وَيَوْمَ يُنَادِيهِمْ فَيَقُولُ مَاذَآ أَجَبْتُمُ ٱلْمُرْسَلِينَ ٦٥
Translations
And [mention] the Day He will call them and say, "What did you answer the messengers?"
E um dia, Ele os chamará e dirá: "Que respondestes aos Mensageiros?"
かれ(アッラー*)が、彼ら(シルク*の徒)を呼んで、「あなた方は、遣わされた者(使徒*)たちに何と応えたのか?」と仰せられる日のこと(を思い起こさせよ)。[1]
[1] この質問に関しては、食卓章109とその訳注も参照。
اس دن انہیں بلا کر پوچھے گا کہ تم نے نبیوں کو کیا جواب دیا؟[1]
[1] اس سے پہلے کی آیات میں توحید سے متعلق سوال تھا، یہ ندائے ثانی رسالت کے بارے میں ہے، یعنی تمہاری طرف ہم نے رسول بھیجے تھے، تم نے ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا، ان کی دعوت قبول کی تھی؟ جس طرح قبر میں سوال ہوتا ہے، تیرا پیغمبر کون ہے؟ اور تیرا دین کون سا ہے؟ مومن تو صحیح جواب دے دیتا ہے۔ لیکن کافر کہتا ہے هَاهْ هَاهْ لا أَدْرِي مجھے تو کچھ معلوم نہیں، اسی طرح قیامت والے دن انہیں اس سوال کا کوئی جواب نہیں سوجھے گا۔ اسی لیے آگے فرمایا ”ان پر تمام خبریں اندھی ہو جائیں گی“۔ یعنی کوئی دلیل ان کی سمجھ میں نہیں آئے گی جسے وہ پیش کرسکیں۔ یہاں دلائل کو اخبار سے تعبیر کرکے اس طرف اشارہ فرما دیا کہ ان کے باطل عقائد کے لیے حقیقت میں ان کے پاس کوئی دلیل ہے ہی نہیں، صرف قصص وحکایات ہیں۔ جیسے آج بھی قبر پرستوں کے پاس من گھڑت کراماتی قصوں کے سوا کچھ نہیں۔
Dan (Ingatlah) pada hari ketika Dia (Allah) menyeru mereka, dan berfirman, "Apakah jawabanmu terhadap para rasul?"
O gün Allah, onlara seslenerek: “Peygamberlere ne cevap verdiniz?” der.
Ce Jour-là, Il les appellera et leur dira : « Qu’avez-vous répondu aux Messagers ? »
65. El día que [Dios] los convoque y les pregunte: “¿Cuál fue su respuesta al llamado de los Mensajeros?”
و روزی که [الله] به آنان ندا میدهد و میفرماید: «به [دعوتِ] پیامبران چه پاسخی دادید؟»
Und am Tag, da Er ihnen zurufen wird und sagt: „Was habt ihr den Gesandten geantwortet?
在那日,安拉将召唤他们说:“你们所用以答复使者们的是什么呢?”