لَقَدْ كَانَ لِسَبَإٍۢ فِى مَسْكَنِهِمْ ءَايَةٌۭ ۖ جَنَّتَانِ عَن يَمِينٍۢ وَشِمَالٍۢ ۖ كُلُوا۟ مِن رِّزْقِ رَبِّكُمْ وَٱشْكُرُوا۟ لَهُۥ ۚ بَلْدَةٌۭ طَيِّبَةٌۭ وَرَبٌّ غَفُورٌۭ ١٥
Translations
There was for [the tribe of] Saba’ in their dwelling place a sign: two [fields of] gardens on the right and on the left. [They were told], "Eat from the provisions of your Lord and be grateful to Him. A good land [have you], and a forgiving Lord."
Com efeito, havia para Saba[1], em seu habitat, um Sinal: dois jardins, à direita e à esquerda. Foi-lhes dito: "Comei do sustento de vosso Senhor e agradecei-Lhe. Tendes uma plaga benigna e um Senhor Perdoador."
[1] Ou seja, para os habitantes de Saba.
確かにサバア[1](の民)には、その住まいの中に(アッラー*の御力を示す)御徴があった。右と左に二つの果樹園[2]。(彼らには、こう言われた。)「あなた方の主*の糧から食べ、かれに感謝せよ。(あなた方の国は)よき国であり、(恩恵の主は)赦し深い主*なのだから」。
[1] 「サバア」の民については、スーラ*冒頭の訳注を参照。 [2] サバアの民の町、マアラブには渓谷(けいこく)があり、彼らはそこにダムを築いていた。その水の利用により、渓谷の両側には豊かな果樹園が広がっていた(アッ=サァディー677頁参照)。
قوم سبا کے لئے اپنی بستیوں میں (قدرت الٰہی کی) نشانی تھی[1] ان کے دائیں بائیں دو باغ تھے[2] (ہم نے ان کو حکم دیا تھا کہ) اپنے رب کی دی ہوئی روزی کھاؤ[3] اور اس کا شکر ادا کرو[4]، یہ عمده شہر[5] اور وه بخشنے واﻻ رب ہے.[6]
[1] سَبَأ وہی قوم تھی، جس کی ملکہ سبا مشہور ہے جو حضرت سلیمان (عليه السلام) کے زمانے میں مسلمان ہوگئی تھی۔ قوم ہی کے نام پر ملک نام بھی سبا تھا، آج کل یمن کے نام سے یہ علاقہ معروف ہے۔ یہ بڑا خوش حال ملک تھا، یہ ملک بری وبحری تجارت میں بھی ممتاز تھا اور زراعت وباغبانی میں بھی نمایاں۔ اور یہ دونوں ہی چیزیں کسی ملک اور قوم کی خوش حالی کا باعث ہوتی ہیں۔ اسی مال ودولت کی فراوانی کو یہاں قدرت الٰہی کی نشانی سے تعبیر کیا گیا ہے۔ [2] کہتے ہیں کہ شہر کے دونوں طرف پہاڑ تھے، جن سے چشموں اور نالوں کا پانی بہہ بہہ کر شہر میں آتا تھا، ان کے حکمرانوں نے پہاڑوں کے درمیان پشتے تعمیر کرادیئے اور ان کے ساتھ باغات لگا دیئےگئے، جس سے پانی کا رخ بھی متعین ہوگیا اور باغوں کو بھی سیرابی کا ایک قدرتی ذریعہ میسر آگیا۔ ان ہی باغات کو، دائیں بائیں دو باغوں، سے تعبیر کیا گیا ہے۔ بعض کہتے ہیں، جَنَّتَيْنِ سے دو باغ نہیں، بلکہ دائیں بائیں کی دو جہتیں مراد ہیں اور مطلب باغوں کی کثرت ہے کہ جدھر نظر اٹھا کر دیکھیں، باغات، ہریالی اور شادابی ہی نظر آتی تھی۔ (فتح القدیر)۔ [3] یہ ان کے پیغمبروں کے ذریعے سے کہلوایا گیا یا مطلب ان نعمتوں کا بیان ہے، جن سے ان کو نوازا گیا تھا۔ [4] یعنی منعم و محسن کی اطاعت کرو اور اس کی نافرمانی سے اجتناب۔ [5] یعنی باغوں کی کثرت اور پھلوں کی فراوانی کی وجہ سے یہ شہر عمدہ ہے۔ کہتے ہیں کہ آب وہوا کی عمدگی کی وجہ سے یہ شہر مکھی، مچھر اور اس قسم کے دیگر موذی جانوروں سے بھی پاک تھا، واللہ اعلم۔ [6] یعنی اگر تم رب کا شکر کرتے رہو گے تو وہ تمہارے گناہ بھی معاف فرما دے گا۔ اس کا مطلب یہ بھی ہوا کہ انسان توبہ کرتے رہیں تو پھر گناہ ہلاکت عام اور سلب انعام کا سبب نہیں بنتے، بلکہ اللہ تعالیٰ عفوودرگزر سے کام لیتا ہے۔
Sungguh, bagi kaum Saba` ada tanda (kebesaran Tuhan) di tempat kediaman mereka yaitu dua buah kebun di sebelah kanan dan di sebeleh kiri, (kepada mereka dikatakan), "Makanlah olehmu dari rezeki yang (dianugerahkan) Tuhanmu dan bersyukurlah kepada-Nya. (Negerimu) adalah negeri yang baik (nyaman) sedang (Tuhanmu) adalah Tuhan Yang Maha Pengampun."
Andolsun, Sebe kavmi için oturduğu yerlerde büyük bir ibret vardır. Biri sağda, diğeri solda iki bahçeleri vardı. (Onlara:) "Rabbinizin rızkından yiyin ve O'na şükredin. İşte güzel bir memleket ve çok bağışlayan bir Rab!"
Il y avait assurément dans le pays de Saba[4], où s’étendaient deux champs, l’un sur la droite, l’autre sur la gauche, un signe pour ses habitants. « Nourrissez-vous de ce que votre Seigneur vous a dispensé en vous montrant reconnaissants. Votre terre est si généreuse et votre Seigneur si clément ! »
[4] L’actuel Ma’rib au Yémen, précisent certains commentateurs.
15. Las moradas de Saba eran un signo [de las gracias de Dios]: poseían dos huertos, uno [en un valle] a la izquierda y otro a la derecha. [Les dije:] “Coman del sustento de su Señor y agradézcanle. Tienen una buena tierra, y [si son agradecidos, sepan que] su Señor es Perdonador”.
در محل سكونتِ [قوم] «سبأ» دو باغ [بزرگ] از راست و چپ [قرار داشت] كه نشانهاى [از قدرت و بخشش الهى] بود. [به آنان گفتیم:] «از روزی پروردگارتان بخورید و شُکرگزارش باشید [که] سرزمینی پاک و پروردگاری آمرزنده [دارید]».
Die Sabäer hatten ja in ihrem Wohnort ein Zeichen: zwei Gärten zur Rechten und zur Linken. - „Eßt von der Versorgung eures Herrn und dankt Ihm. Eine gute Ortschaft (ist es) und ein Allvergebender Herr.
赛伯邑族,在他们的居处,确有一种迹象:两个园圃,分列左右。“你们可以吃你们的主的给养,你们要感谢他。一个肥美的地方,一个至赦的主宰。”