وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًۭا مُّتَعَمِّدًۭا فَجَزَآؤُهُۥ جَهَنَّمُ خَٰلِدًۭا فِيهَا وَغَضِبَ ٱللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُۥ وَأَعَدَّ لَهُۥ عَذَابًا عَظِيمًۭا ٩٣
Translations
But whoever kills a believer intentionally - his recompense is Hell, wherein he will abide eternally, and Allāh has become angry with him and has cursed him and has prepared for him a great punishment.
E quem mata um crente intencionalmente, sua recompensa será a Geena; nela será eterno, e Allah irar-Se-á contra ele, e amaldiçoá-lo-á e preparar-lhe-á formidável castigo.
一方、誰であろうと信仰者を故意に殺める者、その報いは地獄である。(彼は)そこに永遠に留まる。そしてアッラー*は彼をお怒りになり、彼を呪われ[1]、彼のためにこの上ない懲罰をご用意になる。[2]
[1] 「アッラー*の呪い」については、雌牛章88の訳注参照。 [2] 先代・後代の学者の大半は、故意の殺人者にも悔悟の余地は残されており、真に悔悟し、従順なしもべとなり、正しい行い*を行うならば、悪行は善行に替えてもらえるとする。また、信仰者が地獄に永遠に留まることがないことは、多くの伝承によって明らかにされている(イブン・カスィール2:380-381参照)。識別章68-71も参照。
اور جو کوئی کسی مومن کو قصداً قتل کر ڈالے، اس کی سزا دوزخ ہے جس میں وه ہمیشہ رہے گا، اس پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہے[1] ، اسے اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے اور اس کے لئے بڑا عذاب تیار رکھا ہے۔[2]
[1] یہ قتل عمد کی سزا ہے۔ قتل کی تین قسمیں ہیں۔ (1) قتل خطا (جس کا ذکر ماقبل کی آیت میں ہے)۔ (2) قتل شبہ عمد جو حدیث سے ثابت ہے، (3) قتل عمد جس کا مطلب ہے، ارادہ اور نیت سے کسی کو قتل کرنا اور اس کے لئے وہ آلہ استعمال کرنا جس سے فی الواقع عادتاً قتل کیا جا رہا ہے جیسے تلوار، خنجر وغیرہ۔ آیت میں مومن کے قتل پر نہایت سخت وعید بیان کی گئی ہے۔ مثلاً اس کی سزا جہنم ہے، جس میں ہمیشہ رہنا ہوگا، نیز اللہ کا غضب اور اس کی لعنت اور عذاب عظیم بھی ہوگا۔ اتنی سخت سزائیں بیک وقت کسی بھی گناہ کی بیان نہیں کی گئیں۔ جس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ایک مومن کو قتل کرنا اللہ کے ہاں کتنا جرم ہے۔ احادیث میں بھی اس کی سخت مذمت اور اس پر سخت وعیدیں بیان کی گئی ہیں۔ [2] مومن کے قاتل کی توبہ قبول ہے یا نہیں؟ بعض علماء مذکورہ سخت وعیدوں کے پیش نظر قبولِ توبہ کے قائل نہیں۔ لیکن قرآن وحدیث کی نصوص سے واضح ہے کہ خالص توبہ سے ہر گناہ معاف ہو سکتا ہے۔ ”إِلا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلا صَالِحًا“ ( الفرقان: 70) اور دیگر آیات توبہ عام ہیں۔ ہرگناہ چاہے چھوٹا ہو یا بڑا یا بہت بڑا توبہ النصوح سے اس کی معافی ممکن ہے۔ یہاں اس کی سزا جہنم جو بیان کی گئی ہے اس کا مطلب ہے کہ اگر اس نے توبہ نہیں کی تو اس کی یہ سزا ہے جو اللہ تعالیٰ اس جرم پر اسے دے سکتا ہے۔ اسی طرح توبہ نہ کرنے کی صورت میں خلود (ہمیشہ جہنم میں رہنے) کا مطلب بھی مُكْثٌ طَوِيلٌ (لمبی مدت) ہے۔ کیونکہ جہنم میں خلود کافروں اور مشرکوں کے لئے ہی ہے۔ علاوہ ازیں قتل کا تعلق اگرچہ حقوق العباد سے ہے تو جو توبہ سے بھی ساقط نہیں ہوتے لیکن اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے بھی اس کی تلافی اور ازالہ فرما سکتا ہے اس طرح مقتول کو بھی بدلہ مل جائے گا اور قاتل کی بھی معافی ہو جائے گی۔ (فتح القدیر وابن کثیر )
Dan barang siapa membunuh seorang yang beriman dengan sengaja, maka balasannya ialah neraka Jahanam, dia kekal di dalamnya. Allah murka kepadanya, dan melaknatnya serta menyediakan azab yang besar baginya.
Kim bir Mümini kasten öldürürse cezası, içinde ebedi kalacağı Cehennem'dir. Allah, ona gazap etmiş, onu lanetlemiş ve ona büyük bir azap hazırlamıştır.
Quant à celui qui tue intentionnellement un croyant, il est voué, pour prix de son geste, à la Géhenne où il demeurera, poursuivi par la colère et la malédiction d’Allah qui lui a préparé d’affreux tourments[57].
[57] A moins qu’il ne se repente de son geste, précisent nombre d’exégètes.
93. Quien asesine a un creyente con premeditación será condenado a permanecer eternamente en el Infierno, además caerá en la ira de Dios, y recibirá Su maldición y un castigo terrible.
و هر کس مؤمنی را عمداً به قتل برساند، کیفرش دوزخ است [که] در آن جاودانه میمانَد و الله بر وی خشم میگیرد و او را از رحمت خویش دور میسازد و عذاب بزرگی برایش آماده ساخته است.
Und wer einen Gläubigen vorsätzlich tötet, dessen Lohn ist die Hölle, ewig darin zu bleiben. Und Allah zürnt ihm und verflucht ihn und bereitet ihm gewaltige Strafe.
谁故意杀害一个信士,谁要受火狱的报酬,而永居其中,且受安拉的谴怒和弃绝,安拉已为他预备重大的刑罚。