مَّثَلُ ٱلْجَنَّةِ ٱلَّتِى وُعِدَ ٱلْمُتَّقُونَ ۖ فِيهَآ أَنْهَٰرٌۭ مِّن مَّآءٍ غَيْرِ ءَاسِنٍۢ وَأَنْهَٰرٌۭ مِّن لَّبَنٍۢ لَّمْ يَتَغَيَّرْ طَعْمُهُۥ وَأَنْهَٰرٌۭ مِّنْ خَمْرٍۢ لَّذَّةٍۢ لِّلشَّٰرِبِينَ وَأَنْهَٰرٌۭ مِّنْ عَسَلٍۢ مُّصَفًّۭى ۖ وَلَهُمْ فِيهَا مِن كُلِّ ٱلثَّمَرَٰتِ وَمَغْفِرَةٌۭ مِّن رَّبِّهِمْ ۖ كَمَنْ هُوَ خَٰلِدٌۭ فِى ٱلنَّارِ وَسُقُوا۟ مَآءً حَمِيمًۭا فَقَطَّعَ أَمْعَآءَهُمْ ١٥
Translations
Is the description of Paradise, which the righteous are promised, wherein are rivers of water unaltered,[1498] rivers of milk the taste of which never changes, rivers of wine delicious to those who drink, and rivers of purified honey, in which they will have from all [kinds of] fruits and forgiveness from their Lord... [Are its inhabitants] like those who abide eternally in the Fire and are given to drink scalding water that will sever their intestines?
[1498] In taste or smell, neither stagnant nor polluted.
Eis o exemplo do Paraíso, prometido aos piedosos: nele, há rios de água nunca malcheirosa, e rios de leite, cujo sabor não se altera, e rios de vinho, deleitoso para quem o bebe, e rios de mel purificado. E, nele, terão todo tipo de frutos, e perdão de seu Senhor. São esses como os que, no Fogo, serão eternos, e aos quais se dará de beber água ebuliente, que lhes despedaçará os intestinos?
敬虔な*者たちに約束された天国の様子(とは、このようなもの):そこには、濁ることのない水の河川、その味わいが変わらない乳の河川、飲む者にとって美味な酒の河川、純粋な蜂蜜の河川がある。また、そこには彼らのためにあらゆる果実と、彼らの主からの(罪の)お赦しがある。(一体、この天国の中にある者は、)業火に永遠に留まり、煮えたぎる湯を飲ませられて腸が散り散りになってしまう者と、同様であろうか?
اس جنت کی صفت جس کا پرہیزگاروں سے وعده کیا گیا ہے، یہ ہے کہ اس میں پانی کی نہریں ہیں جو بدبو کرنے واﻻ نہیں[1] ، اور دودھ کی نہریں ہیں جن کا مزه نہیں بدﻻ[2] اور شراب کی نہریں ہیں جن میں پینے والوں کے لئے بڑی لذت ہے[3] اور نہریں ہیں شہد کی جو بہت صاف ہیں[4] اور ان کے لئے وہاں ہر قسم کے میوے ہیں اور ان کے رب کی طرف سے مغفرت ہے، کیا یہ مثل اس کے ہیں جو ہمیشہ آگ میں رہنے واﻻ ہے؟ اور جنہیں گرم کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا جو ان کی آنتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا.[5]
[1] آسِنٍ کے معنی، متغیر۔ یعنی بدل جانے والا، غیر آسن نہ بدلنے والا۔ یعنی دنیا میں تو پانی کسی ایک جگہ کچھ دیر پڑا رہے تو اس کا رنگ متغیر ہو جاتا ہے اور اس کی بو اور ذائقے میں تبدیلی آجاتی ہے جس سے وہ مضر صحت ہو جاتا ہے۔ جنت کے پانی کی یہ خوبی ہوگی کہ اس میں کوئی تغیر نہیں ہوگا۔ یعنی اس کی بو اور ذائقے میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ جب پیو، تازہ، مفرح اور صحت افزا جب دنیا کا پانی خراب ہو سکتا ہے تو شریعت نے اسی لئے پانی کی بابت کہا ہے کہ یہ پانی اس وقت تک پاک ہے، جب تک اس کا رنگ یا بو نہ بدلے، کیونکہ رنگ یا بو متغیر ہونے کی صورت میں پانی ناپاک ہو جائے گا۔ [2] جس طرح دنیا میں وہ دودھ بعض دفعہ خراب ہو جاتا ہے جو گایوں، بھینسوں اور بکریوں وغیرہ کے تھنوں سے نکلتا ہے۔ جنت کا دودھ چونکہ اس طرح جانوروں کے تھنوں سے نہیں نکلے گا، بلکہ اس کی نہریں ہوں گی، اس لئے، جس طرح وہ نہایت لذیذ ہوگا، خراب ہونے سے بھی محفوظ ہوگا۔ [3] دنیا میں جو شراب ملتی ہے، وہ عام طور پر تلخ، بدمزہ اور بدبو دار ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں پی کر انسان بالعموم حواس باختہ ہو جاتا ہے، اول فول بکتا ہے اور اپنے جسم تک کا ہوش اسے نہیں رہتا۔ جنت کی شراب دیکھنے میں حسین، ذائقے میں اعلیٰ اور نہایت خوشبودار ہوگی اور اسے پی کر کوئی انسان بہکے گا، نہ کوئی گرانی محسوس کرے گا۔ بلکہ ایسی لذت وفرحت محسوس کرے گا جس کا تصور اس دنیا میں ممکن نہیں جیسے دوسرے مقام پر فرمایا: «لا فِيهَا غَوْلٌ وَلا هُمْ عَنْهَا يُنْزَفُونَ» (سورة الصافات: 47) نہ اسے چکر آئے گا نہ عقل جائے گی۔ مزید دیکھئے (سورة الواقعة: 19)۔ [4] یعنی شہد میں بالعموم جن چیزوں کی آمیزش کا امکان رہتا ہے، جس کا مشاہدہ دنیا میں عام ہے جنت میں ایسا کوئی اندیشہ نہیں ہوگا۔ بالکل صاف شفاف ہوگا، کیونکہ یہ دنیا کی طرح مکھیوں سے حاصل کردہ نہیں ہوگا، بلکہ اس کی بھی نہریں ہوں گی۔ اسی لئے حدیث میں آتا ہے۔ نبی ﹲ نے فرمایا۔ جب بھی تم سوال کرو تو جنت الفردوس کی دعا کرو، اس لئے کہ وہ جنت کا درمیانہ اور اعلیٰ درجہ ہے اور وہیں سے جنت کی نہریں پھوٹتی ہیں اور اس کے اوپر رحمان کا عرش ہے (صحيح بخاري ، كتاب الجهاد، باب درجات المجاهدين في سبيل الله)۔ [5] یعنی جن کو جنت میں وہ اعلیٰ درجے نصیب ہوں گے جو مذکور ہوئے کیا وہ ایسے جہنمیوں کے برابر ہیں جن کا یہ حال ہوگا؟ ظاہر بات ہے ایسا نہیں ہوگا۔ بلکہ ایک درجات میں ہوگا اور دوسرا درکات (جہنم) میں۔ ایک نعمتوں میں داد طرب وعیش دے رہاہوگا، دوسرا عذاب جہنم کی سختیاں جھیل رہا ہوگا۔ ایک اللہ کا مہمان ہوگا جہاں انواع واقسام کی چیزیں اس کی تواضع اور اکرام کے لئے ہوں گی اور دوسرا اللہ کا قیدی، جہاں اس کوکھانے کے زقوم جیسا تلخ وکسیلا کھانا اور پینے کے لئے کھولتا ہوا پانی ملے گا۔ ببی تفاوت ره از کجا است تابه کجا
Perumpamaan taman surga yang dijanjikan kepada orang-orang yang bertakwa; di sana ada sungai-sungai yang airnya tidak payau, dan sungai-sungai air susu yang tidak berubah rasanya, dan sungai-sungai khamar (anggur yang tidak memabukkan) yang lezat rasanya bagi peminumnya, dan sungai-sungai madu yang murni. Di dalamnya mereka memperoleh segala macam buah-buahan, dan ampunan dari Tuhan mereka. Samakah mereka dengan orang yang kekal dalam neraka, dan diberi minuman dengan air yang mendidih, sehingga ususnya terpotong-potong?
