وَمَا لَنَا لَا نُؤْمِنُ بِٱللَّهِ وَمَا جَآءَنَا مِنَ ٱلْحَقِّ وَنَطْمَعُ أَن يُدْخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ ٱلْقَوْمِ ٱلصَّٰلِحِينَ ٨٤
Translations
And why should we not believe in Allāh and what has come to us of the truth? And we aspire that our Lord will admit us [to Paradise] with the righteous people."
"E por que razão não creríamos em Allah e na Verdade que nos chegou, enquanto aspiramos a que nosso Senhor nos faça entrar no Paraíso, com o povo íntegro?"
また私たちが、アッラー*と、自分たちのもとに到来した真理を信仰しないとは、どういうことでしょうか?私たちは私たちの主が、自分たちを正しい者*たちと共に(天国に)入れて下さることを望んでいますのに」。
اور ہمارے پاس کون سا عذر ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ پر اور جو حق ہم کو پہنچا ہے اس پر ایمان نہ ﻻئیں اور ہم اس بات کی امید رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہم کو نیک لوگوں کی رفاقت میں داخل کردے گا۔[1]
[1] حبشے میں، جہاں مسلمان مکی زندگی میں دو مرتبہ ہجرت کرکے گئے۔ أَصْحَمَة نجاشی کی حکومت تھی، یہ عیسائی مملکت تھی۔ یہ آیات حبشے میں رہنے والے عیسائیوں ہی کے بارے میں نازل ہوئی ہیں تاہم روایات کی رو سے نبی (صلى الله عليه وسلم) نے حضرت عمرو بن امیہ ضمری (رضي الله عنه) کو اپنا مکتوب دے کر نجاشی کے پاس بھیجا تھا، جو انہوں نے جا کر اسے سنایا، نجاشی نے وہ مکتوب سن کر حبشے میں موجود مہاجرین اور حضرت جعفر بن ابی طالب (رضي الله عنه) کو اپنے پاس بلایا اور اپنے علماء اور عباد وزہاد (قسیسین) کو بھی جمع کرلیا، پھر حضرت جعفر (رضي الله عنه) کو قرآن کریم پڑھنے کا حکم دیا۔ حضرت جعفر (رضي الله عنه) نے سورۂ مریم پڑھی، جس میں حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کی اعجازی ولادت اور ان کی عبدیت ورسالت کا ذکر ہے جس سن کر وہ بڑے متاثر ہوئے اور آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے اور ایمان لے آئے۔ بعض کہتے ہیں کہ نجاشی نے اپنے کچھ علماء نبی (صلى الله عليه وسلم) کے پاس بھیجے تھے، جب آپ (صلى الله عليه وسلم) نے انہیں قرآن پڑھ کر سنایا تو بےاختیار ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ اور ایمان لے آئے۔ (فتح القدیر) آیات میں قرآن کریم سن کر ان پر جو اثر ہوا اس کا نقشہ کھینچا گیا ہے اور ان کے ایمان لانے کا تذکرہ ہے قرآن کریم میں بعض اور مقامات پر اس قسم کے عیسائیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ مثلاً «وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَمَنْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِمْ خَاشِعِينَ لِلَّهِ» (سورة آل عمران: 199) ”یقیناً اہل کتاب میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ پر اور اس کتاب پر جو تم پر نازل ہوئی اور اس پر جو ان پر نازل ہوئی، ایمان رکھتے ہیں اور اللہ کے آگے عاجزی کرتے ہیں“ وَغَيْرهَا مِنَ الآيَاتِ اور حدیث میں آتا ہے کہ جب نجاشی کی موت کی خبر نبی (صلى الله عليه وسلم) کو پہنچی تو آپ (صلى الله عليه وسلم) نے صحابہ (رضي الله عنهم) سے فرمایا کہ حبشے میں تمہارے بھائی کا انتقال ہوگیا ہے، اس کی نماز جنازہ پڑھو! چنانچہ ایک صحرا میں آپ (صلى الله عليه وسلم) نے اس کی نماز جنازہ (غائبانہ) ادا فرمائی۔ (صحيح بخاري، مناقب الأنصار وكتاب الجنائز، صحيح مسلم، كتاب الجنائز) ایک اور حدیث میں ایسے اہل کتاب کی بابت ، جو نبی (صلى الله عليه وسلم) کی نبوت پر ایمان لائے بتلایا گیا ہے کہ انہیں دوگنا اجر ملے گا (بخاري- كتاب العلم وكتاب النكاح)
Dan mengapa kami tidak akan beriman kepada Allah dan kepada kebenaran yang datang kepada kami, padahal kami sangat ingin agar Tuhan kami memasukkan kami ke dalam golongan orang-orang yang saleh?"
Rabbimizin bizi salih kimselerle birlikte (Cennet'e) sokmasını umarken ne diye Allah’a ve bize gelen hakka iman etmeyelim ki?
Qu’aurions-nous à ne pas croire en Allah et en la vérité qui nous a été apportée, dans l’espoir d’être admis par notre Seigneur au nombre des vertueux ? »
84. ¿Y por qué no íbamos a creer en Dios y en lo que nos ha llegado de la verdad? Esperamos que nuestro Señor nos introduzca [al Paraíso] junto a los justos”.
چرا به الله و آنچه از حق به ما رسیده است ایمان نیاوریم؛ حال آنكه امید داریم پروردگارمان ما را با گروه شایستگان [به بهشت] درآورد؟»
Warum sollten wir nicht an Allah glauben und an das, was von der Wahrheit zu uns gekommen ist, und begehren, daß uns unser Herr zusammen mit dem rechtschaffenen Volk (in den Paradiesgarten) eingehen lasse?
我们是切望我们的主使我们与善良的民众同进乐园的,我们怎能不信安拉和降示我们的真理呢!”