إِنَّآ أَنزَلْنَٰهُ فِى لَيْلَةٍۢ مُّبَٰرَكَةٍ ۚ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ ٣
Translations
Indeed, We sent it down during a blessed night.[1459] Indeed, We were to warn [mankind].
[1459] The Night of Decree (Qadr). See Sūrah al-Qadr.
Por certo, Nós o fizemos descer em uma noite bendita,[1] por certo, somos Admoestadores.
[1] Noite bendita: a noite de Al Qadr, ou seja, a noite da Glória, na qual se iniciou a Revelação do Alcorão.
本当にわれら*は祝福あふれる(誉れの)夜*に、それを下した。われら*こそは、もとより(使徒*を遣わし、啓示を下す)警告者なのだ。
یقیناً ہم نے اسے بابرکت رات[1] میں اتارا ہے بیشک ہم ڈرانے والے ہیں.[2]
[1] بابرکت رات «لَيْلَةٌ مُبَارَكَةٌ» سے مراد شب قدر «لَيْلَةُ الْقَدْرِ» ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر صراحت ہے «شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ» (البقرة: 185) ”رمضان کے مہینے میں قرآن نازل کیا گیا“ «إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ» (سورة القدر) ”ہم نے یہ قرآن شب قدر میں نازل فرمایا“۔ یہ شب قدر رمضان کے عشرۂ اخیر کی طاق راتوں میں سے ہی کوئی ایک رات ہوتی ہے۔ یہاں قدر کی اس رات کو بابرکت رات قرار دیا گیا ہے۔ اس کے بابرکت ہو نے میں کیا شبہ ہوسکتا ہے کہ ایک تو اس میں قرآن کا نزول ہوا۔ دوسرے، اس میں فرشتوں اور روح الامین کا نزول ہوتا ہے۔ تیسرے اس میں سارے سال میں ہونے والے واقعات کا فیصلہ کیا جاتا ہے، (جیسا کہ آگے آرہا ہے) چوتھے، اس رات کی عبادت ہزار مہینے (یعنی 83 سال 4 ماہ) کی عبادت سے بہتر ہے شب قدر یا لیلۂ مبارکہ میں قرآن کے نزول کا مطلب یہ ہے کہ اسی رات سے نبی (صلى الله عليه وسلم) پر قرآن مجید کا نزول شروع ہوا۔ یعنی پہلے پہل اسی رات آپ پر قرآن نازل ہوا۔ یا یہ مطلب ہے کہ لوح محفوظ سے اسی رات قرآن بیت العزت میں اتارا گیا جو آسمان دنیا پر ہے۔ پھر وہاں سے حسب ضرورت و مصلحت 23 سالوں تک مختلف اوقات میں نبی (صلى الله عليه وسلم) پر اترتا رہا۔ بعض لوگوں نے لیلۂ مبارکہ سے شعبان کی پندرھویں رات مراد لی ہے۔ لیکن یہ صحیح نہیں ہے، جب قرآن کی نص صریح سے قرآن کا نزول شب قدر میں ثابت ہے تو اس سے شب براءت مراد لینا کسی طرح بھی صحیح نہیں۔ علاوہ ازیں شب براء ت (شعبان کی پندرھویں رات) کی بابت جتنی بھی روایات آتی ہیں، جن میں اس کی فضیلت کا بیان ہے یا ان میں اسے فیصلے کی رات کہا گیا ہے، تو یہ سب روایات سنداً ضعیف ہیں۔ یہ قرآن کی نص صریح کا مقابلہ کس طرح کر سکتی ہیں؟ [2] یعنی نزول قرآن کا مقصد لوگوں کو نفع وضرر شرعی سے آگاہ کرنا ہے تاکہ ان پر حجت قائم ہوجائے۔
Sesungguhnya Kami menurunkannya pada malam yang diberkahi.[791] Sungguh, Kamilah yang memberi peringatan.
[791] Malam Al-Qur`an pertama kali diturunkan.
Biz onu, mübarek bir gecede indirdik. Biz, uyaranlarız.
Nous l’avons fait descendre par une nuit bénie[2] - Nous n’avons eu de cesse d’avertir les hommes -,
[2] La Nuit des décrets divins ou « Nuit du destin ».
3. que he revelado en una noche bendita[1]: ¡Les he advertido![2]
[1] La Noche del Decreto, en el mes de Ramadán. [2] Sobre el castigo que espera a quienes rechacen el monoteísmo y las enseñanzas de los Profetas.
[که] ما قرآن را در شب مبارک [و فرخندۀ قدر] نازل کردیم [زیرا] که ما [همواره] هشداردهنده بودهایم.
Wir haben es wahrlich in einer gesegneten Nacht herabgesandt - Wir haben ja (die Menschen) immer wieder gewarnt -,
在一个吉祥的夜间,我确已降示它,我确是警告者。