فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍۭ بِشَهِيدٍۢ وَجِئْنَا بِكَ عَلَىٰ هَٰٓؤُلَآءِ شَهِيدًۭا ٤١
Translations
So how [will it be] when We bring from every nation a witness and We bring you, [O Muḥammad], against these [people] as a witness?
Então, como estarão, quando trouxermos de cada comunidade uma testemunha, e te trouxermos, Muhammad, por testemunha contra esses?
(使徒*よ、復活の日*、)われら*が各共同体から証人[1]を連れて来たら、そしてあなたをこれらの者たち[2]に対する証人として連れて来たら、(彼らの有様は)いかなるものとなろうか?
[1] アッラー*の教えをその民に伝達した、各使徒*のこと。民が使徒*に対し、どのような態度でもって応じたかを証言する(ムヤッサル85頁参照)。 [2] 「これらの者たち」には、「彼の全共同体」「クライシュ族*の不信仰者*を筆頭とする、全ての不信仰者*」といった説がある(アル=クルトゥビー5:198参照)。
پس کیا حال ہوگا جس وقت کہ ہر امت میں سے ایک گواه ہم ﻻئیں گے اور آپ کو ان لوگوں پر گواه بناکر ﻻئیں گے۔[1]
[1] ہر امت میں سے اس کا پیغمبر اللہ کی بارگاہ میں گواہی دے گا کہ یااللہ ! ہم نے تو تیرا پیغام اپنی قوم کو پہنچا دیا تھا، اب انہوں نے نہیں مانا تو ہمارا کیا قصور ؟ پھر ان سب پر نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) گواہی دیں گے کہ یا اللہ! یہ سچے ہیں۔ آپ (صلى الله عليه وسلم) یہ گواہی اس قرآن کی وجہ سے دیں گے جو آپ (صلى الله عليه وسلم) پر نازل ہوا اور جس میں گزشتہ انبیاء اور ان کی قوموں کی سرگزشت بھی حسب ضرورت بیان کی گئی ہے۔ یہ ایک سخت مقام ہوگا، اس کا تصور ہی لرزہ براندام کر دینے والا ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) نے حضرت عبداللہ بن مسعود (رضی اللہ عنہ) سے قرآن سننے کی خواہش ظاہر فرمائی، وہ سناتے ہوئے جب اس آیت پر پہنچے تو آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا: ”بس، اب کافی ہے“۔ حضرت ابن مسعود (رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا تو آپ (صلى الله عليه وسلم) کی دونوں آنکھوں میں آنسو رواں تھے۔ (صحيح بخاري، فضائل القرآن) بعض لوگ کہتے ہیں کہ گواہی وہی دے سکتا ہے جو سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھے۔ اس لئے وہ شہید (گواہ) کے معنی حاضر ناظر کے کرتے ہیں اور یوں نبی (صلى الله عليه وسلم) کو حاضر ناظر باور کراتے ہیں۔ لیکن نبی (صلى الله عليه وسلم) کو حاضر ناظر سمجھنا، یہ آپ (صلى الله عليه وسلم) کو اللہ کی صفت میں شریک کرنا ہے جو شرک ہے کیونکہ حاضر وناظر صرف اللہ تعالیٰ کی صفت ہے۔ شہید کے لفظ سے ان کا استدلال اپنے اندر کوئی قوت نہیں رکھتا۔ اس لئے کہ شہادت یقینی علم کی بنیاد پر بھی ہوتی ہے اور قرآن میں بیان کردہ حقائق وواقعات سے زیادہ یقینی علم کس کا ہو سکتا ہے؟ اسی یقینی علم کی بنیاد پر خود امت محمدیہ کو بھی قرآن نے ”شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ“ (تمام کائنات کے لوگوں پر گواہ) کہا ہے۔ اگر گواہی کے لئے حاضر وناظر ہونا ضروری ہے تو پھر امت محمدیہ کے ہر فرد کو حاضر وناظر ماننا پڑے گا۔ بہرحال نبی (صلى الله عليه وسلم) کے بارے میں یہ عقیدہ مشرکانہ اور بے بنیاد ہے۔ أَعَاذَنَا اللهُ مِنْهُ
Dan bagaimanakah (keadaan orang kafir nanti), jika Kami mendatangkan seorang saksi (Rasul) dari setiap umat dan Kami mendatangkan engkau (Muhammad) sebagai saksi atas mereka.
Her ümmetten bir şahit getirdiğimiz ve seni de onların üzerine bir şahit yaptığımız zaman, bakalım onların hâli nice olacak!
Qu’en sera-t-il des hommes lorsque, le Jour de la résurrection, Nous ferons venir le prophète de chaque nation comme témoin et que Nous te ferons venir pour témoigner contre ceux-là ?
41. ¿Qué pasará cuando traiga a un testigo de cada comunidad y te traiga a ti [¡Oh, Mujámmad!] como testigo contra los que niegan la verdad [y las gracias de Dios]?
و [حال و روزِ ناباوران] چگونه باشد آنگاه که از هر امتی شاهدی را [که پیامبر همان امت باشد] به میان آوریم و تو را [نیز ای پیامبر، دربارۀ ابلاغ پیام الهی] بر اینان گواه آوریم؟
Aber wie (wird es sein), wenn Wir von jeder Gemeinschaft einen Zeugen bringen und dich über diese da als Zeugen bringen?
当我从每个民族中召来一个见证者,并召你来作证这等人的时候,〔他们的情状〕将怎样呢?