۞ وَٱلْمُحْصَنَٰتُ مِنَ ٱلنِّسَآءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَٰنُكُمْ ۖ كِتَٰبَ ٱللَّهِ عَلَيْكُمْ ۚ وَأُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَآءَ ذَٰلِكُمْ أَن تَبْتَغُوا۟ بِأَمْوَٰلِكُم مُّحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَٰفِحِينَ ۚ فَمَا ٱسْتَمْتَعْتُم بِهِۦ مِنْهُنَّ فَـَٔاتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِيضَةًۭ ۚ وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا تَرَٰضَيْتُم بِهِۦ مِنۢ بَعْدِ ٱلْفَرِيضَةِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًۭا ٢٤
Translations
And [also prohibited to you are all] married women except those your right hands possess.[177] [This is] the decree of Allāh upon you. And lawful to you are [all others] beyond these, [provided] that you seek them [in marriage] with [gifts from] your property, desiring chastity, not unlawful sexual intercourse. So for whatever you enjoy [of marriage] from them, give them their due compensation[178] as an obligation. And there is no blame upon you for what you mutually agree to beyond the obligation. Indeed, Allāh is ever Knowing and Wise.
[177] i.e., slaves or war captives who had polytheist husbands. [178] The mahr, a specified gift to the bride required of the man upon marriage.
E vos é proibido esposardes as mulheres casadas, exceto as escravas que possuís.[1] É prescrição de Allah para vós. E vos é lícito, além disso, buscardes mulheres com vossas riquezas, para as esposardes, e não para cometerdes adultério. E àquelas com as quais vos deleitardes, concedei-lhes seu dote como direito preceituado.[2] E não há culpa sobre vós, pelo que acordais, mutuamente, depois do preceituado. Por certo, Allah é Onisciente, Sábio.
[1] Cf. IV 3 n2. [2] Cf. IV 4 n3.
また、夫のある女性(もあなた方に禁じられた)。但しあなた方の右手の所有する者(奴隷*女性)は別である[1]。あなた方に対するアッラー*のご命令として(、アッラー*はこれらの女性との結婚を禁止された)。それら以外(の女性)であれば、あなた方が自らの財産(婚資金*)をもって、貞淑に、姦淫を犯すことなく、(彼女らとの結婚を)望むことは、あなた方に許されている。あなた方が彼女らから悦びを得たら、義務として定められた婚資金*を、彼女らに贈れ[2]。義務(である、結婚契約における婚資金*額の合意)の後、あなた方(双方)が合意したものについては、(その額を変更しても)あなた方に罪はない。本当にアッラー*はもとより、全知者、英知あふれる*お方である。
[1] これは、戦争の際に捕虜となり奴隷*となった、夫がある女性のこと。このような者は、一回の月経を確認した後、結婚するいことが合法となる(ムヤッサル82頁参照)。 [2] イスラーム*法に沿った正しい結婚の下、妻と性交渉をした時点で、前もって合意していた婚資金*の全額支払い義務が確定する(アル=クルトゥビー5:129参照)。
اور (حرام کی گئیں) شوہر والی عورتیں مگر وه جو تمہاری ملکیت میں آجائیں[1] ، اللہ تعالیٰ نے یہ احکام تم پر فرض کر دیئے ہیں، اور ان عورتوں کے سوا اور عورتیں تمہارے لئے حلال کی گئیں کہ اپنے مال کے مہر سے تم ان سے نکاح کرنا چاہو برے کام سے بچنے کے لئے نہ کہ شہوت رانی کرنے کے لئے[2]، اس لئے جن سے تم فائده اٹھاؤ انہیں ان کا مقرر کیا ہوا مہر دے دو[3]، اور مہر مقرر ہو جانے کے بعد تم آپس کی رضامندی سے جو طے کرلو اس میں تم پر کوئی گناه نہیں[4]، بے شک اللہ تعالیٰ علم واﻻ حکمت واﻻ ہے۔
[1] قرآن کریم میں ”إِحْصَانٌ“ چار معنوں میں مستعمل ہوا ہے۔ (1) شادی (2) آزادی (3) پاک دامنی (4) اور اسلام۔ اس اعتبار سے محصنات کے چار مطلب ہیں (1) شادی شدہ عورتیں (2) آزاد عورتیں (3) پاک دامن عورتیں (4) اور مسلمان عورتیں۔ یہاں پہلا معنی مراد ہے۔ اس کی شان نزول میں آتا ہے کہ جب بعض جنگوں میں کافروں کی عورتیں بھی مسلمانوں کی قید میں آگئیں تو مسلمانوں نے ان سے ہم بستری کرنے میں کراہت محسوس کی کیونکہ وہ شادی شدہ تھیں۔ صحابہ (رضي الله عنهم) نے نبی (صلى الله عليه وسلم) سے پوچھا، جس پر یہ آیت نازل ہوئی (ابن کثیر) جس سے یہ معلوم ہوا کہ جنگ میں حاصل ہونے والی کافر عورتیں، جب مسلمانوں کی لونڈیاں بن جائیں تو شادی شدہ ہونے کے باوجود ان سے مباشرت کرنا جائز ہے۔ البتہ استبرائے رحم ضروری ہے۔ یعنی ایک حیض آنے کے بعد یا حاملہ ہیں تو وضع حمل کے بعد ان سے جنسی تعلق قائم کیا جائے۔ لونڈی کا مسئلہ:نزول قرآن کے وقت غلام اور لونڈی کا سلسلہ عام تھا جسے قرآن نے بند نہیں کیا، البتہ ان کے بارے میں ایسی حکمت عملی اختیار کی گئی کہ جس سے غلاموں اور لونڈیوں کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں حاصل ہوں تاکہ غلامی کی حوصلہ شکنی ہو۔ اس کے دو ذریعے تھے۔ ایک توبعض خاندان صدیوں سے ایسے چلے آرہے تھے کہ ان کے مرد اور عورت فروخت کر دیئے جاتے تھے۔ یہی خریدے ہوئے مرد وعورت غلام اور لونڈی کہلاتے تھے۔ مالک کو ان سے ہر طرح کے استمتاع (فائدہ اٹھانے) کا حق حاصل ہوتا تھا۔ دوسرا ذریعہ جنگ میں قیدیوں والا تھا، کہ کافروں کی قیدی عورتوں کو مسلمانوں میں تقسیم کر دیا جاتا تھا اوروہ ان کی لونڈیاں بن کر ان کے پاس رہتی تھیں۔ قیدیوں کے لئے یہ بہترین حل تھا۔ کیونکہ اگر انہیں معاشرے میں یوں ہی آزاد چھوڑ دیا جاتا تو معاشرے میں ان کے ذریعے سے فساد پیدا ہوتا (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو کتاب الرق فی الاسلام، اسلام میں غلامی کی حقیقت از مولانا سعید احمد اکبر آبادی) بہر حاصل مسلمان شادی شدہ عورتیں تو ویسے ہی حرام ہیں تاہم کافر عورتیں بھی حرام ہی ہیں الاّ یہ کہ وہ مسلمانوں کی ملکیت میں آجائیں۔ اس صورت میں استبرائے رحم کے بعد وہ ان کے لئے حلال ہیں۔ [2] یعنی مذکورہ محرمات قرآنی اور حدیثی کے علاوہ دیگر عورتوں سے نکاح کرنا جائز ہے۔ بشرطیکہ چار چیزیں اس میں ہوں، اول یہ کہ طلب کرو ”أَنْ تَبْتَغُوا“ یعنی دونوں طرف سے ایجاب وقبول ہو۔ دوسری یہ کہ مال یعنی مہر ادا کرنا قبول کرو، تیسری یہ کہ ان کو شادی کی قید (دائمی قبضے) میں لانا مقصود ہو۔ صرف شہوت رانی غرض نہ ہو (جیسے زنا میں یا اس متعہ میں ہوتا ہے جو شیعوں میں رائج ہے یعنی جنسی خواہش کی تسکین کے لئے چند روز یا چند گھنٹوں کا نکاح )۔ چوتھی یہ کہ چھپی یاری دوستی نہ ہو بلکہ گواہوں کی موجودگی میں نکاح ہو۔ یہ چاروں شرطیں اس آیت سے مستفاد ہیں۔ اس سے جہاں شیعوں کے متعہ کا بطلان ہوتا ہے وہیں مروجہ حلالہ کا بھی ناجائز ہونا ثابت ہوتا ہے کیونکہ اس کا مقصد بھی عورت کو نکاح کی دائمی قید میں لانا نہیں ہوتا، بلکہ عرفاً یہ صرف ایک رات کے لئے مقرر اور معہود ذہنی ہے۔ [3] یہ اس امرکی تاکید ہے کہ جن عورتوں سے تم نکاح شرعی کے ذریعے سے استمتاع اور تلذذ کرو۔ انہیں ان کا مقرر کردہ مہر ضرور ادا کرو۔ [4] اس میں آپس کی رضا مندی سے مہر میں کمی بیشی کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ ملحوظة: استمتاع کے لفظ سے شیعہ حضرات نکاح متعہ کا اثبات کرتے ہیں۔ حالانکہ اس سے مراد نکاح کے بعد صحبت ومباشرت کا استمتاع ہے، جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے۔ البتہ متعہ ابتدائے اسلام میں جائز رہا ہے اور اس کا جواز اس آیت کی بنیاد پر نہیں تھا، بلکہ اس رواج کی بنیاد پر تھا جو اسلام سے قبل چلا آرہا تھا۔ پھر نبی (صلى الله عليه وسلم) نے نہایت واضح الفاظ میں اسے قیامت تک کے لئے حرام کر دیا۔
Dan (diharamkan juga kamu menikahi) perempuan yang bersuami, kecuali hamba sahaya perempuan (tawanan perang) yang kamu miliki[187] sebagai ketetapan Allah atas kamu. Dan dihalalkan bagimu selain (perempuan-perempuan) yang demikian itu[188] jika kamu berusaha dengan hartamu untuk menikahinya bukan untuk berzina. Maka karena kenikmatan yang telah kamu dapatkan dari mereka, berikanlah maskawinnya kepada mereka sebagai suatu kewajiban. Tetapi tidak mengapa jika ternyata di antara kamu telah saling merelakannya, setelah ditetapkan.[189] Sungguh, Allah Maha Mengetahui, Mahabijaksana.
