فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا۟ فِىٓ أَنفُسِهِمْ حَرَجًۭا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًۭا ٦٥
Translations
But no, by your Lord, they will not [truly] believe until they make you, [O Muḥammad], judge concerning that over which they dispute among themselves and then find within themselves no discomfort from what you have judged and submit in [full, willing] submission.
Então, por teu Senhor! Não crerão; até que te tomem por árbitro das dissensões entre eles, em seguida, não encontrem, em si mesmos, constrangimento no que julgaste, e até que se submetam, completamente.
あなたの主*に誓って。彼らの間の争いに関して、彼らがあなたにその裁定を仰ぎ、それからあなたが裁決したことについて、彼らが自分自身の内に少しの不満も見出さず、完全に受け入れるようになるまでは、彼らは(真に)信仰してはいないのである[1]
[1] 部族連合章36も参照。
سو قسم ہے تیرے پروردگار کی! یہ مومن نہیں ہو سکتے، جب تک کہ تمام آپس کے اختلاف میں آپ کو حاکم نہ مان لیں، پھر جو فیصلے آپ ان میں کر دیں ان سے اپنے دل میں اور کسی طرح کی تنگی اور ناخوشی نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کر لیں۔[1]
[1] اس آیت کی شان نزول میں ایک یہودی اور مسلمان کا واقعہ عموماً بیان کیا جاتا ہے جوبارگاہ رسالت سے فیصلے کے باوجود حضرت عمر (رضي الله عنه) سے فیصلہ کروانے گیا جس پر حضرت عمر (رضي الله عنه) نے اس مسلمان کا سر قلم کر دیا۔ لیکن سنداً یہ واقعہ صحیح نہیں ہے جیسا کہ ابن کثیر نے بھی وضاحت کی ہے۔ صحیح واقعہ ہے جو اس آیت کے نزول کا سبب ہے کہ حضرت زبیر (رضی اللہ عنہ) کا جو رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) کے پھوپھی زاد تھے۔ اور ایک آدمی کا کھیت کو سیراب کرنے والے (نالے) کے پانی پر جھگڑا ہو گیا۔ معاملہ نبی (صلى الله عليه وسلم) تک پہنچا آپ (صلى الله عليه وسلم) نے صورت حال کا جائزہ لے کر جو فیصلہ دیا تو وہ اتفاق سے حضرت زبیر (رضي الله عنه) کے حق میں تھا، جس پر دوسرے آدمی نے کہا کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) نے یہ فیصلہ اس لئے کیا ہے کہ وہ آپ (صلى الله عليه وسلم) کا پھوپھی زاد ہے، اس پر یہ ایت نازل ہوئی (صحيح بخاري تفسير سورة النساء) آیت کا مطلب یہ ہوا کہ نبی (صلى الله عليه وسلم) کی کسی بات یا فیصلے سے اختلاف تو کجا، دل میں انقباض بھی محسوس کرنا ایمان کے منافی ہے۔ یہ آیت بھی منکرین حدیث کے لئے تو ہے ہی، دیگر افراد کے لئے بھی لمحہ فکریہ ہے جو قول امام کے مقابلے میں حدیثِ صحیح سے انقباض ہی محسوس نہیں کرتے بلکہ یا تو کھلے لفظوں میں اس ماننے سے انکار کر دیتے ہیں۔ یا اس کی دور ازکار تاویل کرکے یا ثقہ راویوں کو ضعیف باور کرا کے مسترد کرنے کی مذموم سعی کرتے ہیں۔
Maka demi Tuhanmu, mereka tidak beriman sebelum mereka menjadikan engkau (Muhammad) sebagai hakim dalam perkara yang mereka perselisihkan, (sehingga) kemudian tidak ada rasa keberatan dalam hati mereka terhadap putusan yang engkau berikan, dan mereka menerima dengan sepenuhnya.
Hayır! Rabbine andolsun ki, aralarında çekiştikleri konularda seni hakem kılıp, verdiğin hükme kalplerinde hiçbir sıkıntı duymadan tam bir teslimiyetle teslim olmadıkça iman etmiş olmazlar.
Par ton Seigneur ! Ils ne seront pas croyants tant qu’ils ne porteront pas devant toi leurs différends et n’accepteront pas sans rancœur ton jugement, se soumettant entièrement à ta décision.
65. Pero no, [juro] por tu Señor que no creerán [realmente] a menos que te acepten como juez de sus disputas, y no se resistan a aceptar tu decisión y se sometan completamente.
نه؛ سوگند به پروردگارت [ای محمد] که آنان ایمان نمیآورند مگر اینکه در اختلافاتشان تو را داور قرار دهند و از داوری تو در دلِ خویش احساس ناراحتی نکنند و کاملاً تسلیم [حکم تو] باشند.
Aber nein, bei deinem Herrn! Sie glauben nicht eher, bis sie dich über das richten lassen, was zwischen ihnen umstritten ist, und hierauf in sich selbst keine Bedrängnis finden durch das, was du entschieden hast, und sich in voller Ergebung fügen.
指你的主发誓,他们不信道,直到他们请你判决他们之间的纷争,而他们的心里对于你的判决毫无芥蒂,并且他们完全顺服。