۞ إِنَّمَا ٱلصَّدَقَٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَٱلْمَسَٰكِينِ وَٱلْعَٰمِلِينَ عَلَيْهَا وَٱلْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِى ٱلرِّقَابِ وَٱلْغَٰرِمِينَ وَفِى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَٱبْنِ ٱلسَّبِيلِ ۖ فَرِيضَةًۭ مِّنَ ٱللَّهِ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌۭ ٦٠
Translations
Zakāh expenditures are only for the poor and for the needy and for those employed for it[487] and for bringing hearts together [for Islām] and for freeing captives [or slaves] and for those in debt and for the cause of Allāh and for the [stranded] traveler - an obligation [imposed] by Allāh. And Allāh is Knowing and Wise.
[487] By the state to collect, guard and distribute the zakāh.
As sadaqãts, as ajudas caridosas, são apenas, para os pobres e os necessitados e os encarregados de arrecadá-las e aqueles, cujos corações estão prestes a harmonizar-se[1] com o Islam e os escravos, para se alforriarem, e os endividados e os combatentes no caminho de Allah e o filho do caminho[2], o viajante em dificuldades: é preceito de Allah. E Allah é Onisciente, Sábio.
[1] Aqueles... prestes a harmonizar-se; trata-se do grupo da comunidade árabe, que, embora não se houvesse islamizado, estava inclinado a fazê-lo. E, nos primórdios do Isam, era oportuno doar-lhes parte das esmolas; ou para trazê-los para a nova religião; ou para com isso, incitar outros, não-muslimes ainda, a imitá-los. [2] Cf. II 177 nl.
(義務の)浄財*は、困窮者*、貧者*、それ(浄財*の徴収)に携わる者、(それを与えられることによって)心が融和される者[1]、首[2]、借金している者[3]、アッラー*の道(ゆえに努力奮闘する者)、旅路(で苦境)にある者のためにのみ(与えられる)。(それは)アッラー*からの義務(として定められた)。アッラー*は全知者、英知あふれる*お方であられる。
[1] 「心が融和される者」とは、浄財*の受給によってイスラーム*への改宗や信仰心の強化が望まれる者や、それによってムスリム*の利益や害悪の防止につながること、とされる(ムヤッサル196 頁参照)。 [2] 「首」については、雌牛章177の訳注を参照。 [3] 借金があるが、返済できない者のこと。尚、不適切なことにおいて借金した者については、悔悟するまで浄財を受給する資格はない(アル=クルトゥビー8:183参照)。
صدقے صرف فقیروں[1] کے لئے ہیں اور مسکینوں کے لئے اور ان کے وصول کرنے والوں کے لئے اور ان کے لئے جن کے دل پرچائے جاتے ہوں اور گردن چھڑانے میں اور قرض داروں کے لئے اور اللہ کی راه میں اور راہرو مسافروں کے لئے[2]، فرض ہے اللہ کی طرف سے، اور اللہ علم وحکمت واﻻ ہے۔
[1] اس آیت میں اس طعن کا دروازہ بند کرنے کے لئے صدقات کے مستحق لوگوں کا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔ صدقات سے مراد یہاں صدقات واجبہ یعنی زکٰوۃ ہے۔ آیت کا آغاز إنَّمَا سے کیا گیا ہے جو قصر کے صیغوں میں سے ہے اور الصقات میں لام تعریف جنس کے لیے ہے یعنی صدقات کی یہ جنس (زکوٰۃ) ان آٹھ قمسوں میں مقصور ہے جن کا ذکر آیت میں ہے ان کے علاوہ کسی اور مصرف پر زکوۃ کی رقم کا استعمال صحیح نہیں۔ اہل علم کے درمیان اس امر میں اختلاف ہے کہ کیا ان آٹھوں مصارف پر تقسیم کرنا ضروری ہے؟ امام شافعی کی رائے کی رو سے زکٰوۃ کی رقم آٹھوں مصارف پر خرچ کرنا ضروری ہے۔ یا ان میں سے جس مصرف یا مصارف پر امام یا زکوۃ ادا کرنے والا مناسب سمجھے حسب ضرورت خرچ کرسکتا ہے امام شافعی وغیرہ پہلی رائے کے قائل ہیں اور امام مالک اور امام ابو حنیفہ وغیرہما دوسری رائے کے۔ اور یہ دوسری رائے ہی زیادہ صحیح ہے امام شافعی کی رائے کی رو سے زکوۃ کی رقم آٹھوں مصارف پر خرچ کرنا ضروری ہے یعنی اقتضائے ضرورت اور مصالح دیکھے بغیر رقم کے آٹھ حصے کر کے آٹھوں جگہ پر کچھ کچھ رقم خرچ کی جائے۔ جبکہ دوسری رائے کے مطابق ضرورت اور مصالح کا اعتبار ضروری ہے جس مصرف پر رقم خرچ کرنے کی زیادہ ضرورت یا مصالح کسی ایک مصرف پر خرچ کرنے کے متقتضی ہوں، تو وہاں ضرورت اور مصالح کے لحاظ سے زکوۃ کی رقم خرچ کی جائے گی چاہے دوسرے مصارف پر خرچ کرنے کے لیے رقم نہ بچے اس رائے میں جو معقولیت ہے وہ پہلی رائے میں نہیں ہے۔ [2] ان مصارف ثمانیہ کی مختصر تفصیل حسب ذیل ہے۔ (ا،2) فقیر اور مسکین چونکہ قریب قریب ہیں اور ایک کا اطلاق دوسر پر بھی ہوتا ہے یعنی فقیر کو مسکین اور مسکین کو فقیر کہہ لیا جاتا ہے۔ اس لئے ان کی الگ الگ تعریف میں خاصا اختلاف ہے۔ تاہم دونوں کے مفہوم میں یہ بات تو قطعی ہے کہ جو حاجت مند ہوں اور اپنی حاجات وضروریات کو پورا کرنے کے لیے مطلوبہ رقم اور وسائل سے محروم ہوں ان کو فقیر اور مسکین کہا جاتا ہے مسکین کی تعریف میں ایک حدیث آتی ہے نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا ”مسکین وہ گھو منے پھر نے والا نہیں ہے جو ایک ایک یادو دو لقمے یا کھجور کے لیے گھر گھر پھرتا ہے بلکہ مسکین وہ ہے جس کے پاس اتنا مال بھی نہ ہو جو اسے بے نیاز کر دے نہ وہ ایسی مسکنت اپنے اوپر طاری رکھے کہ لوگ غریب اور مستحق سمجھ کر اس پر صدقہ کریں اور نہ خود لوگوں کے سامنے دست سوال دراز کرے“۔(صحیح بخاری ومسلم کتاب الزکوٰۃ) حدیث میں گویا اصل مسکین شخص مذکور کو قرار دیا گیا ہے ورنہ حضرت ابن عباس (رضي الله عنه) وغیرہ سے مسکین کی تعریف یہ منقول ہے کہ جو گداگر ہو، گھوم پھر کر اور لوگوں کے پیچھے پڑ کر مانگتا ہو اور فقیر وہ ہے جو نادار ہونے کے باوجود سوال سے بچے اور لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کرے۔ (ابن کثیر) 3۔ عاملین سے مراد حکومت کے وہ اہلکار جو زکٰو ۃ و صدقات کی وصولی و تقسیم اور اس کے حساب کتاب پر معمور ہوں۔ 4۔ مولفۃ القلوب ایک تو وہ کافر ہے جو کچھ اسلام کی طرف مائل ہو اور اس کی امداد کرنے پر امید ہو کہ وہ مسلمان ہو جائے گا۔ دوسرے، وہ نو مسلم افراد ہیں جن کو اسلام پر مضبوطی سے قائم رکھنے کے لیے امداد دینے کی ضرورت ہو۔ تیسرے وہ افراد بھی ہیں جن کی امداد دینے کی صورت میں یہ امید ہو کہ وہ اپنے علاقے کے لوگوں کو مسلمانوں پر حملہ آور ہونے سے روکیں گے اور اس طرح وہ قریب کے کمزور مسلمانوں کا تحفظ کریں۔ یہ اور اس قسم کی دیگر صورتیں تالیف قلب کی ہیں جن پر زکوۃ کی رقم خرچ کی جاسکتی ہے چاہے مذکورہ افراد مال دار ہی ہوں۔ احناف کے نزدیک یہ مصرف ختم ہوگیا ہے لیکن یہ بات صحیح نہیں حالات وظروف کے مطابق ہر دور میں اس مصرف پر زکوۃ کی رقم خرچ کرنا جائز ہے۔ 5۔ گردنیں آزاد کرانے میں۔ بعض علماء نے اس سے صرف مکاتب غلام مراد لئے ہیں اور علماء نے مکاتب وغیر مکاتب ہر قسم کے غلام مراد لئے ہیں۔ امام شوکانی نے اسی رائے کو ترجیح دی ہے۔ 6۔ غارمین سے ایک تو وہ مقروض مراد ہیں جو اپنے اہل و عیال کے نان نفقہ اور ضروریات زندگی فراہم کرنے میں لوگوں کے زیر بار ہوگئے اور ان کے پاس نقد رقم بھی نہیں ہے اور ایسا سامان بھی نہیں ہے جسے بیچ کر وہ قرض ادا کریں سکیں۔ دوسرے وہ ذمہ داراصحاب ضمانت ہیں جنہوں نے کسی کی ضمانت دی اور پھر وہ اس کی ادائیگی کے ذمہ دار قرار پاگئے یا کسی فصل تباہ یا کاروبار خسارے کا شکار ہوگیا اور اس بنیاد پر وہ مقروض ہو گیا۔ ان سب افراد کی زکوۃ کی مد سے امداد کرنا جائز ہے۔ 7۔ فی سبیل اللہ سے مراد جہاد ہے یعنی جنگی سامان و ضروریات اور مجاہد (چا ہے وہ مالدار ہی ہو) پر زکٰوۃ کی رقم خرچ کرنا جائز ہے۔ اور احادیث میں آتا ہے کہ حج اور عمرہ بھی فی سبیل اللہ میں داخل ہے اسی طرح بعض علماء کے نزدیک تبلیغ ودعوت بھی فی سبیل اللہ میں داخل ہے کیونکہ اس سے بھی مقصد جہاد کی طرح اعلائے کلمۃ اللہ ہے۔ 8۔ ابن السبیل سے مراد مسافرہے۔ یعنی اگر کوئی مسافر، سفر میں مستحق امداد ہوگیا ہے چاہے وہ اپنے گھر یا وطن میں صاحب حیثیت ہی ہو، اس کی امداد زکٰو ۃ کی رقم سے کی جاسکتی ہے۔
Sesungguhnya zakat itu hanyalah untuk orang-orang fakir, orang miskin, amil zakat, orang yang dilunakkan hatinya (mualaf), untuk (memerdekakan) hamba sahaya, untuk (membebaskan) orang yang berhutang, untuk jalan Allah dan untuk orang yang sedang dalam perjalanan, sebagai kewajiban dari Allah. Allah Maha Mengetahui, Mahabijaksana.
