قَالَ ٱللَّهُ إِنِّى مُنَزِّلُهَا عَلَيْكُمْ ۖ فَمَن يَكْفُرْ بَعْدُ مِنكُمْ فَإِنِّىٓ أُعَذِّبُهُۥ عَذَابًۭا لَّآ أُعَذِّبُهُۥٓ أَحَدًۭا مِّنَ ٱلْعَٰلَمِينَ ١١٥
Translations
Allāh said, "Indeed, I will send it down to you, but whoever disbelieves afterwards from among you - then indeed will I punish him with a punishment by which I have not punished anyone among the worlds."
Allah disse: "Por certo, far-vo-la-ei descer. Então, a quem de vós renegar a Fé, depois, por certo, castigá-lo-ei com um castigo com que jamais castigarei a alguém dos mundos"
アッラー*は仰せられた。「本当にわれは、それをあなた方に下す者である。そして誰であろうと、その後あなた方の内で不信仰に陥る者*、本当にわれは彼を、全創造物のいかなるものも罰することのない(ような)罰し方で、罰するであろう」。
حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ میں وه کھانا تم لوگوں پر نازل کرنے واﻻ ہوں، پھر جو شخص تم میں سے اس کے بعد ناحق شناسی کرے گا تو میں اس کو ایسی سزا دوں گا کہ وه سزا دنیا جہان والوں میں سے کسی کو نہ دوں گا۔[1]
[1] یہ ”مَائِدَةٌ“ (خوان طعام) آسمان سے اترا یا نہیں؟ اس کی بابت کوئی صحیح اور صریح مرفوع حدیث نہیں۔ جمہور علماء (امام شوکانی اور امام ابن جریر طبری سمیت) اس کے نزول کے قائل ہیں اور ان کا استدلال قرآن کے الفاظ ”إِنِّي مُنَزِّلُهَا عَلَيْكُمْ“ سے ہے کہ یہ اللہ کا وعدہ ہے جو یقیناً سچا ہے لیکن اسے اللہ کی طرف سے یقینی وعدہ قرار دینا اس لئے صحیح نہیں معلوم ہوتا کہ اگلے الفاظ ”فَمَنْ يَكْفُرْ“ اس وعدے کو مشروط ہونے کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس لئے دوسرے علماء کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ شرط سن کر انہوں نے کہا کہ پھر ہمیں اس کی ضرورت نہیں۔ جس کے بعد اس کا نزول نہیں ہوا۔ امام ابن کثیر نے ان آثار کی اسانید کو جو امام مجاہد اور حضرت حسن بصری سے منقول ہیں، صحیح قرار دیا ہے۔ نیز کہا ہے کہ ان آثار کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ نزول مائدہ کی کوئی شہرت عیسائیوں میں ہے، نہ ان کی کتابوں میں درج ہے۔ حالانکہ اگر یہ نازل ہوا ہوتا تو اسے ان کے ہاں مشہور بھی ہونا چاہئے تھا اور کتابوں میں بھی تواتر سے یا کم از کم آحاد سے نقل ہونا چاہئے تھا۔ واللهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔
Allah berfirman, "Sungguh, Aku akan menurunkan hidangan itu kepadamu, tetapi barang siapa kafir di antaramu setelah (turun hidangan) itu, maka sungguh, Aku akan mengazabnya dengan azab yang tidak pernah Aku timpakan kepada seorang pun di antara umat manusia (seluruh alam)."
Allah buyurdu ki: “Gerçekten ben onu size indireceğim. Ama bundan sonra sizden kim kâfir olursa, ben onu âlemlerden kimseyi azaplandırmayacağım bir azapla azablandıracağım.”
Allah répondit : « Je le ferai descendre sur vous. Mais quiconque, parmi vous, reniera ensuite la foi, Je le châtierai comme Je ne châtierai nulle autre créature. »
115. Respondió Dios: “La haré descender; pero si después alguno de ustedes reniega [de su fe], lo castigaré como no he castigado a nadie en el mundo”.
الله [دعای او را اجابت کرد و] فرمود: «من آن [سفره] را بر شما نازل میکنم؛ اما هر یک از شما که پس از آن کفر بورزد، او را به چنان عذابی [سخت] دچار میکنم که هیچ یک از جهانیان را آنچنان، عذاب نکرده باشم».
Allah sagte: Ich werde ihn gewiß zu euch hinabsenden. Wer von euch aber danach ungläubig ist, den werde Ich mit einer Strafe strafen, mit der Ich (sonst) niemanden (anderen) der Weltenbewohner strafe.
安拉说:“我必定把筵席降给你们。但之后你们中谁不信道,我要用一种绝不用于惩治全世界任何人的刑罚来惩治谁。”