وَلَقَدْ عَهِدْنَآ إِلَىٰٓ ءَادَمَ مِن قَبْلُ فَنَسِىَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُۥ عَزْمًۭا ١١٥
Translations
And We had already taken a promise from Adam before, but he forgot; and We found not in him determination.[863]
[863] To resist temptation.
E com efeito, recomendamos antes, a Adão não comesse da árvore, mas ele o esqueceu, e não encontramos nele, firmeza.
われら*は確かに以前、アーダム*に(楽園の木の実を食べないよう)命じた[1]。そして彼は(そのことを)忘れてしまい、われらは彼に(命令を遵守するだけの)注意(の力)を見出すことがなかった。
[1] この出来事の詳細に関しては、雌牛章30-39、高壁章11-25、夜の旅章61-65、サード章71-83なども参照のこと。預言者*・使徒*の無謬(むびゅう)性については、雌牛章36の訳注を参照。
ہم نے آدم کو پہلے ہی تاکیدی حکم دیا تھا لیکن وه بھول گیا اور ہم نے اس میں کوئی عزم نہیں پایا.[1]
[1] نسیان، (بھول جانا) ہر انسان کی سرشت میں داخل ہے اور ارادے کی کمزوری یعنی فقدان عزم۔ یہ بھی انسانی خصلت میں بالعموم پائی جاتی ہے۔ یہ دونوں کمزوریاں ہی شیطان کے وسوسوں میں پھنس جانے کا باعث بنتی ہیں۔ اگر ان کمزوریوں میں اللہ کے حکم سے بغاوت و سرکشی کا جذبہ اور اللہ کی نافرمانی کا عزم مصمم شامل نہ ہو، تو بھول اور ضعف ارادہ سے ہونے والی غلطی عصمت و کمال نبوت کے منافی نہیں، کیونکہ اس کے بعد انسان فوراً نادم ہو کر اللہ کی بارگاہ میں جھک جاتا اور توبہ و استفغار میں مصروف ہو جاتا ہے۔ (جیسا کہ حضرت آدم (عليه السلام) نے کیا) حضرت آدم (عليه السلام) کو اللہ نے سمجھایا تھا کہ شیطان تیرا اور تیری بیوی کا دشمن ہے، یہ تمہیں جنت سے نہ نکلوا دے گا۔ یہی وہ بات ہے جسے یہاں عہد سے تعبیر کیا گیا ہے۔ آدم (عليه السلام) اس عہد کو بھول گئے اور اللہ تعالٰی نے حضرت آدم (عليه السلام) کو ایک درخت کے قریب جانے یعنی اس سے کچھ کھانے سے منع فرمایا تھا۔ حضرت آدم (عليه السلام) کے دل میں یہ بات تھی کہ وہ اس درخت کے قریب نہیں جائیں گے۔ لیکن جب شیطان نے اللہ کی قسمیں کھا کر انہیں یہ باور کرایا کہ اس کا پھل تو یہ تاثیر رکھتا ہے کہ جو کھا لیتا ہے، اسے زندگی جاوداں اور دائمی بادشاہت مل جاتی ہے۔ تو ارادے پر قائم نہ رہ سکے اور اس فقدان عزم کی وجہ سے شیطانی وسوسے کا شکار ہوگئے۔
Dan sungguh telah Kami pesankan[526] kepada Adam dahulu, tetapi dia lupa, dan Kami tidak dapati kemauan yang kuat padanya.
[526] Pesan Allah ini tersebut dalam surah Al-Baqarah (2) : 35.
Andolsun ki biz daha önce Adem’e vahyetmiştik. Fakat o unuttu, biz onu azimli bulmadık.
Nous avons, bien avant cela, donné un ordre[31] à Adam qu’il finit par transgresser. Nous l’avons trouvé bien peu résolu à se soumettre à Nos commandements.
[31] Celui de ne pas manger des fruits de l’arbre défendu, selon nombre d’exégètes.
115. Ya antes había tomado un compromiso de Adán [de no prestarse a los susurros del demonio], pero lo olvidó [y comió del árbol prohibido], no tuvo una resolución firme.
به راستی، پیش از این با آدم پیمان بستیم [که از میوۀ درخت ممنوعه نخورَد]؛ ولی [پیمانش را] فراموش کرد و عزمی [استوار] در او نیافتیم.
Und Wir hatten bereits zuvor Adam eine Verpflichtung auferlegt. Aber er vergaß (sie), und Wir fanden bei ihm keine Entschlossenheit.
以前,我确已嘱咐阿丹,而他忘记我的嘱咐,我未发现他有任何决心。