وَلُوطًا إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِۦٓ أَتَأْتُونَ ٱلْفَٰحِشَةَ مَا سَبَقَكُم بِهَا مِنْ أَحَدٍۢ مِّنَ ٱلْعَٰلَمِينَ ٨٠
Translations
And [We had sent] Lot when he said to his people, "Do you commit such immorality as no one has preceded you with from among the worlds [i.e., peoples]?
E Lot, quando disse a seu povo: "Vós vos achegais à obscenidade, em que ninguém, nos mundos, se vos antecipou?"
また、ルート*がその民に(こう)言った時のこと(を思い出すのだ)[1]。「一体あなた方は、全創造物のいかなる者もあなた方以前には行わなかった醜行[2]に、手を染めるというのか?
[1] 彼とその民の間に起こった話については、フード*章77-83、アル=ヒジュル章61-77、詩人たち章160-175、蟻章54-58、蜘蛛章28-35、月章33-40も参照。 [2] 「醜行」については、蜜蜂章90の訳注を参照。
اور ہم نے لوط (علیہ السلام) کو بھیجا[1] جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم ایسا فحش کام کرتے ہو جس کو تم سے پہلے کسی نے دنیا جہان والوں میں سے نہیں کیا۔
[1] حضرت لوط (عليه السلام) ، حضرت ابراہیم (عليه السلام) کے بھتیجے تھے اور حضرت ابراہیم (عليه السلام) پر ایمان لانے والوں میں سے تھے پھر خود ان کو بھی اللہ تعالیٰ نے ایک علاقے میں نبی بناکر بھیجا ۔ یہ علاقہ اردن اور بیت المقدس کے درمیان تھا جسے سدوم کہا جاتا ہے ۔ یہ زمین سرسبز وشاداب تھی اور یہاں ہر طرح کے غلے اور پھلوں کی کثرت تھی ۔ قرآن نے اس جگہ کو مُؤْتَفِكَةٌ یا مُؤْتَفِكَاتٌ کے الفاظ سے ذکر کیا ہے ۔ حضرت لوط (عليه السلام) نے غالباً سب سے پہلے یا دعوت توحید کے ساتھ ہی، ( جو ہر نبی کی بنیادی دعوت تھی اور سب سے پہلے وہ اسی کی دعوت اپنی قوم کو دیتے تھے ۔ جیسا کہ پچھلے نبیوں کے حالات میں، جن کا ذکر ابھی گذرا ہے، دیکھا جاسکتا ہے) جو دوسری بڑی خرابی مردوں کے ساتھ بدفعلی، قوم لوط میں تھی، اس کی شناعت وقباحت بیان فرمائی ۔ اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ ایک ایسا گناہ ہے جسے دنیا میں سب سے پہلے اسی قوم لوط نے کیا، اس گناہ کا نام ہی لواطت پڑگیا ۔ اس لئے مناسب سمجھا گیا کہ پہلے قوم کو اس جرم کی خطرناکی سے آگاہ کیا جائے ۔ علاوہ ازیں حضرت ابراہیم (عليه السلام) کے ذریعے دعوت توحید بھی یہاں پہنچ چکی ہوگی ۔ لواطت کی سزا میں ائمہ کے درمیان اختلاف ہے ۔ بعض ائمہ کے نزدیک اس کی وہی سزا ہے جو زنا کی ہے یعنی مجرم اگر شادی شدہ ہو تو رجم، غیرشادی شدہ ہو تو سو کوڑے ۔ بعض کے نزدیک اس کی سزا ہی رجم ہے چاہے مجرم کیسا بھی ہو اور بعض کے نزدیک فاعل اور مفعول بہ دونوں کو قتل کر دینا چاہئے ۔ البتہ امام ابوحنیفہ صرف تعزیری سزا کے قائل ہیں، حد کے نہیں (تحفة الأحوذي جلد 5 ص17)
Dan (Kami juga telah mengutus) Lut, ketika dia berkata kepada kaumnya, "Mengapa kamu melakukan perbuatan keji, yang belum pernah dilakukan oleh seorang pun sebelum kamu (di dunia ini).
Hani Lût da kavmine şöyle demişti: "Sizden evvel âlemlerden hiç kimsenin yapmadığı hayasızlığı mı yapıyorsunuz?”
Nous avons également envoyé Loth à son peuple, auquel il dit : « Vous livrez-vous à cet acte infâme que nul homme n’a commis avant vous ?
80. [Envié a] Lot [a Sodoma y] le dijo a su pueblo: “¿Cometen una inmoralidad de la que no hay precedentes en la humanidad?[1]
[1] Ver Corán 29:28.
و لوط را [به پیامبری فرستادیم] که به قوم خود گفت: «آیا کار بسیار زشتی را انجام میدهید که پیش از شما هیچ یک از جهانیان انجام نداده است؟
Und (Wir sandten) Lut, als er zu seinem Volk sagte: Wollt ihr denn das Abscheuliche begehen, wie es vor euch niemand von den Weltenbewohnern begangen hat?
(我确已派遣)鲁特,当时他对他的宗族说:“你们怎么做那种丑事呢?在你们之前,全世界的人没有一个做过这种事。