فَقُلْنَا يَٰٓـَٔادَمُ إِنَّ هَٰذَا عَدُوٌّۭ لَّكَ وَلِزَوْجِكَ فَلَا يُخْرِجَنَّكُمَا مِنَ ٱلْجَنَّةِ فَتَشْقَىٰٓ ١١٧
Translations
So We said, "O Adam, indeed this is an enemy to you and to your wife. Then let him not remove you from Paradise so you would suffer.
E dissemos: "Ó Adão! Por certo, este é um inimigo para ti e para tua mulher; então, que ele não vos faça sair do Paraíso: serias, pois, infeliz."
われら*は言った。「アーダム*よ、本当にこれ(イブリース*)はあなたと、あなたの妻に対する敵である。ならば、彼に(従って)あなた方二人を楽園[1]から追い出させ、それであなた[2]が不幸になるようではならない。
[1] この「楽園」については、雌牛章35の訳注を参照。 [2] シャイターン*に従えば、アーダム*もその妻ハウワーゥ*も、不幸になることに変わりはない。一説に、ここでアーダム*のみが「不幸になる」と言及されているのは、ここでの「不幸」が「身体的労苦」のことであり、シャイターン*に従って楽園から出たら、それまでは保証されていた衣食住を獲得するために苦労するのは、男性であるアーダム*自身に外ならないため、とされる(アル=クルトゥビー11:253参照)。
تو ہم نے کہا اے آدم! یہ تیرا اور تیری بیوی کا دشمن ہے (خیال رکھنا) ایسا نہ ہو کہ وه تم دونوں کو جنت سے نکلوا دے کہ تو مصیبت میں پڑ جائے.[1]
[1] یہ شقا، محنت ومشقت کے معنی میں ہے، یعنی جنت میں کھانے پینے، لباس اور مسکن جو سہولتیں بغیر کسی محنت کے حاصل ہیں۔ جنت سے نکل جانے کی صورت میں ان چاروں چیزوں کے لئے محنت و مشقت کرنی پڑے گی، جس طرح کہ ہر انسان کو دنیا میں ان بنیادی ضروریات کی فراہمی کے لئے محنت کرنی پڑ رہی ہے۔ علاوہ ازیں صرف آدم (عليه السلام) سے کہا گیا کہ محنت مشقت میں پڑ جائیگا۔ دونوں کو نہیں کہا گیا حالانکہ درخت کا پھل کھانے والے آدم (عليه السلام) و حوا دونوں ہی تھے۔ اس لئے اصل مخاطب آدم ہی تھے۔ نیز بنیادی ضروریات کی فراہمی بھی مرد ہی کی ذمہ داری ہے عورت کی نہیں۔ اللہ تعالٰی نے عورت کو اس محنت و مشقت سے بچا کر گھر کی ملکہ کا اعزاز عطا فرمایا ہے۔ لیکن آج عورت کو یہ ”اعزاز الہٰی“ ”طوق غلامی“ نظر آتا ہے جس سے آزاد ہونے کے لیے وہ بے قرار اور مصروف جہد ہے آہ! اغوائے شیطانی بھی کتنا موثر اور اس کا جال بھی کتنا حسین اور دلفریب ہے۔
Kemudian Kami berfirman, "Wahai Adam! Sungguh ini (Iblis) musuh bagimu dan bagi istrimu, maka sekali-kali jangan sampai dia mengeluarkan kamu berdua dari surga, nanti kamu celaka.
"Ey Âdem! Bu senin ve eşinin düşmanıdır. Sakın sizi cennetten çıkarmasın; sonra bedbaht, mutsuz olursun." dedik.
Nous avions alors dit : « Adam ! Celui-ci est, pour toi et ton épouse, un ennemi. Prends garde qu’il ne vous fasse chasser du Paradis, car tu endurerais alors toutes les peines du monde.
117. Dije: “¡Oh, Adán! Este [el demonio] es un enemigo para ti y para tu esposa; que no los haga expulsar del Paraíso pues serás un desdichado.
گفتیم: «ای آدم، این [ابلیس] دشمنی برای تو و همسرت است؛ مبادا شما را از بهشت بیرون کند که به سختی میافتی.
Da sagten Wir: „O Adam, dieser (da) ist dir und deiner Gattin gewiß ein Feind. Daß er euch beide ja nicht aus dem (Paradies)garten vertreibt! Sonst wirst du unglücklich sein.
我说:“阿丹啊!这确是你的仇敌,也确是你的妻子的仇敌,绝不要让他把你俩逐出乐园,以免你们辛苦。