[187] Perempuan-perempuan yang dimiliki yang suaminya tidak ikut tertawan bersamanya. Penjelasan selanjutnya lihat An-Nisā` (4): 3. [188] Selain dari perempuan yang tersebut dalam An-Nisā` (4): 23. [189] Menambah, mengurangi atau tidak membayar sama sekali maskawin yang telah ditetapkan.
Maliki bulunduğunuz cariyeler müstesna, evli kadınlarla evlenmeniz de haram kılındı. Bunlar, Allah'ın üzerinize farz kıldığı hükümlerdir. Bunların dışında kalanlar ise, iffetli yaşamak ve zina etmemek şartıyla mallarınızla (mehirlerini verip) istemeniz size helâl kılındı. Onlardan (nikâhlanıp) faydalanmanıza karşılık sabit bir hak olarak kendilerine mehirlerini verin. Mehir belirlendikten sonra, onunla ilgili olarak uzlaştığınız şeyler konusunda size günah yoktur. Şüphesiz ki Allah, (her şeyi) hakkıyla bilendir, hüküm ve hikmet sahibidir.
Vous sont également interdites les femmes mariées, à l’exception de celles capturées à la guerre. Voici ce qu’Allah vous prescrit. En dehors de cela, il vous est permis d’user de vos biens pour vous unir par voie légale, non en débauchés. Remettez donc obligatoirement une dot à celle avec laquelle le mariage a été consommé. Vous ne commettez cependant aucun péché si, d’un commun accord, vous décidez de modifier la dot préalablement fixée. Allah, en vérité, est Omniscient et infiniment Sage.
24. Se prohíbe contraer matrimonio con una mujer casada. Es permitido con una esclava. Esta es la ley de Dios. Fuera de las prohibiciones, es lícito que busquen casarse pagando la dote correspondiente, pero con intención de matrimonio y no de fornicar. Es una obligación dar a la mujer la dote convenida una vez consumado el matrimonio. Pero no incurren en falta si después de haber cumplido con esta obligación legal, deciden algo distinto de mutuo acuerdo. Dios es Sabio, todo lo sabe.
و زنان شوهردار [نیز بر شما حرامند]؛ مگر زنانی که [کنیزتان هستند و شما از راه اسارت] مالک آنها شدهاید. [این] فریضۀ الهی است که بر شما مقرر داشته است و غیر از اینها [که گفته شد،] برایتان حلال است که ـ در حالی که پاکدامنی میورزید و زناکار نیستید ـ با اموال خود [زنان دیگر را] طلب کنید. پس آن زنانی را که [به ازدواج درآوردید و] از آنان کام گرفتید، باید مهریهشان را به عنوان فریضهای به آنان بدهید و در مورد آنچه بعد از تعیین مهریه [در مورد بیش و کمِ آن] با یکدیگر توافق میکنید، گناهی بر شما نیست. بیگمان، الله دانای حکیم است.
Und (verboten sind euch) von den Frauen die verheirateten, außer denjenigen, die eure rechte Hand besitzt. (Dies gilt) als Allahs Vorschrift für euch. Erlaubt ist euch, was darüber hinausgeht, (nämlich) daß ihr mit eurem Besitz (Frauen) begehrt zur Ehe und nicht zur Hurerei (Frauen). Welche von ihnen ihr dann genossen habt, denen gebt ihren Lohn als Pflichtteil. Es liegt aber keine Sünde für euch darin, daß ihr, nachdem der Pflichtteil (festgelegt) ist, (darüberhinausgehend) euch miteinander einigt. Gewiß, Allah ist Allwissend und Allweise.
(他又严禁你们娶)有丈夫的妇女,但你们所管辖的妇女除外;安拉以此为你们的定制。除此外,一切妇女,对于你们是合法的,你们可以借你们自己的财产而谋与妇女结合,但你们应当是贞洁的,不可是淫荡的。既与你们成婚的妇女,你们应当把已决定的聘仪交给她们。既决定聘仪之后,你们双方同意的事,对于你们是毫无罪过的。安拉确是全知的,确是至睿的。