Muttakilere vadedilen Cennet'in misali (şudur): İçinde bozulmayan su ırmakları, tadı bozulmayan süt ırmakları ve içenlere lezzet veren şarap ırmakları, süzme bal ırmakları... Onlara, orada her türlü meyve ve Rablerinden bağışlanma vardır. O; ebedi ateşte kalacak, kaynar su içirilip bağırsakları parça parça olacak kimseler gibi olur mu?
Voici la description du Paradis promis à ceux qui craignent leur Seigneur : y coulent des rivières dont l’eau jamais ne s’altère, des rivières de lait gardant toujours la même saveur, des rivières de vin délicieux à boire et des rivières de miel parfaitement pur. Ils y trouveront également des fruits de toutes sortes et le pardon de leur Seigneur. Ceux-là sont-ils comparables à ceux qui demeureront éternellement en Enfer où ils seront abreuvés d’une eau bouillante leur déchirant les entrailles ?
15. Así es la descripción del Paraíso que le fue prometido a los piadosos: hay ríos de agua que no se contaminan, ríos de leche que siempre tendrá buen sabor, ríos de vino[1] que será un deleite para quienes lo beban, y ríos de miel pura. Tendrán en él todas las frutas que deseen. Su Señor los perdonará. ¿Acaso quien disfrutará de estas gracias puede compararse con quien morará eternamente en el Infierno y beberá agua hirviendo que carcomerá sus intestinos?
[1] El vino del Paraíso no embriaga. Ver Corán 37:45-47.
توصیف بهشتى كه به پرهیزگاران وعده داده شده، [چنین است كه:] در آن، جویبارهایی از آبی [خالص و زلال] که بو و مزهاش تغییر نکرده؛ و جویبارهایی از شیری كه طعمش دگرگون نگشته؛ و جویبارهایی از شرابی كه مایۀ لذتِ نوشندگان است؛ و جویبارهایی از عسل ناب است؛ و همۀ [انواع] میوهها، در آنجا در دسترسشان است و [از همه برتر، از] آمرزشِ پروردگارشان [برخوردارند]. [آیا بهشتیان] همانند ساكنان جاودان دوزخند كه آبی چنان جوشان به آنان مینوشانند كه رودههایشان را متلاشى میكند؟
Das Gleichnis des (Paradies)gartens, der den Gottesfürchtigen versprochen ist: Darin sind Bäche mit Wasser, das nicht schal wird, und Bäche mit Milch, deren Geschmack sich nicht ändert, und Bäche mit Wein, der köstlich ist für diejenigen, die (davon) trinken, und Bäche mit geklärtem Honig. Und sie haben darin von allen Früchten und Vergebung von ihrem Herrn. (Sind diese denn) jemandem gleich, der im (Höllen)feuer ewig bleibt und dem heißes Wasser zu trinken gegeben wird, das seine Gedärme zerreißt?
敬畏的人们所蒙应许的乐园,其情状是这样的:其中有水河,水质不腐;有乳河,乳味不变;有酒河,饮者称快;有蜜河,蜜质纯洁;他们在乐园中,有各种水果,可以享受;还有从他们的主发出的赦宥。永居乐园者,难道与那永居火狱,常饮沸水,肠寸寸断的人是一样的吗?