tentara yang tidak dapat terlihat olehmu.[670] Allah Maha Melihat apa yang kamu kerjakan.
[670] Ayat ini menerangkan kisah Ahzab yaitu golongan-golongan yang dihancurkan dalam perang Khandaq karena menentang Allah dan rasul-Nya. Yang dimaksud dengan bala tentara yang tidak dapat kamu lihat ialah para malaikat yang sengaja didatangkan Allah untuk menghancurkan musuh-musuh Allah itu.
Ey iman edenler! Allah’ın size olan nimetini hatırlayın. Hani (düşman) orduları üzerinize gelmişti de biz onların üzerine bir rüzgâr ve göremediğiniz ordular göndermiştik. Allah, yaptıklarınızı hakkıyla görmektedir.
Vous qui croyez ! Souvenez-vous de Nos bienfaits envers vous lorsque Nous avons suscité une tempête et des légions invisibles[8] contre les armées ennemies qui vous assiégeaient. Allah voyait parfaitement ce que vous faisiez.
[8] D’anges. Et ce, lors de la bataille dite « de la tranchée » ou « des coalisés » qui firent le siège de Médine un mois entier avant de lever le siège (Voir en annexe).
9. ¡Oh, creyentes! Recuerden las mercedes con las que Dios los agració, cuando [en la batalla de Al-Jandaq] los cercó un ejército, y envié contra ellos una tempestad y un ejército [de ángeles] que no podían ver. Dios ve todo cuanto hacen.
ای کسانی که ایمان آوردهاید، نعمت الله را بر خود به یاد آورید؛ آنگاه که سپاهیانی [از قبایل عرب] به سویتان آمدند. آنگاه ما تندبادی [سخت] و لشکری [از فرشتگان] که آنها را نمیدیدید، بر آنان فرستادیم [و به سختی شکستشان دادیم]؛ و همواره الله به آنچه میکنید بیناست.
O die ihr glaubt, gedenkt der Gunst Allahs an euch, als Heerscharen zu euch kamen. Da sandten Wir gegen sie einen Wind und Heerscharen, die ihr nicht saht. Und was ihr tut, sieht Allah wohl.
信道的人们啊!你们应当记忆安拉所赐你们的恩典。当时,敌军来攻你们,我就对他们派遣暴风和你们所未见的天兵。安拉是明察你们的行为的。