إِنَّهُمْ عَنِ ٱلسَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ ٢١٢
Translations
Indeed they, from [its] hearing, are removed.[1063]
[1063] As mentioned in 72:9.
Por certo, eles estão apartados do ouvir o que se fala no céu.
本当に彼らは、(天からクルアーン*を)聞くことから、まさに遠ざけられている者たちなのだから。[1]
[1] アル=ヒジュル章17-18とその訳注、整列者章6-10、王権章5、ジン*章8-9も参照。
بلکہ وه تو سننے سے بھی محروم کردیے گئے ہیں.[1]
[1] ان آیات میں قرآن کی، شیطانی دخل اندازیوں سے،محفوظیت کا بیان ہے۔ ایک تو اس لیے کہ شیاطین کا قرآن لیکر نازل ہونا، ان کے لائق نہیں ہے۔ کیونکہ ان کا مقصد شروفساد اور منکرات کی اشاعت ہے، جب کہ قرآن کا مقصد نیکی کا حکم اور فروغ اور منکرات کا سدباب ہے۔ گویا دونوں ایک دوسرے کی ضد اور باہم منافی ہیں۔ دوسرے، یہ کہ شیاطین اس کی طاقت بھی نہیں رکھتے، تیسرے، نزول قرآن کے وقت شیاطین اس کے سننے سے دور اور محروم رکھے گئے، آسمانوں پر ستاروں کو چوکیدار بنادیاگیا تھا اور جو بھی شیطان اوپر جاتا یہ ستارے اس پر برق خاطف بن کر گرتے اور بھسم کر دیتے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن کو شیاطین سے بچانے کا خصوصی اہتمام فرمایا۔
Sesungguhnya untuk mendengarkannya pun mereka dijauhkan.
Çünkü onlar (vahyedileni) duymaktan kesinlikle uzak tutulmuşlardır.
étant empêchés de l’écouter[16].
[16] Au ciel.
212. A ellos no les permito oír [lo que ordeno a Mis ángeles].
بىتردید، آنان از شنیدن [وحى] منع شدهاند.
Sie sind vom Hören fürwahr ausgeschlossen.
他们确是被驱逐而不得与闻的。