Sadakalar/zekâtlar, Allah’tan bir farz olarak fakirler, miskinler, onu toplayan memurlar, kalpleri (İslam’a) ısındırılanlar, köleler, borçlular, Allah yolunda (cihad edenler) ve yolda kalanlar içindir. Allah Alîm'dir, Hakîm'dir.
L’aumône légale est réservée aux pauvres, aux nécessiteux, à ceux chargés de la collecter, à ceux dont les cœurs sont à gagner[29], à l’affranchissement des esclaves et au rachat des captifs, aux musulmans incapables de rembourser leurs dettes, à ceux qui luttent pour la cause d’Allah et aux voyageurs démunis. Voilà ce qu’Allah, Omniscient et infiniment Sage, vous impose.
[29] Ceux auxquels l’aumône est accordée afin de les amener à embrasser l’islam, à devenir de bons musulmans ou encore afin d’inciter leurs semblables à se convertir (Tafsîr ibn Kathîr).
60. El zakat debe ser distribuido entre los pobres[1], los necesitados[2], los que trabajan en su recaudación y distribución, aquellos de los que se desea ganar sus corazones[3], la liberación de los esclavos[4], los endeudados[5], la causa de Dios[6] y el viajero insolvente[7]. Esto es un deber prescrito por Dios, y Dios lo sabe todo, es Sabio.
[1] Son los que no poseen nada, como quienes viven en la calle, y no tienen para vivir con dignidad. [2] Son los que poseen apenas lo mínimo para vivir con dignidad, pero tienen algunas necesidades puntuales. [3] Son personas de influencia en su comunidad, y de quienes se espera que acepten el Islam o detengan su hostilidad hacia los musulmanes o los conversos. [4] Son los esclavos que están negociando su manumisión con sus amos. Se les ayuda del zakat para comprar su libertad. También aplicable al rescate de cautivos, secuestrados y prisioneros de guerra en campo enemigo. [5] Estos son de dos clases: a) Los que se han endeudado para conciliar entre dos personas en disputa. Se les entrega lo suficiente para saldar su deuda. b) Los que se han endeudado por motivos personales y no pueden saldar sus deudas. [6] Son las personas que se dedican a elevar la palabra de Dios, como los que luchan por alguna de sus causas o los que divulgan el Islam. [7] Es el viajero que ha perdido sus posesiones durante el viaje y no puede volver a su tierra. A esta persona se le debe dar lo que necesite para poder regresar a su país, aunque sea rico en su tierra.
زکات اختصاص دارد به فقیران و مستمندان و کارگزاران [جمعآوری و توزیعِ] آن و دلجوییشدگان [تازه مسلمان] و برای [آزاد کردن] بردگان و [پرداختِ وام] بدهکاران و [جهادگران] در راهِ الله و [کمک به] درراهماندگان. [این] فریضهای [مقررشده] از جانب الله است؛ و الله دانای حکیم است.
Die Almosen sind nur für die Armen, die Bedürftigen, diejenigen, die damit beschäftigt sind, diejenigen, deren Herzen vertraut gemacht werden sollen, (den Loskauf von) Sklaven, die Verschuldeten, auf Allahs Weg und (für) den Sohn des Weges, als Verpflichtung von Allah. Allah ist Allwissend und Allweise.
赈款只归于贫穷者、赤贫者、管理赈务者、心被团结者、无力赎身者、不能还债者、为主道工作者、途中穷困者;这是安拉的定制。安拉是全知的,是至睿的。