ثُمَّ رُدُّوٓا۟ إِلَى ٱللَّهِ مَوْلَىٰهُمُ ٱلْحَقِّ ۚ أَلَا لَهُ ٱلْحُكْمُ وَهُوَ أَسْرَعُ ٱلْحَٰسِبِينَ ٦٢
Translations
Then they [i.e., His servants] are returned to Allāh, their true Lord. Unquestionably, His is the judgement, and He is the swiftest of accountants.
Em seguida, serão levados a Allah, seu Verdadeiro Protetor. Ora, dEle é o julgamento, e Ele é O mais Destro no ajuste de contas.
それから彼らは、自分たちの真の庇護者*であるアッラー*の御許へと戻される。(その日の)裁決は、かれのみに属するのではないか。かれは、最も早く計算される*お方である。
پھر سب اپنے مالک حقیقی کے پاس ﻻئے جائیں گے[1] ۔ خوب سن لو فیصلہ اللہ ہی کا ہوگا اور وه بہت جلد حساب لے گا۔
[1] آیت میں ”رُدُّوْا“ (لوٹائے جائیں گے) کا مرجع بعض نے فرشتوں کو قرار دیا ہے یعنی قبض روح کے بعد فرشتے اللہ کی بارگاہ میں لوٹ جاتے ہیں۔ اور بعض نے اس کا مرجع تمام لوگوں کو بنایا ہے۔ یعنی سب لوگ حشر کے بعد اللہ کی بارگاہ میں لوٹائے جائیں گے (پیش کئے جائیں گے) اور پھر وہ سب کا فیصلہ فرمائے گا۔ آیت میں روح قبض کرنے والے فرشتوں کو رسل (جمع کے صیغے کے ساتھ) بیان کیا گیا ہے جس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ روح قبض کرنے والا فرشتہ ایک نہیں متعدد ہیں۔ اس کی توجیہ بعض مفسرین نے اس طرح کی ہے کہ قرآن مجید میں روح قبض کرنے کی نسبت اللہ کی طرف بھی ہے۔ ”اللَّهُ يَتَوَفَّى الأَنْفُسَ حِينَ مَوْتِهَا“ (الزمر: 42) اللہ لوگوں کے مرنے کے وقت ان کی روحیں قبض کرلیتا ہے، اور اس کی نسبت ایک فرشتے (ملک الموت) کی طرف بھی کی گئی ہے۔ ”قُلْ يَتَوَفَّاكُمْ مَلَكُ الْمَوْتِ الَّذِي وُكِّلَ بِكُمْ“ (الم السجدة: 11) کہہ دو تمہاری روحیں وہ فرشتۂ موت قبض کرتا ہے جو تمہارے لئے مقرر کیا گیا ہے، اور اس کی نسبت متعدد فرشتوں کی طرف بھی کی گئی ہے، جیسا کہ اس مقام پر ہے اور اسی طرح سورۂ نساء آیت 97 اور الانعام آیت 93 میں بھی ہے۔ اس لئے اللہ کی طرف اس کی نسبت اس لحاظ سے ہے کہ وہی اصل آمر (حکم دینے والا) بلکہ فاعل حقیقی ہے۔ متعدد فرشتوں کی طرف نسبت اس لحاظ سے ہے کہ وہ ملک الموت کے مددگار ہیں، وہ رگوں، شریانوں، پٹھوں سے روح نکالنے اور اس کا تعلق ان تمام چیزوں سے کاﭨنے کا کام کرتے ہیں اور ملک الموت کی طرف نسبت کے معنی یہ ہیں کہ پھر آخر میں وہ روح قبض کرکے آسمانوں کی طرف لے جاتا ہے۔ (تفسير روح المعاني جلد 5، صفحة 5) حافظ ابن کثیر، امام شوکاﻧﯽ اور جمہور علماء اس بات کے قائل ہیں کہ ملک الموت ایک ہی ہے جیسا کہ سورۂ الم السجدۃ کی آیت سے اور مسند احمد (جلد 4، صفحہ 287) میں حضرت براء بن عازب (رضي الله عنه) کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے اور جہاں جمع کے صیغے میں ان کا ذکر ہے تو وہ اس کے اعوان وانصار ہیں۔ اور بعض آثار میں ملک الموت کا نام عزرائیل بتلایا گیا ہے۔ (تفسير ابن كثير - الم السجدة ) والله أعلم-
Kemudian mereka (hamba-hamba Allah) dikembalikan kepada Allah, penguasa mereka yang sebenarnya. Ketahuilah bahwa segala hukum (pada hari itu) ada pada-Nya. Dan Dialah pembuat perhitungan yang paling cepat.
Sonra gerçek mevlâları olan Allah’a döndürülürler. Dikkat edin, hüküm O’na aittir. O, hesap görenlerin en hızlısıdır.
Ils seront ensuite rendus à Allah, leur vrai Maître, auquel revient le jugement des hommes et qui est le plus prompt des juges.
62. Luego serán devueltos a Dios, su verdadero Señor. ¿Acaso no es Él Quien los va a juzgar? ¡Él es el más rápido en ajustar cuentas!
آنگاه به سوی الله که [یار و] کارسازِ راستینشان است بازگردانده میشوند. آگاه باشید! حکم از آنِ اوست و او سریعترین حسابرس است.
Hierauf werden sie zu Allah, ihrem wahren Schutzherrn, zurückgebracht. Sicherlich, Sein ist das Urteil, und Er ist der schnellste Berechner.
然后,世人要被送归安拉——他们的主。真的,判决只归他,他是清算最神速的。