وَلَوْلَآ إِذْ سَمِعْتُمُوهُ قُلْتُم مَّا يَكُونُ لَنَآ أَن نَّتَكَلَّمَ بِهَٰذَا سُبْحَٰنَكَ هَٰذَا بُهْتَٰنٌ عَظِيمٌۭ ١٦
Translations
And why, when you heard it, did you not say, "It is not for us to speak of this. Exalted are You, [O Allāh]; this is a great slander"?
E que, tão logo a ouvistes, houvésseis dito: "Não nos é admissível falarmos disso. Glorificado sejas! Isto é formidável infâmia!"
どうしてあなた方はそれを聞いた時、(こう)言わなかったのか?「私たちは、このようなことを喋るべきではない。--あなた(アッラー*)に称え*あれーー。これは、この上ない大嘘である」。
تم نے ایسی بات کو سنتے ہی کیوں نہ کہہ دیا کہ ہمیں ایسی بات منھ سے نکالنی بھی ﻻئق نہیں۔ یا اللہ! تو پاک ہے، یہ تو بہت بڑا بہتان ہے اور تہمت ہے.[1]
[1] دوسری بات اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو یہ بتلائی کہ اس بہتان پر انہوں نے ایک گواہ بھی پیش نہیں کیا۔ جب کہ اس کے لئے چار گواہ ضروری تھے، اس کے باوجود تم نے ان بہتان تراشوں کو جھوٹا نہیں کہا۔ یہی وجہ ہے کہ ان آیات کے نزول کے بعد حضرت حسان، مسطح اور حمنہ بنت حجش (رضي الله عنهم) کو حد قذف لگائی گئی۔ (مسند أحمد جلد۔ 6 ، ص 30، ترمذي نمبر 3181 ،ابوداود نمبر 4744 ابن ماجه، نمبر 2567 ) عبداللہ بن ابی کو سزا اس لئے نہیں دی گئی کہ اس کے لئے آخرت کے عذاب عظیم کو ہی کافی سمجھ لیا گیا اور مومنوں کو سزا دے کر دنیا میں ہی پاک کردیا گیا۔ دوسرے، اس کے پیچھے ایک پورا جتھہ تھا، اس کو سزا دینے کی صورت میں کچھ ایسے خطرات تھے کہ جن سے نمٹنا اس وقت مسلمانوں کے لئے مشکل تھا، اس لئے مصلحتاً اسے سزا دینے سے گریز کیا گیا۔ (فتح القدیر)۔ تیسری بات یہ فرمائی گئی ہے کہ اللہ کا فضل واحسان تم پر نہ ہوتا تو تمہارا یہ رویہ کہ تم نے بلا تحقیق اس افواہ کو آگے پھیلانا شروع کردیا۔ عذاب عظیم کا باعث تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ افواہ سازی اور اس کی نشرواشاعت بھی جرم عظیم ہے۔ جس پر انسان عذاب عظیم کا مستحق قرار پا سکتا ہے۔ چوتھی بات، کہ یہ معاملہ براہ راست حرم رسول (صلى الله عليه وسلم) اور ان کی عزت وآبرو کا تھا لیکن تم نے اسے قرار واقعی اہمیت نہیں دی، اور اسے ہلکا سمجھا۔ اس سے بھی یہ سمجھانا مقصود ہے کہ محض آبروریزی ہی بڑا جرم نہیں ہے کہ جس کی حد سو کوڑے یا رجم ہے بلکہ کسی کی عزت وآبرو پر اس طرح حملہ کرنا اور کسی عفت مآب خاندان کی تذلیل واہانت کا سروسامان کرنا بھی اللہ کے نزدیک بہت بڑا گناہ ہے، اسے ہلکا مت سمجھو۔ اسی لئے آگے پھر مزید تاکید کرتے ہوئے کہا کہ تم نے سنتے ہی یہ کیوں نہیں کہا کہ ہمیں ایسی بات منہ سےنکالنی بھی لائق نہیں۔ یہ یقیناً بہتان عظیم ہے۔ اسی لئے امام مالک فرماتے ہیں کہ جو نام نہاد مسلمان حضرت عائشہ (رضی الله عنها) پر بےحیائی کا الزام عائد کرے وہ کافر ہے کیوں کہ وہ اللہ کی اور قرآن کی تکذیب کرتا ہے۔ (ایسرالتفاسیر)۔
Dan mengapa kamu tidak berkata ketika mendengarnya, "Tidak pantas bagi kita membicarakan ini. Mahasuci Engkau, ini adalah kebohongan yang besar."
Bu iftirayı işittiğiniz vakit; “Bu konuda konuşmak bize yakışmaz. Seni tenzih ederiz. Bu büyük bir iftiradır.” demeniz gerekmez miydi?
Si seulement, en l’entendant, vous aviez dit : « Nous n’avons pas à en parler. Gloire à Allah ! Il s’agit là d’une odieuse calomnie ! »
16. Cuando oyeron la acusación tenían que haber dicho: “No debemos hablar de ello. ¡Glorificado seas Señor! Esto es una calumnia grandísima”.
چرا هنگامی که آن را شنیدید نگفتید: «سزاوار نیست که این [سخن وقیح] را بر زبان آوریم. [پروردگارا،] تو منزّهی؛ این دروغ بزرگی است؟»
Und hättet ihr doch, als ihr es hörtet, gesagt: „Es steht uns nicht zu, darüber zu sprechen. Preis sei Dir! Das ist eine gewaltige Verleumdung!
当你们听见谎言的时候,你们为何不说:我们不该说这种话,赞颂安拉,超绝万物!这是重大的污蔑。