لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُولٌۭ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم بِٱلْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌۭ رَّحِيمٌۭ ١٢٨
Translations
There has certainly come to you a Messenger from among yourselves. Grievous to him is what you suffer; [he is] concerned over you [i.e., your guidance] and to the believers is kind and merciful.
Com efeito, um Mensageiro vindo de vós chegou-vos; é-lhe penoso o que vos embaraça; é zeloso de guiar-vos, é compassivo e misericordiador para com os crentes.
あなた方自身の内から一人の使徒*(ムハンマド*)が、確かにあなた方のもとに到来した。あなた方が苦しむのは、彼にとって辛いこと。「彼は)あなた方に対して懸命で[1]、信仰者たちにこそ哀れみ深く、慈愛深いのだ。
[1] あなた方の導きと、諸事の改善に「懸命」であるということ(ムヤッサル297頁参照)。
تمہارے پاس ایک ایسے پیغمبر تشریف ﻻئے ہیں جو تمہاری جنس سے ہیں[1] جن کو تمہاری مضرت کی بات نہایت گراں گزرتی ہے[2] جو تمہاری منفعت کے بڑے خواہش مند رہتے ہیں[3] ایمان والوں کے ساتھ بڑے ہی شفیق اور مہربان ہیں۔[4]
[1] سورت کے آخر میں مسلمانوں پر نبی کی صورت میں جو احسان عظیم فرمایا گیا، اس کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ آپ (صلى الله عليه وسلم) کی پہلی صفت یہ بیان فرمائی کہ وہ تمہاری جنس سے یعنی جنس بشریت سے ہیں (وہ نور یا اور کچھ نہیں) جیسا کہ فساد عقیدہ کے شکار لوگ عوام کو اس قسم کے گورکھ دھندے میں پھنساتے ہیں۔ [2] عَنَتٌ ایسی چیزیں جن سے انسان کو تکلیف ہو، اس میں دنیاوی مشقتیں اور آخروی عذاب دونوں آجاتے ہیں، اس پیغمبر پر، تمہاری ہر قسم کی تکلیف و مشقت گراں گزرتی ہے۔ اسی لئے آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرما: ”میں آسان دین حنیفی دے کر بھیجا گیا ہوں“۔ (مسند احمد۔ جلد 5، ص 266، جلد 6 ص 233) ایک اور حدیث میں فرمایا: «إِنَّ هَذَا الدِّينَ يُسْرٌ»، ”بیشک یہ دین آسان ہے“۔ (صحیح بخاری۔ کتاب الایمان) [3] تمہاری ہدایت اور تمہاری دینوی آخروی کے فائدے کے خواہشمند ہیں اور تمہارا جہنم میں جانا پسند نہیں فرماتے۔ اسی لئے آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا کہ ”میں تمہیں تمہاری پشتوں سے پکڑ پکڑ کر کھنچتا ہوں لیکن تم مجھ سے دامن چھڑا کر زبردستی نار جہنم میں داخل ہوتے ہو“۔ (صحیح بخاری کتاب الرقاق باب نمبر 26 الانتهاء من المعاصی) [4] یہ آپ کی چوتھی صفت بیان کی گئی ہے۔ یہ ساری خوبیاں آپ کے اعلٰی اخلاق اور کریمانہ صفات کی مظہر ہیں۔ یقینا آپ (صلى الله عليه وسلم) صاحب خلق عظیم ہیں۔
Sungguh, telah datang kepadamu seorang rasul dari kaummu sendiri, berat terasa olehnya penderitaan yang kamu alami, (dia) sangat menginginkan (keimanan dan keselamatan) bagimu, penyantun dan penyayang terhadap orang-orang yang beriman.
Andolsun ki size, içinizden sizin sıkıntıya uğramanız kendisine ağır gelen, size düşkün, Müminlere şefkatli ve merhametli bir rasûl gelmiştir.
Voilà que vous est venu un Messager issu de vous, à la fois sensible à vos souffrances, désireux de vous voir embrasser la foi et plein de compassion et de miséricorde envers les croyants.
128. Se les ha presentado un Mensajero de entre ustedes mismos que se apena por sus adversidades, se preocupa y desea que alcancen el bien [e ingresen al Paraíso]; es compasivo y misericordioso con los creyentes.
یقیناً پیامبری از [میان] خود شما به سویتان آمد که رنجدیدنتان بر او [گران و] دشوار است و بر [هدایت] شما سخت اصرار دارد و [نسبت] به مؤمنان، دلسوز [و] مهربان است.
Zu euch ist nunmehr ein Gesandter aus euren eigenen Reihen gekommen. Bedrückend ist es für ihn, wenn ihr in Bedrängnis seid, (er ist) eifrig um euch bestrebt, zu den Gläubigen gnadenvoll und barmherzig.
你们本族中的使者确已来教化你们了,他不忍心见你们受痛苦,他渴望你们得正道,他慈爱信士们。