رُدُّوهَا عَلَىَّ ۖ فَطَفِقَ مَسْحًۢا بِٱلسُّوقِ وَٱلْأَعْنَاقِ ٣٣
Translations
[He said], "Return them to me," and set about striking[1326] [their] legs and necks.
[1326] With his sword as expiation. Some commentaries have also suggested the meaning of "stroking" with the hand.
Devolvei-mos". Então, começou a acariciar-lhes os curvilhões e os pescoços.[1]
[1] Segundo uma linha exegética, o cavalo, sempre, foi motivo de grande estima, por parte do profeta Salomão, que o considerava um meio ímpar nas guerras de conquista. Tanto assim que, este versículo, tal como o traduzimos, reafirma essa predileção e exclui a outra linha exegética que adota, para este versículo, a interpretação de que Salomão matara os cavalos, por o haverem afastado da oração, interpretação esta polêmica, pois é incompatível com a conduta de um profeta, gesto tão insensato.
それら(馬)を私のもとに、また連れて来い」。そして(馬が連れて来られると、)彼は(剣で)その足と首を打ち始めた。[1]
[1] 馬を殺したのではなく、愛情をもってたてがみと足を撫(な)でた、という解釈もある(アッ=タバリー8:7000参照)。
ان (گھوڑوں) کو دوباره میرے سامنے ﻻؤ! پھر تو پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا.[1]
[1] اس ترجمے کی رو سے أَحْبَبْتُ، بمعنی آثَرْتُ (ترجیح دینا) اور عَنْ بمعنی عَلَى ہے۔ اور تَوَارَتْ کا مرجع شَمْسٌ ہے جو آیت میں پہلے مذکور نہیں ہے، لیکن قرینہ اس پر دال ہے۔ اس تفسیر کی رو سے اگلی آیت میں۔ مَسْحًا بِالسُّوقِ وَالأَعْنَاقِ کا ترجمہ بھی ذبح کرنا ہوگا یعنی مَسْحًا بِالسَّيْف ِ کا مفہوم۔ مطلب ہوگا کہ گھوڑوں کے معاینہ میں حضرت سلیمان (عليه السلام) کی عصر کی نماز یا وظیفہ خاص رہ گیا جو اس وقت وہ کرتے تھے۔ جس پر انہیں سخت صدمہ ہوا اور کہنے لگے کہ میں گھوڑوں کی محبت میں اتنا وارفتہ اور گم ہو گیا کہ سورج پردۂ مغرب میں چھپ گیا اور اللہ کی یاد، نماز یا وظیفے سے غافل رہا۔ چنانچہ اس کی تلافی اور ازالے کے لئے انہوں نےسارےگھوڑے اللہ کی راہ میں قتل کر ڈالے۔ امام شوکانی اور ابن کثیر وغیرہ نے اس تفسیر کو ترجیح دی ہے۔ دیگر بعض مفسرین نے اس کی دوسری تفسیر کی ہے۔ اس کی رو سے عَنْ، أَجْلٌ کے معنی میں ہے أَيْ : لأَجْلِ ذِكْرِ رَبِّي، یعنی رب کی یاد کی وجہ سے میں ان گھوڑوں سے محبت رکھتا ہوں۔ یعنی اس کے ذریعے سے اللہ کی راہ میں جہاد ہوتا ہے۔ پھر ان گھوڑوں کو دوڑایا حتیٰ کہ وہ نظروں سے اوجھل ہوگئے۔ انہیں دوبارہ طلب کیا اور پیار ومحبت سے ان کی پندلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا خَيْرٌ، قرآن میں مال کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ یہاں یہ لفظ گھوڑو ں کے لئے آیا ہے۔ تَوَارَتْ کا مرجع گھوڑے ہیں۔ امام ابن جریر طبری نے اس دوسری تفسیر کو ترجیح دی ہے اور یہی تفسیر متعدد وجوہ سےصحیح لگتی ہے۔ واللهُ أَعْلَمُ۔
"Bawalah semua kuda itu kembali kepadaku." Lalu dia mengusap-usap kaki dan leher kuda itu.[752]
[752] Sebagian mufasir ada yang menerjemahkan ayat 33 demikian, “Bawalah kembali semua itu kepadaku, lalu dia memotong kaki dan lehernya.”
“Onları bana geri getirin.” (dedi). Sonra da (onların) bacaklarını ve boyunlarını vurmaya başladı.
Qu’on me les ramène. » Il se mit alors à leur trancher[11] les jarrets et les encolures.
[11] Ou : leur caresser.
33. [Dijo Salomón:] “Traédmelos”. Y acarició sus cuellos y sus patas.[1]
[1] Algunos exégetas interpretan que, debido a que lo hicieron olvidar la oración, el Profeta Salomón ordenó sacrificar a los caballos y que su carne fuera repartida entre los pobres.
[بار دیگر] آنها را نزدم بازگردانید». آنگاه [به نشانۀ وقف در راهِ الله] به ساقها و گردنها[ی آن اسبها] دست کشید.
Bringt sie mir wieder her. Da begann er, ihnen die Beine und den Hals zu zerhauen.
他说:“你们将它们赶回来吧!”他就着手抚摩那些马的腿部和颈部。