إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ ٱلْمَوْتَىٰ وَلَا تُسْمِعُ ٱلصُّمَّ ٱلدُّعَآءَ إِذَا وَلَّوْا۟ مُدْبِرِينَ ٨٠
Translations
Indeed, you will not make the dead hear, nor will you make the deaf hear the call when they have turned their backs retreating.
Por certo, não podes fazer ouvir aos mortos nem podes fazer ouvir aos surdos a convocação, quando voltam as costas, fugindo.
(使徒*よ、)本当にあなたは呼びかけを、死人らに聞かせることも、聾たちに聞かせることも出来ない。彼らが(あなたから)背を向けて立ち去るのであれば。[1]
[1] この「聾」については、雌牛章7、18、フード*章20,24とその訳注も参照。
بیشک آپ نہ مُردوں کو سنا سکتے ہیں اور نہ بہروں کو اپنی پکار سنا سکتے ہیں[1] ، جبکہ وه پیٹھ پھیرے روگرداں جا رہے ہوں.[2]
[1] یہ ان کافروں کی پروا نہ کرنے اور صرف اللہ پر بھروسہ رکھنے کی دوسری وجہ ہے کہ یہ لوگ مردہ ہیں جو کسی کی بات سن کر فائدہ نہیں اٹھا سکتے یا بہرے ہیں جو سنتے ہیں نہ سمجھتے ہیں اور نہ راہ یاب ہونے والے ہیں۔ گویا کافروں کو مردوں سے تشبیہ دی جن میں حس ہوتی ہے نہ عقل اور بہروں سے، جو وعظ ونصیحت سنتے ہیں نہ دعوت الی اللہ قبول کرتے ہیں۔ [2] یعنی وہ حق سے مکمل طور پر گریزاں اور متنفر ہیں کیونکہ بہرہ آدمی رو در رو بھی کوئی بات نہیں سن پاتا چہ جائیکہ اس وقت سن سکے جب وہ منہ موڑ لے اور پیٹھ پھیرے ہوئے ہو۔ قرآن کریم کی اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سماع موتی کا عقیدہ قرآن کے خلاف ہے۔ مردے کسی کی بات نہیں سن سکتے۔ البتہ اس سے صرف وہ صورتیں مستثنیٰ ہوں گی جہاں سماعت کی صراحت کسی نص سے ثابت ہوگی۔ جیسے حدیث میں آتا ہے کہ مردے کو جب دفنا کر واپس جاتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی آہٹ سنتا ہے (صحيح بخاري نمبر 338 ، صحيح مسلم نمبر 2201) یا جنگ بدر میں کافر مقتولین کو جو قلیب بدر میں پھینک دیئے گئے تھے۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے خطاب فرمایا، جس پر صحابہ نے کہا ”آپ (صلى الله عليه وسلم) بے روح جسموں سے گفتگو فرما رہے ہیں“۔ آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا کہ ”یہ تم سے زیادہ میری بات سن رہے ہیں“۔ یعنی معجزانہ طور پر اللہ تعالیٰ نے آپ کی بات مردہ کافروں کو سنوا دی (صحيح بخاري نمبر 1307)
Sungguh, engkau tidak dapat menjadikan orang yang mati dapat mendengar dan (tidak pula) menjadikan orang yang tuli dapat mendengar seruan, apabila mereka telah berpaling ke belakang.
Sen, ölülere duyuramazsın, arkalarını dönüp gitmekte olan sağırlara da daveti duyuramazsın.
Tu ne saurais te faire entendre des morts, ni faire entendre ton appel à ceux qui te tournent le dos, sourds à la vérité,
80. Tú no puedes hacer que los muertos [de corazón] oigan ni que los sordos [que no quieren oír] escuchen la prédica cuando rechazan la Verdad.
و تو هرگز نمیتوانی مردهدلان را شنوا سازی و [ندای] دعوت [حق را] را به گوش كران برسانى؛ آنگاه که آنان پشت میکنند و روی میگردانند.
Du kannst weder die Toten hören lassen noch die Tauben den Ruf hören lassen, wenn sie den Rücken kehren.
你必定不能使死人听(你讲教)。你必定不能使退避的聋子听你的召唤。