لَّا تُدْرِكُهُ ٱلْأَبْصَٰرُ وَهُوَ يُدْرِكُ ٱلْأَبْصَٰرَ ۖ وَهُوَ ٱللَّطِيفُ ٱلْخَبِيرُ ١٠٣
Translations
Vision perceives Him not,[332] but He perceives [all] vision; and He is the Subtle,[333] the Aware.[334]
[332] In the life of this world. The people of Paradise will be able to see Allāh in the Hereafter. See 75:22-23. [333] Perceptive of the most precise and unapparent matters and the intricacies of all affairs. Also, He who benefits His servants in indiscernible ways. [334] See footnote in 6:18.
As vistas não O atingem enquanto Ele atinge todas as vistas. E Ele é O Sutil, O Conhecedor.
視覚が(現世で)かれ(アッラー*)を捉えることはない[1]。かれが視覚を捉え給うのであり、かれは霊妙な*お方、通暁されるお方なのだ。
[1] 復活の日*、信仰者はアッラー*との拝謁(はいえつ)の際、かれの全体像を捉えることは出来なくても、かれを拝見する栄誉に与(あず)かることが出来るとされる(アル=ブハーリー7434参照)。
اس کو تو کسی کی نگاه محیط نہیں ہوسکتی[1] اور وه سب نگاہوں کو محیط ہو جاتا ہے اور وہی بڑا باریک بین باخبر ہے۔
[1] أَبْصَارٌ بَصَرَةٌ (نگاہ) کی جمع ہے یعنی انسان کی آنکھیں اللہ کی حقیقت کی کنہ تک نہیں پہنچ سکتیں۔ اور اگر اس سے مراد رؤیت بصری ہو تو اس کا تعلق دنیا سے ہوگا یعنی دنیا کی آنکھ سے کوئی اللہ کو نہیں دیکھ سکتا۔ تاہم یہ صحیح اور متواتر روایات سے ثابت ہے کہ قیامت والے دن اہل ایمان اللہ تعالیٰ کو دیکھیں گے اور جنت میں بھی اس کے دیدار سے مشرف ہوں گے۔ اس لئے معتزلہ کا اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ کو کوئی بھی نہیں دیکھ سکتا، دنیا میں نہ آخرت میں، صحیح نہیں، کیونکہ اس نفی کا تعلق صرف دنیا سے ہے۔ اسی لئے حضرت عائشہ (رضی الله عنها) بھی اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے فرماتی تھیں، ”جس شخص نے بھی دعویٰ کیا کہ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے (شب معراﺝ میں) اللہ تعالیٰ کی زیارت کی ہے، اس نے قطعاً جھوٹ بولا ہے“۔ (صحيح بخاري، تفسير سورة الأنعام) کیونکہ اس آیت کی رو سے پیغمبر سمیت کوئی بھی اللہ کو دیکھنے پر قادر نہیں ہے۔ البتہ آخرت کی زندگی میں یہ دیدار ممکن ہوگا۔ جیسے دوسرے مقام پر قرآن نے اس کا اثبات فرمایا۔ «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ، إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ» (القيامة) ”کئی چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے، اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔“
Dia tidak dapat dicapai oleh penglihatan mata, sedang Dia dapat melihat segala penglihatan itu dan Dialah Yang Mahahalus, Mahateliti.
Gözler O’nu onu ihata ve idrak edemez. O ise bütün gözleri kuşatmıştır. O, lütuf sahibidir, her şeyden haberdardır.
Les hommes ne sauraient l’embrasser du regard, tandis que Lui-même embrasse les regards de Sa science. Il est Celui qui connaît les réalités les plus subtiles et les mieux cachées.
103. La vista [de los seres humanos] no puede abarcarlo, pero Él sí ve [a todos Sus siervos]. Él es el Sutil y el Conocedor.
چشمها او را درنمییابند و[لی] او چشمها را درمییابد و اوست که باریکبین و آگاه است.
Die Blicke erfassen Ihn nicht, Er aber erfaßt die Blicke. Und Er ist der Feinfühlige und Allkundige.
众目不能见他,他却能见众目,他是精明的,是彻知的。