إِنَّا نَحْنُ نُحْىِ ٱلْمَوْتَىٰ وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوا۟ وَءَاثَٰرَهُمْ ۚ وَكُلَّ شَىْءٍ أَحْصَيْنَٰهُ فِىٓ إِمَامٍۢ مُّبِينٍۢ ١٢
Translations
Indeed, it is We who bring the dead to life and record what they have put forth and what they left behind, and all things We have enumerated in a clear register.
Por certo, somos Nós Que damos a vida aos mortos, e escrevemos o que eles anteciparam, e seus vestígios.[1] E toda cousa, enumeramo-la em um evidente Livro.
[1] Ou seja, o que fizeram antes da morte: durante a vida.
本当にわれら*は(復活の日*、)死者たちに生を与えるのであり、彼らが(現世で)行っていたことと、その軌跡[1]を書き留める。そしてわれら*は全ての物事を、明らかなる規範[2]の中で数え尽くしておいたのである。
[1] 「その軌跡」とは、彼らの生前と死後に、彼らが原因として生じた善いことや悪いこと。前者の例としては、シルク*や諸々の罪などがある(前掲書、同頁参照)。 [2] 「明らかなる規範」とは、守られし碑板*。存在する全てのものは元々、この中に記録されている、ということ(イブン・カスィール6:568参照)。高壁章8の訳注も参照。
بےشک ہم مُردوں کو زنده کریں گے[1] ، اور ہم لکھتے جاتے ہیں وه اعمال بھی جن کو لوگ آگے بھیجتے ہیں[2] اور ان کے وه اعمال بھی جن کو پیچھے چھوڑ جاتے ہیں، اور ہم نے ہر چیز کو ایک واضح کتاب میں ضبط کر رکھا ہے.[3]
[1] یعنی قیامت والے دن۔ یہاں احیائے موتی کے ذکر سے یہ اشارہ کرنا بھی مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ کافروں میں سے جس کا دل چاہتا ہے، زندہ کردیتا ہے جو کفروضلالت کی وجہ سے مردہ ہوچکے ہوتے ہیں۔ پس وہ ہدایت اور ایمان کو اپنا لیتے ہیں۔ [2] مَا قَدَّمُوا سے وہ اعمال مراد ہیں جو انسان خود اپنی زندگی میں کرتا ہے اور آثَارَهُمْ سے وہ اعمال جن کے عملی نمونے (اچھے یا برے) وہ دنیا میں چھوڑ جاتا ہے اور اس کے مرنے کے بعد اس کی اقتدا میں لوگ وہ اعمال بجا لاتے ہیں۔ جس طرح حدیث میں ہے ”جس نےاسلام میں کوئی نیک طریقہ جاری کیا، اس کے لئے اس کا اجر بھی ہے اور اس کا بھی ہے جو اس کے بعد اس پر عمل کرے گا۔ بغیر اس کے کہ ان میں سے کسی کے اجر میں کمی ہو اور جس نے کوئی برا طریقہ جاری کیا، اس پر اس کے اپنے گناہ کا بھی بوجھ ہوگا اور اس کا بھی جو اس کے بعد اس پر عمل کرے گا، بغیر اس کے کہ ان میں کسی کے بوجھ میں کمی ہو“۔ (صحيح مسلم، كتاب الزكاة ، باب الحث على الصدقة ولو بشق تمرة) اسی طرح یہ حدیث ہے ”جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے عمل کا سلسلہ ختم ہوجاتا ہے۔ سوائے تین چیزوں کے۔ ایک علم، جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں (2) نیک اولاد جو مرنے والے کے لئے دعا کرے (3) یا صدقہ جاریہ، جس سے اس کے مرنے کے بعد بھی لوگ فیض یاب ہوں“۔ (صحيح مسلم، كتاب الوصية، باب ما يلحق الإنسان من الثواب بعد وفاته) دوسرا مطلب آثَارَهُمْ کا نشانات قدم ہے۔ یعنی انسان نیکی یا بدی کے لئے جو سفر کرتا اور ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتا ہے تو قدموں کے یہ نشانات بھی لکھے جاتے ہیں۔ جیسے عہد رسالت میں مسجد نبوی کے قریب کچھ جگہ خالی تھی تو بنوسلمہ نے ادھر منتقل ہونے کا ارادہ کیا، جب نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) کے علم میں یہ بات آئی تو آپ (صلى الله عليه وسلم) نے انہیں مسجد کے قریب منتقل ہونے سے روک دیا اور فرمایا : «دَيَاركُمْ تُكْتَبْ آثَارُكُمْ» (دو مرتبہ فرمایا) یعنی تمہارے گھر اگرچہ دور ہیں، لیکن وہیں رہو، جتنے قدم تم چل کر آتے ہو، وہ لکھے جاتے ہیں۔ (صحيح مسلم، كتاب المساجد، باب فضل كثرة الخطى إلى المساجد) امام ابن کثیر فرماتے ہیں۔ دونوں مفہوم اپنی جگہ صحیح ہیں، ان کے درمیان منافات نہیں ہے۔ بلکہ اس دوسرے مفہوم میں سخت تنبیہ ہے، اس لئے کہ جب قدموں کے نشانات تک لکھے جاتے ہیں، تو انسان جو اچھا یا برا نمونہ چھوڑ جائے جس کی لوگ بعد میں پیروی کریں تو وہ بطریق ادنیٰ لکھے جائیں گے۔ [3] اس سے مراد لوح محفوظ ہے اور بعض نے صحائف اعمال مراد لئے ہیں۔
Sungguh, Kamilah yang menghidupkan orang-orang yang mati, dan Kamilah yang mencatat apa yang telah mereka kerjakan dan bekas-bekas yang mereka (tinggalkan). Dan segala sesuatu Kami kumpulkan dalam Kitab yang jelas (Lauḥ Maḥfūẓ).
Muhakkak biz ölüleri diriltiriz. Onların ileri gönderdiklerini de, geride bıraktıklarını (izlerini) da yazarız. Biz, her şeyi apaçık bir kitapta (Levh-i Mahfûz'da) sayıp yazmışızdır.
C’est Nous qui allons ressusciter les morts dont Nous avons consigné les œuvres et les traces laissées par eux sur terre[2]. Tout a été minutieusement recensé dans un livre d’une grande clarté.
[2] Les conséquences, bonnes ou mauvaises, de leurs actes accomplis de leur vivant sont enregistrées même après leur mort.
12. Yo soy Quien resucita a los muertos, y registro lo que hagan de bien y lo que hagan del mal; todo lo tengo mencionado en un libro claro[1].
[1] La Tabla Protegida.
یقیناً ماییم که مردگان را زنده میکنیم و آنچه [از اعمال خیر و شر] را که از پیش فرستادهاند و آثار [به جایمانده از] آنان را مینویسیم؛ و همه چیز را در کتابی روشن [= لوح محفوظ] به شمار آوردهایم.
Gewiß, Wir sind es, Die Wir die Toten wieder lebendig machen. Und Wir schreiben auf, was sie vorausgeschickt haben und (auch) ihre Spuren. Alles haben Wir in einem deutlichen Verzeichnis erfaßt.
我必定要使死人复活,我必定要记录他们所作的善恶,和他们的事迹;我将一切事物,详明地记录在一册明白的范本中。