ثُمَّ يَتُوبُ ٱللَّهُ مِنۢ بَعْدِ ذَٰلِكَ عَلَىٰ مَن يَشَآءُ ۗ وَٱللَّهُ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ ٢٧
Translations
Then Allāh will accept repentance after that for whom He wills; and Allāh is Forgiving and Merciful.
Em seguida, Allah voltar-se-á, depois disso, para quem quiser, remindo-o. E Allah é Perdoador, Misericordiador.
そしてその後アッラー*は、かれがお望みになる者の悔悟[1]をお受け入れになる。アッラー*は、赦し深いお方、慈愛深い*お方。
[1] 不信仰を棄(す)て、イスラーム*を受け入れた者の「悔悟」のこと(前掲書191頁参照)。
پھر اس کے بعد بھی جس پر چاہے اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کی توجہ فرمائے گا[1] اللہ ہی بخشش ومہربانی کرنے واﻻ ہے۔
[1] حُنَیْن مکہ اور طائف کے درمیان ایک وادی ہے۔ یہاں هَوَازِن اور ثَقِیْف رہتے تھے، یہ دونوں قبیلے تیر اندازی میں مشہور تھے۔ یہ مسلمانوں کے خلاف لڑنے کی تیاری کر رہے تھے جس کا علم رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) کو ہوا تو آپ 12 ہزار کا لشکر لے کر ان قبیلوں سے جنگ کے لئے حنین تشریف لے گئے، یہ فتح مکہ کے 18، 19دن بعد، شوال کا واقعہ ہے۔ مذکورہ قبیلوں نے بھرپور تیاری کر رکھی تھی اور مختلف کمین گاہوں میں تیر اندازوں کو مقرر کر دیا تھا۔ ادھر مسلمانوں میں یہ عجب پیدا ہوگیا کہ آج کم از کم قلت کی وجہ سے ہم مغلوب نہیں ہونگے۔ یعنی اللہ کی مدد کے بجائے اپنی کثرت تعداد پر اعتماد زیادہ ہوگیا۔ اللہ تعالٰی کو یہ عُجب کا کلمہ پسند نہیں آیا۔ نتیجتاً جب ہوازن کے تیر اندازوں نے مختلف کمین گاہوں سے مسلمانوں کے لشکر پر یک بارگی تیر اندازی کی تو اس غیر متوقع اور اچانک تیروں کی بچھاڑ سے مسلمانوں کے قدم اکھڑ گئے اور وہ بھاگ کھڑے ہوئے۔ میدان میں صرف رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) اور سَو کے قریب مسلمان رہ گئے۔ آپ (صلى الله عليه وسلم) مسلمانوں کو پکار رہے تھے ”اللہ کے بندو! میرے پاس آؤ میں اللہ کا رسول ہوں“ کبھی یہ رجزیہ کلمہ پڑھتے: «أَنَا النَّبِيُّ لا كَذِبْ - أَنَا ابْنُ عَبْدُ الْمُطَّلِبْ»پھر آپ (صلى الله عليه وسلم) نے حضرت عباس (رضي الله عنه) کو (جو نہایت بلند آواز تھے) حکم دیا کہ مسلمانوں کو جمع کرنے کے لئے آوازیں دیں۔ چنانچہ ان کی ندا سن کر مسلمان سخت پشیمان ہوئے اور دوبارہ میدان میں آگئے اور پھر اس طرح جم کر لڑے کہ اللہ نے فتح عطا فرمائی، اللہ تعالٰی کی مدد بھی حاصل ہوئی، جس سے ان کے دلوں سے دشمن کا خوف دور ہو گیا، دوسرے فرشتوں کا نزول ہوا۔ اس جنگ میں مسلمانوں نے چھ ہزار کافروں کو قیدی بنایا (جنہیں بعد میں نبی (صلى الله عليه وسلم) کی درخواست پر چھوڑ دیا گیا) اور بہت سا مال غنیمت حاصل ہوا، جنگ کے بعد ان کے بہت سے سردار بھی مسلمان ہوگئے یہاں 3 آیت میں اللہ تعالٰی نے اس واقعے کا مختصر ذکر فرمایا ہے۔
Setelah itu Allah menerima tobat orang yang Dia kehendaki. Allah Maha Pengampun, Maha Penyayang.
Allah, bundan sonra da dilediğinin tevbesini kabul eder. Allah çokça bağışlayan, çokça merhamet edendir.
Allah, Très Clément et Très Miséricordieux, accueillera ensuite le repentir de qui Il voudra.
27. Luego, Dios perdonará a quienquiera que se haya arrepentido. Dios es Absolvedor, Misericordioso.
سپس الله بعد از آن [عذاب خفتبار،] توبۀ هر کس را بخواهد میپذیرد؛ و الله آمرزندۀ مهربان است.
Hierauf nimmt Allah nach alledem die Reue an, von wem Er will. Und Allah ist Allvergebend und Barmherzig.
后来,他准许他所意欲者悔过自新。安拉是至赦的,是至慈的。