وَقَالُوا۟ لَوْلَآ أُنزِلَ عَلَيْهِ مَلَكٌۭ ۖ وَلَوْ أَنزَلْنَا مَلَكًۭا لَّقُضِىَ ٱلْأَمْرُ ثُمَّ لَا يُنظَرُونَ ٨
Translations
And they say, "Why was there not sent down to him an angel?"[294] But if We had sent down an angel, the matter would have been decided;[295] then they would not be reprieved.
[294] In support of his prophethood (ﷺ). [295] They would have been destroyed immediately with no chance for repentance.
E dizem: "Que se faça descer sobre ele, Muhammad, um anjo." E, se houvéssemos feito descer um anjo, já estaria encerrada a ordem; em seguida, não haveria dilação alguma.[1]
[1] Ou seja, sua aniquilação já estaria determinada.
また、彼らは言った。「どうして彼に、(彼が使徒*であることを証言する)天使*が下らないのか?」もしわれら*が天使*を下したら、事は決定されてしまった[1]であろう。その後、彼らは、猶予を与えられることものないのだ。
[1] 彼らが不信仰の状態にある時に天使*が遣わされたら、それはアッラー*から彼らへの懲罰が下る時である(イブン・カスィール3:241参照)。アーヤ*111、アル=ヒジュル章7‐8、夜の旅章92、識別章7も参照。
اور یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ ان کے پاس کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا اور اگر ہم کوئی فرشتہ بھیج دیتے تو سارا قصہ ہی ختم ہوجاتا۔ پھر ان کو ذرا مہلت نہ دی جاتی۔[1]
[1] اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو ہدایت ورہنمائی کے لئے جتنے بھی انبیا ورسل بھیجے وہ انسانوں میں سے ہی تھے اور ہر قوم میں اسی کے ایک فرد کو وحی ورسالت سے نواز دیا جاتا تھا۔ یہ اس لئے کہ اس کے بغیر کوئی رسول فریضۂ تبلیغ ودعوت ادا ہی نہیں کرسکتا تھا، مثلاً اگر فرشتوں کو اللہ تعالیٰ رسول بنا کر بھیجتا تو ایک تو وہ انسانی زبان میں گفتگو ہی نہ کر پاتے دوسرے وہ انسانی جذبات سے عاری ہونے کی وجہ سے انسان کے مختلف حالات میں مختلف کیفیات وجذبات کے سمجھنے سے بھی قاصر رہتے۔ ایسی صورت میں ہدایت ورہنمائی کا فریضہ کس طرح انجام دے سکتے تھے؟ اس لئے اللہ تعالیٰ کا انسانوں پر ایک بڑا احسان ہے کہ اس نے انسانوں کو ہی نبی اور رسول بنایا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے بھی اسے بطور احسان ہی قرآن کریم میں ذکر فرمایا ہے «لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولا مِنْ أَنْفُسِهِمْ» (آل عمران: 164) ”اللہ تعالیٰ نے مومنوں پر احسان فرمایا جب کہ انہی کی جانوں میں سے ایک شخص کو رسول بنا کر بھیجا“۔ لیکن پیغمبروں کی بشریت کافروں کے لئے حیرت واستعجاب کا باعث رہی۔ وہ سمجھتے تھے کہ رسول انسانوں میں سے نہیں، فرشتوں میں سے ہونا چاہیئے گویا ان کے نزدیک بشریت رسالت کے شایان شان نہیں تھی۔ جیسا کہ آج کل کے اہل بدعت بھی یہی سمجھتے ہیں۔ «تَشَابَهَتْ قُلُوبُهُمْ» اہل کفر وشرک، رسولوں کی بشریت کا تو انکار کر نہیں سکتے تھے، کیونکہ وہ ان کے خاندان، حسب نسب ہر چیز سے واقف ہوتے تھے لیکن رسالت کا وہ انکار کردیتے رہے۔ جبکہ آج کل کے اہل بدعت رسالت کا انکار تو نہیں کرتے لیکن بشریت کو رسالت کے منافی سمجھنے کی وجہ سے رسولوں کی بشریت کا انکار کرتے ہیں۔ بہرحال اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرما رہا ہے کہ اگر ہم کافروں کے مطالبے پر کسی فرشتے کو رسول بنا کر بھیجتے یا اس رسول کی تصدیق کے لئے ہم کوئی فرشتہ نازل کردیتے (جیسا کہ یہاں یہی بات بیان کی گئی ہے) اور پھر وہ اس پر ایمان نہ لاتے توانہیں مہلت دیئے بغیر ہلاک کردیا جاتا۔
Dan mereka berkata, "Mengapa tidak diturunkan malaikat kepadanya (Muhammad)?"[305] Jika Kami turunkan malaikat (kepadanya), tentu selesailah urusan itu,[306] tetapi mereka tidak diberi penangguhan (sedikit pun).
[305] Untuk menerangkan bahwa Nabi Muhammad -ṣallallāhu 'alaihi wa sallam- itu seorang Nabi. [306] Kalau diturunkan kepada mereka malaikat, sedang mereka tidak beriman, tentulah mereka akan diazab oleh Allah, sehingga mereka binasa semuanya.
"Ona ne diye bir melek indirilmedi?” dediler. Eğer biz bir melek indirseydik (iman etmemeleri halinde) herhalde iş bitirilmiş olurdu. Ve sonra kendilerine (azıcık) bir süre (bile) verilmezdi.
Ils s’étonnent : « Que n’est-il accompagné d’un ange descendu du ciel qui témoigne de l’authenticité de sa mission ?! » Si Nous avions fait descendre un ange, leur sort aurait déjà été scellé sans que nul sursis ne leur soit accordé.
8. Ellos dicen: “¿Por qué no hizo descender un ángel junto a él?” Pero si hubiese enviado un ángel el asunto habría quedado decidido[1], y no se les habría dado ningún plazo de espera [para creer].
[1] La fe implica creer en asuntos de lo oculto. Cuando tales asuntos se hacen manifiestos, ya no existe recompensa por “creer” en ellos. Este versículo se refiere a que, cuando los ángeles se muestren a las personas y las realidades del más allá sean visibles, dejarán de ser de lo oculto y, por lo tanto, significará que su destino estará sellado, porque ya no tendrá recompensa “creer” en ello.
و [کافران] گفتند: «چرا فرشتهای بر او نازل نشده است [تا گواه راستگوییاش باشد]؟» و اگر فرشتهای میفرستادیم [و ایمان نمیآوردند]، قطعاً کار به پایان میرسید و مهلتی [برای توبه] نمییافتند [و هلاک میشدند].
Und sie sagen: Warum ist kein Engel zu ihm herabgesandt worden? Wenn Wir aber einen Engel herabsenden würden, dann wäre die Angelegenheit wahrlich entschieden, und ihnen würde dann kein Aufschub gewährt.
他们说:“为什么没有一个天使降临他呢?”假若我降一个天使,那么,他们的毁灭,必成定案,而他们不蒙宽待了。